صوبہ پنجاب کی گندم کی کوالٹی سب سے بہتر ہے ‘ڈی جی ایگری کلچر ریسرچ

صوبہ پنجاب کی گندم کی کوالٹی سب سے بہتر ہے ‘ڈی جی ایگری کلچر ریسرچ

لاہور(کامرس رپورٹر)گندم ہمارے ملک کی سب سے بڑی فصل ہے اور صوبہ پنجاب کی گندم کی کوالٹی دوسرے علاقوں کے مقابلہ میں سب سے بہتر ہے ۔پاکستان میں فوڈ سیکورٹی کے پیش نظر گندم کی فصل کو بہت اور نمایاں حیثیت حاصل ہے کیونکہ ہماری شہری و دیہی آباد ی کی غذائی ضروریات کا 75فیصد گندم اور اس کی مصنوعات سے پورا ہوتا ہے ۔حکومت پنجاب نے امسال گندم کا پیداواری ہدف 1کروڑ 95لاکھ ٹن اور اوسط پیداوار 31.66من فی ایکڑ مقرر کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عابد محمودڈائریکٹر جنرل ایگری کلچر ریسرچ پنجاب نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ گندم کے زیر انتظام گندم کی اہم بیماری کنگی کی پہچان اور اس کے انسداد بارے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کے شرکاء کو سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر محمد امتیاز کنٹری نمائندہ سمٹ ، ڈاکٹر مخدوم حسین ڈائریکٹر گندم اور آصف علی ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن فیصل آباد سمیت صوبہ پنجاب کے مختلف اضلاع کے محکمہ زراعت توسیع کے 34 آفیسران نے اس تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی۔ڈاکٹر عابد محمود نے بتایا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں گندم کی کنگی کے انسداد کے لیے کیمیائی زہروں کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں زرعی تحقیق کے ذریعے اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت کی حامل اقسام تیار کی جارہی ہیں ۔ڈاکٹر مخدوم حسین نے بتایا کہ گندم کی فصل پر حملہ آور ہونے والی بیماریوں میں کنگی نہاہت اہم اور خطر ناک بیماری ہے اور اس کی تین اقسام بھوری کنگی ، زرد کنگی اور سیاہ کنگی گندم کے پتوں ،تنوں اور سٹوں پر حملہ آور ہو کر پیداوار میں50فیصد تک کمی کا باعث بنتی ہیں۔10تا20ڈگر ی سینٹی گریڈ اور ہوا میں زیادہ نمی پر یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہیں ۔گزشتہ سالوں میں پنجاب کے شمالی اور وسطی اضلاع نارووال ، سیالکوٹ ، گوجرانوالہ ، لاہور، شیخوپورہ اور فیصل آبادکے علاوہ بارانی علاقوں اسلام آباد ، راولپنڈی ، چکوال ،فتح جنگ اور حسن ابدال میں زرد کنگی کا حملہ زیادہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیاہ کنگی کی ایک خطر ناک ریس یو جی 99یوگنڈا سے شروع ہو کر یمن کے راستے ایران تک پہنچ گئی ہے ۔ پاکستان میں کاشتہ گندم کی فصل پر اس خطر ناک بیماری کے حملہ کا خطرہ موجود ہے ۔ادارہ کی تیار کردہ گندم کی نئی قسم گلیکسی 2015میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت بہت زیادہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کنگی کی تمام اقسام کی روک تھام کے لیے قوت مدافعت کی حامل نئی اقسام کاشت کریں۔وسیع وعریض رقبہ پر ایک قسم کاشت کرنے کی بجائے 4سے 5مختلف نئی اقسام کاشت کی جائیں۔نومبر میں اگیتی کاشتہ فصل پر دسمبر میں کاشتہ پچھیتی فصل کی نسبت کنگی کا حملہ بہت کم نوٹ کیا گیا ہے ۔مکی جاوید ماہر گندم نے شرکاء کو لیبارٹری اور تجرباتی فیلڈ میں ان بیماریوں کے خلاف ہونے والی تحقیق بارے تفصیلی بریفنگ دی اور کھیت میں ان بیماریوں سے متاثرہ پودوں کا مشاہدہ بھی کروایا۔ تقریب کے آخر میں ڈاکٹر عابد محمود اور ڈاکٹر مخدوم حسین نے شرکاء میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے۔

مزید : کامرس