قائد اعظمؒ اور محمد اسد

قائد اعظمؒ اور محمد اسد

  

علامہ محمد اقبال نے خطبہ الہ آباد (1931ئ) میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا تصور پیش کر دیا تھااور اس کے امکانات پر اہل فکر و نظر اپنی آراءکا اظہار کر رہے تھے۔ انہی میں آسٹریا کے نو مسلم محمد اسد بھی شامل تھے۔ وہ 1932ءکے اواخر میں سعودی عرب سے برصغیر آئے ، وہ خطبہ اقبال کے مندرجات سے بخوبی آگاہ تھے، لیکن جب وہ ریٹائرڈ سیشن جج چودھری الٰہی بخش کے گھر پر اقبال سے پہلی بار ملے (1934ئ) اور پھر آئندہ چار سال اقبال منزل میں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا، تو ان میں گفتگوﺅں کا محور و مرکز یہی تھا کہ اس تصور کو حقیقت کا روپ اختیار کرنے میں کتنا عرصہ درکار ہو گا اور اگر مستقبل قریب یا بعید میں یہ معجزہ رونما ہوگیا، تو اس کے خد و خال کیا ہوں گے۔ اقبال کے اس پُرجوش پیروکار کو ان مسائل کا بھی پورا احساس تھا جن سے اس نوزائیدہ مملکت کو نبرد آزما ہونا تھا۔ اقبال کی وفات (1938ئ) سے ان مباحث کا سلسلہ منقطع ہو گیا، لیکن محمد اسد نے اپنی بقیہ زندگی ایسی ہی ریاست کے قیام کو اپنا مقصد بنا لیا۔

 اگلے برس یعنی 1939ءمیں دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی اور ”غیرملکی دشمن“ کی حیثیت سے اسے راولپنڈی سے گرفتار کر لیا گیا اور پھر تقریباً پانچ برس مختلف کیمپوں میں نظر بندی میں گزارے۔ جنگ کے اختتام (1945ئ) پر رہائی حاصل ہوئی اور وہ پونا سے سیدھے جمال پور (پٹھان کوٹ) پہنچے جہاں ان کا عرفات پریس، کتب خانہ اور مسودات بحفاظت پڑے تھے۔ ان کے ایام اسیری میں تحریکِ پاکستان کئی منزلیں طے کر چکی تھی اور اب منزل کے واضح آثار دکھائی دینے لگے تھے۔ محمد اسد نے ان حالات کے تناظر میں یہ سوچنا شروع کر دیا کہ اب وہ کیسے اس تحریک میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں، چنانچہ انہوں نے اس تحریک کے فکری، نظری اور دینی پہلوﺅں کو اجاگر کرنے کا تہیہ کیااور اپنے اس عزم صمیم کو عملی صورت دینے کے لیے اپنے ذاتی وسائل سے سہ ماہی انگریزی مجلہ کا ڈلہوزی (موجودہ مدھیہ پردیش ، بھارت) سے اجراءکیا اور اس کا نام ”عرفات“ رکھا۔

بقول اسد ”دراصل یہ رسالہ آزادی کے متوالوں کو ابھارنے والی آواز تھی۔ میں تو یہ آواز سن چکا تھا اور اب یہ عام لوگوں تک پہنچانا چاہتا تھا۔“ اسی مجلہ کے پہلے شمارہ (بابت ستمبر 1946ئ) کے ابتدائیہ میں وہ رقمطراز ہیں: ”یہ میدان عرفات ہے، جہاں ہر سال مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک جیسے سفید احرام میں ملبوس، امت واحدہ کی حقیقی علامت، ایک ایسی جماعت جس میں رنگ، قوم اور سماجی حیثیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ فرقہ وارانہ یا کسی ”طبقہ¿ خیال“ سے مخصوص نظریاتی اختلاف بھی نہیں۔ دیکھاجائے تو یہ تمام مسلمان ہیں، کسی استعدادی صفت کے بغیر۔ دوم یہ کہ میدان عرفات میں حجاج کرام کے باہمی میل جول کو حضور اکرم نے پسند فرمایا ہے، کیونکہ اس کے بعد روزِ قیامت کو اس سے بھی بڑے اجتماع میں ملاقات ہوگی۔ اس وقت ہر کوئی اپنے نامہ اعمال کے فیصلہ کا منتظر ہو گا اور اس دوران میں اپنی دنیاوی زندگی کو پیش کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔ دورِ حاضر کے مسلمانوں کو اس روز محشر کو یاد دلانا ضروری ہے، کیونکہ انہیں دوسروں کی نسبت احتساب ذات کی زیادہ ضرورت ہے۔سوم یہ کہ میدان عرفات ہی میں حجة الوداع کے موقع پر حضور اکرم پر ان قرآنی آیات کا نزول ہوا تھا ”آج میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا“ (3:5)۔ یہ نصِ قرآنی ہمیں یہ بات یاد دلاتی رہتی ہے کہ ہمیں تفہیم دین کے لیے قرآن اور سنت کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔“

مدیر روزنامہ ”انقلاب“ کی رائے میں ”اس رسالے کامقصد یہ ہوگا کہ اصول اسلام کو ان کی صحیح روشنی میں پیش کیا جائے اور مسلمانوں کے زوال و انحطاط کے زمانے میں شریعت اسلامی کی تفسیر و تشریح پر جو غبار جم چکا ہے، اس سے اس کو پاک کر کے حال و مستقبل میں اسے مسلمانوں کی حیات قومی کا ایک نظام بنایاجائے جو مسلمانوں کی ابدیت اور اس کے حقائق کی جاودانی حےثیت کے قائل ہیں۔“ (17 جون 1946ئ)

محمد اسد کی نظر میں عرفات دنیائے اسلام کے اتحاد کی علامت ہے، جس نے انہیں جمال الدین افغانی یا بتوسط اقبال شدید متاثر کیا۔ اس نام سے ان کی گہری ذہنی، فکری اور جذباتی وابستگی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی تصانیف کی اشاعت کے لیے نجی ادارہ قائم کیا، تو ان کی اولیں انگریزی کتاب ”اسلام دوراہے پر“ (1934ئ) اور اقبال کی فرمائش پر ”صحیح بخاری“ کے انگریزی ترجمہ و تشریح کے ابتدائی پانچ اجزاءاسی دارے کی جانب سے منظر عام پر آئے (1935ءیا بعد)۔ حتی کہ تشکیل پاکستان کے فوراً بعد جب حکومت پنجاب نے انہیں محکمہ احیائے ملتِ اسلامیہ کا سربراہ مقرر کیا، تو اس کی جانب سے جس رسالے کا ایک ہی شمارہ طبع ہوا(اردو/انگریزی 1948ئ) اس کا نام بھی ”عرفات“ ہی رکھاگیا۔ بعد میں یہ نام ترک کر دیا گیا اور اس کی بجائے اسد کی تمام کتب یا نئی طباعتیں نئے قائم کردہ اشاعت گھر ”دارالجبرالٹر“ کے تحت شائع ہوئیں۔

محمد اسد 1932ءسے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے تک برصغیر ہی میں مقیم رہے (زیادہ تر لاہور، دہلی اور سرینگر میں)۔ تشکیل پاکستان کے فوراً بعد پنجاب کے پہلے وزیر اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ (1906ئ-1969ئ) نے Directorate of Islamic Reconstruction(محکمہ احیاءملت اسلامیہ) قائم کیا جس کا مقصدصحیح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کی معاشرتی زندگی اور فکر کی تعمیر نو تھا۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے دنیائے اسلام میں اس پہلے ادارے کا محمد اسد کو سربراہ مقررکیا۔ ابھی اس ادارے نے چند منصوبوں پر کام کا آغاز کیا ہی تھا کہ محمد اسد کو لاہور سے کراچی جانا پڑا۔ حیرت ہے کہ برصغیر اور پاکستان میں مجموعی طور پرتقریباً بیس سال مسلسل قیام کے دوران میں محمد اسد کی کہیں بھی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ملتا، جبکہ قائد اعظم کے قریب ترین رفقاءاور تحریک پاکستان کے ممتاز رہنماﺅں سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔ ان میں نواب آف ممدوٹ تو محمداسد کی صلاحیتوں کے معترف تھے اور انہوں نے استفادے کے لیے انہیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان بھی انہیں برسوں سے جانتے تھے، چنانچہ جنوری 1948ءمیں انہی کے کہنے پر محمد اسدکولاہور سے کراچی بلا کر وزارت خارجہ کے شعبہ امور متعلقہ مشرق وسطیٰ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

 محمداسد کی معروف ترین روحانی رودادِ سفر ”شاہراہ مکہ“ ، جو ابتدا سے 1932ءکے حالات پرمشتمل ہے، کے حصہ دوم (1932ءتا 1992ئ) میں بھی چند مقامات پر قائد اعظم کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن کہیں ذاتی تعلق کا حوالہ تک نہیں دیا گیا۔ راقم نے اس دوسرے حصے کے انگریزی متن اور اس کے اردو ترجمہ کو مع حواشی الگ الگ شائع کرا دیا ہے۔ مزید برآں محمداسد نے ڈلہوزی سے جاری کردہ مجلہ ”عرفات“ کے نو شماروں (ستمبر 1946ءتا جولائی 1947ئ) میں نئی وجود میں آنے والی اسلامی مملکت کے معاشرتی، سیاسی اور آئینی پہلوﺅں پر اظہار خیال کیا ہے، لیکن ان کی یہ تمام تحریریں قائد اعظم کے ذکر سے خالی ہیں۔ اس کے برعکس قائد اعظم کے مکتوبات یا نجی کاغذات کے جو مجموعے اب تک شائع ہوئے ہیں، ان میں بھی محمد اسد کا نام دکھائی نہیںدیتا۔ برسوں کی تلاش کے باوجود متذکرہ دونوں اصحاب کی باہمی ملاقات کا کوئی ٹھوس ثبوت تو نہ مل سکا، لیکن اس کے باوجود ذہن کے کونے کھدرے میں یہ خیال جاگزیں رہا کہ محمد اسد کے تحریک پاکستان کے تقریباً سبھی صف اول کے رہنماﺅں، مسلم لیگ کے سرگرم عہدیداروں اور بارسوخ مسلمانوں سے ان کے تعلقات رہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے وہ کبھی قائد اعظم سے نہ ملے ہوں۔ بالآخر محمد اسد کے ایک غیر مطبوعہ مکتوب بنام قائد اعظم اور اس کے عریضہ نے یہ مسئلہ حل کر دیا اور ان دونوں شخصیات کے رابطے کا ناقابل تردید ثبوت سامنے آ گیا۔ اس وقت یہ دونوںانگریزی مراسلات سید شمس الحسن کے نجی کاغذات میںمحفوظ ہیں۔

سید شمس الحسن (1892ء-1981ئ) آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری رہے۔ بقول قائد اعظم ”مسلم لیگ کیا ہے؟ میں ، شمس الحسن اور ان کا ٹائپ رائٹر“ ۔ قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم نے انہیں اپنی رہائش گاہ (دہلی) پر بلوایا اور اپنے ذاتی خطوط، مسلم لیگ کا ریکارڈ اور دیگر دستاویزات ان کے حوالے کر دیں، جن کی تعداد تقریباً دس ہزار بتائی جاتی ہے۔ سید صاحب نے انہیں نہایت سلیقے سے 98جلدوں میں مرتب کیا۔ یہی جلدیں اب شمس الحسن کولیکشن کہلاتی ہیں۔ 1958ءکے مارشل لاءمیں مسلم لیگ کا تمام ریکارڈ سربمہر کر دیاگیا، جو بعد میں انہی کی کوششوں سے واگذار ہوا، مگر اسی دوران میں اس کا بڑا حصہ ضائع ہوچکا تھا۔ اس کولیکشن میں محفوظ محمد اسد کا تحریر کردہ خط اس وقت لکھا گیا، جب ڈلہوزی سے مجلہ ”عرفات“ کا پہلا شمارہ شائع ہوا(ستمبر1946ئ)۔ اس کی ترسیل کے محرک بھی نواب آف ممدوٹ ہی تھے۔ اس میں مکتوب نویس مطلع کرتے ہیں کہ قائداعظم سے ان کی پہلی ملاقات جنگ عظےم دوم کے آغاز (1939ئ) سے پہلے دہلی میں ہوئی تھی۔ سطور ذیل میں محمد اسد کے اس خط بنام قائد اعظم کے جوابی خط کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:

ڈلہوزی (پنجاب)

ستمبر 6، 1946ئ

محترم قائداعظم

میں آپ کی خدمت میں اپنے ماہنامہ ”عرفات“ کا پہلا شمارہ ارسال کر رہا ہوں۔ مجھے امید ہے، آپ اس کے مضامین کا دلچسپی سے مطالعہ فرمائیں گے۔ جیسا کہ اس مجلہ کے ذیلی عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ”مسلم فکر کا تنقیدی جائزہ“ کے لیے مختص ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے ذہن کو اندھی اور زوال پذیر روایات کے بندھنوں سے آزاد کرانا ہے۔ گذشتہ چند صدیوں سے مسلمان اپنے آباﺅ اجداد کے تصورات بالخصوص امور شریعت کے دہرانے کے اور کچھ نہیں کر رہے۔ مجھے یقین ہے کہ سیاسی اعتبار سے ہماری اُمہ کا احیائ، ذہنی احیاءکے بغیر ممکن ہی نہیں اور اس مقصد کے حصول کی خاطر میں نے ”عرفات“ کا اجراءکیا ہے۔

دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے چند سال قبل مجھے دہلی میں آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، لیکن اتنے سال گزرنے کے بعد شاید آپ کو اس ملاقات کا علم بھی نہ ہو۔ میرا آبائی تعلق آسٹریا سے ہے۔ 1926ءمیں اسلام قبول کیا اور اب گذشتہ چودہ سال سے ہندوستان میں مقیم ہوں۔ میں اب تک اپنی بساط کے مطابق جو خدمت کر سکا ہوں، اس سے یہاں کے لوگ واقف ہیں۔ اس ضمن میں خان افتخار حسین خان، جو آپ کو یہ خط لکھنے کے محرک بھی ہیں، میرے متعلق مزید کچھ بتا سکیں گے ، فی الحال میں آپ کا بے حد ممنون ہوںگا اگر آپ ”عرفات“ کے اس پہلے شمارے کے مضامین کا بغور مطالعہ کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں اور ان کے بارے میں اپنی رائے سے نوازیں اور ساتھ ہی اس رائے کو شائع کروانے کی اجازت بھی ۔ میرے لیے آپ کی رائے تقویت کا باعث ہو گی۔ مزید یہ کہ میرے اس کام میں کسی قسم کی بیرونی مالی اعانت شامل نہیں اور نہ میری یہ خواہش ہے۔ مجھے آپ کی ان تمام مصروفیات کا علم ہے، جو آپ مسلمانوں کی تحریک آزادی کے سلسلہ میں کر رہے ہیں۔ میں آپ کا تہہ دل سے شکر گزارہوں گا، اگر آپ براہ مہربانی اس رسالے کے بارے میں اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے۔

پیشگی شکریہ کے ساتھ

٭٭٭

10نومبر 1946ئ

آپ کا ارسال کردہ ”عرفات“ (بابت ستمبر) موصول ہوا۔ اس کے لئے شکریہ۔

میں لازماً اس کا دلچسپی سے مطالعہ کروں گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ متعدد دیگر حالات و واقعات کا اتنا شدید دباﺅ ہے کہ میرے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ مطبوعات کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کر سکوں۔ تاہم آپ کا شکریہ کہ آپ مسلمانوںکی بہتری کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں۔

--------------

قائد اعظم کے نجی کاغذات، تقاریر، بیانات اور مکاتیب کے بیشتر مجموعی منظر عام پر آ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان سے متعلقہ غیر مطبوعہ دستاویزات کی خاصی بڑی تعداد اسلام آباد اور کراچی کے مختلف اداروں میں محفوظ ہے۔ ممکن ہے، سید شمس الحسن کولیکشن یا ایسے کسی اور نجی ذخیرہ میں سے قائد اعظم اور محمد اسد کے مابین خط کتابت کے مزید شواہد دستیاب ہو جائیں۔ درج بالا دونوں خطوط کا عکس محبی ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب، سینئر جوائنٹ سیکرٹری (فنانس ڈویژن، حکومت پاکستان) نے فراہم کیا، جس کے لیے راقم ان کا ممنون ہے۔ امید ہے، ملک صاحب جیسے تحقیق و تلاش سے گہری وابستگی رکھنے والے اصحاب یونہی تعاون فرماتے رہےں گے۔

مزید :

کالم -