پروفیسر فتح محمد ملک کا خلیفہ عبدالحکیم میموریل لیکچر

پروفیسر فتح محمد ملک کا خلیفہ عبدالحکیم میموریل لیکچر
پروفیسر فتح محمد ملک کا خلیفہ عبدالحکیم میموریل لیکچر

  

محترمہ ڈاکٹر رفیعہ حسن کا خدا بھلا کرے، ہر سال اپنے والد مکرم ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم و مغفور کی یاد میں اہلِ علم کو جمع کرتی اور کسی صاحبِ فکر شخصیت کو دعوتِ خطاب دیتی ہیں۔ یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔ امسال جناب پروفیسر فتح محمد ملک کو لیکچر کے لئے بلایا گیا تھا،مگر وہ کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ البتہ مقالہ انہوں نے بھجوا دیا تھا۔ 2مارچ کی سہ پہر کو اس علمی و فکری نشست کا اہتمام جو قائداعظم لائبریری میں ادارہ ثقافت اسلامیہ کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ نقابت کے فرائض ہمارے فلسفی دوست جناب قاضی جاوید نے ادا کیے۔پروفیسر فتح محمد ملک کا مقالہ بعنوان’’ تصورِ پاکستان کا نت نیا بیانیہ‘‘ اردو کے ممتاز نقاد پروفیسر ڈاکٹر امجد طفیل نے پڑھ کر سُنایا اور خوب سُنایا۔ماشا اللہ ش ق کی ادائیگی بھی درست اور آواز کا والیوم بھی فردوس گوش۔ یہ تو ممکن نہ تھا کہ پروفیسر ملک کی تحریر ہو اور اس میں سیاست کا تڑکا نہ لگا ہو۔ یہ تڑکے ہی کا اعجاز تھا کہ کہیں کہیں امجد طفیل کے لہجے میں گھن گرج کی کیفیت پیدا ہو جاتی رہی۔ اسی نے مقالے کے آخری جملے تک حاضرین کو ہمہ تن گوش رکھا۔

ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم (1959-1893ء) فکرو فلسفہ میں کیا مقام رکھتے تھے، اس کا انداز اس واقعہ سے لگا لیجئے کہ برطانوی دور میں جب عثمانیہ یونیورسٹی ریاست حیدر آباد (دکن) میں شعبہ فلسفہ قائم کیا گیا تو منتظمین نے اس کی صدارت کے لئے علامہ محمد اقبال ؒ کو دعوت دی۔ علامہ صاحب نے انہیں لکھا کہ مَیں اس منصب کے لئے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا نام پیش کرتا ہوں، وہ بھی اقبال ہی ہیں۔ اتفاق دیکھئے کہ خلیفہ صاحب اور علامہ اقبال ؒ ، ہر دو ہستیوں کی فکر کو مولانا جلال الدین رومی ؒ نے جلا بخشی تھی۔ خلیفہ صاحب نے رومی کی مابعد الطبیعات پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اس کے علاوہ ان کی دو کتابیں ’’تشبیہات رومی‘‘،’’ فکر رومی‘‘ فکرو فلسفہ کے کئی نئے اَبعاد سامنے لاتی ہیں۔

پروفیسر فتح محمد ملک کا موقف مقالے کے ذریعے یوں سامنے آیا کہ لیاقت علی خان ؒ کی شہادت تک تصورِ پاکستان کا بیانیہ بانیانِ پاکستان کے تصورات ہی کا جیتا جاگتا عکس تھا۔ دورۂ امریکہ کے دوران لیاقت علی خان نے اپنی تقاریر کے ذریعے اِسی حقیقت کو اُجاگر کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’دُنیا اس وقت دو کیمپوں (سرمایہ داری اور اشتراکیت) میں بٹی ہوئی ہے، مگر پاکستان ایک تیسرے راستے پر گامزن ہے، جو اسلامی سوشلزم کا ہے‘‘۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ چل پڑی۔ امریکی انتظامیہ ’’سوشلزم‘‘ کی اصطلاح سننے کی روا دار نہ تھی، چنانچہ ہر کہیں لیاقت سے اس حوالے سے بہت سوالات ہوئے۔ انہی ایام میں خلیفہ صاحب کی کتاب اسلام اینڈ کمیونزم بھی منظر عام پر آئی، جب لیاقت کو کرائے کے قاتل سید اکبر نے گولی کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سُلا دیا۔ ان کی شہادت کیا ہوئی، پاکستان کے اصل تصور ہی کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ امریکہ کی پیروی اس حد تک ہونے لگی کہ اونٹوں کے گلے میں تھینک یو امریکہ کی تختیاں لٹکائی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب ’’مِتھ آف انڈی پینڈنس‘‘ میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں بھی امریکہ کی صوابدید شامل ہوتی تھی۔

مزید المیہ یہ ہوا کہ رُوسی اشتراکیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے علماء کرام کو استعمال کیا گیا، جس تیسرے راستے کو اختیار کرنے کا لیاقت علی خان نے اعلان کیا تھا، اس کی جگہ کھلم کھلا سرمایہ داری کی سرپرستی کی گئی، نتیجہ معلوم کہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر محبوب الحق نے دھماکہ خیز بیان دیا کہ اس وقت مُلک کی 80فیصد دولت بائیس گھرانوں میں سمٹ گئی ہے، چنانچہ ایوب خان نے تیسرے پانچ سالہ منصوبے کے دیباچے میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اقتصادی اصلاحات کے لئے اسلامی سوشلزم کو رہنما بنائیں گے۔ اس پر ہمارا سرمایہ دار طبقہ مشتعل ہو گیا۔ چیئرمین نیشنل پریس ٹرسٹ اے کے سُومار نے اسلامی سوشلزم کو فراڈ قرار دیا۔ جواب میں محمد صفدر میر، پروفیسر محمد عثمان، حنیف رامے اور غلام احمد پرویز نے اسلامی سوشلزم کی حمایت میں مقالے لکھے۔ ماہنامہ ’’نصرت‘‘ کا اسلامی سوشلزم نمبر شائع ہوا۔ ردعمل کے طور پر جماعت اسلامی کے ترجمان رسالے ’’ چراغ راہ‘‘ نے سوشلزم نمبر شائع کیا۔ اس پر مستزاد113علماء کا فتویٰ، جس میں سوشلزم کو کفر قرار دیا گیا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، جنہوں نے اقتصادی اصلاح کا کام وہاں سے شروع کیا جہاں لیاقت علی چھوڑ گئے تھے۔

بھٹو نے آزاد معیشت کے ساتھ ساتھ آزاد خارجہ پالیسی کی بازیافت کے لئے سٹیو، سنیٹو کے معاہدوں سے پاکستان کی جان چھڑائی۔ نتیجتاً وہ بھی لیاقت ہی کی طرح راستے سے ہٹا دیئے گئے۔ جنرل ضیاء الحق نے شریعت کے نام پر اپنی آمریت اور مُلائیت کو مسلط کئے رکھا۔اسی پر فیض نے ’’تین آوازیں‘‘نظم لکھی۔

جشن ہے ماتمِ اُمید کا آؤ لوگو

مرگِ انبوہ کا تہوار مناؤ لوگو

ساری آنکھوں کو تہ تیغ کیا ہے مَیں نے

سارے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا ہے مَیں نے

اب نہ لگے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا

فصلِ گُل آئے گی نمرود کے انکار لیے

میرا مسلک بھی نیا، راہِ طریقت بھی نئی

اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چُومیں گے

سروقد، مٹی کے بونوں کے قدم چُومیں گے

فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا

عرش پر آج ہر اک بابُِ دعا بند ہوا

پندرہ بیس سال کے اندر اندر فیض کے اندیشہ ہائے دور و دراز بھیانک حقیقت کا روپ دھار گئے۔ علامہ اقبال ؒ کا خواب تو یہ تھا کہ پاکستان میں اسلام پر سے عرب ملوکیت کی چھاپ اتار کر اس کی حقیقی رُوح کی بازیافت اور پھر اس روح کو روحِ عصر سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے اس صورت حال کو ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا، چنانچہ وہ ہمارے نظریاتی اُفق کو تابناک بنانے کا کارنامہ سرانجام دینے میں جس انہماک اور جس تسلسل کے ساتھ کوشاں رہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ان کی کتاب ’’آئیڈیالوجی آف اسلام‘‘ اُن اسلام پسندوں کی سرمایہ پرست اسلامیت کا انتہائی موثر جواب ہے جو سرد جنگ میں امریکہ نواز اسلام ایجاد کرنے میں مصروف تھے۔ ان کی کتاب ’’فکر اقبال‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔افسوس کہ ان کے افکار سے ہماری حکومتوں نے اغماض برتا اور ہمیں یہ دن دیکھنے پڑے ہیں کہ امن، سکون، محبت،انصاف اور روا داری کی اقدار بے وقعت اور بے قیمت ٹھہر گئی ہیں۔

پروفیسر فتح محمد ملک اگر مقالہ خود پیش کرتے تو ہم ان سے ضرور پوچھتے کہ ان کے محبوب قائد بھٹو صاحب چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نہایت طاقتور منصب سنبھال کر بھی جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کو کیوں نہ ختم کر سکے؟ ان کے راستے میںآخر کیا رکاوٹ تھی؟ کیا انہوں نے پاکستان قومی اتحاد کی جماعتوں سے مذاکرات کو غیر معمولی طول دے کر خود ہی مارشل لاء کا راستہ ہموار نہیں کیا تھا؟ دانشور کے لئے تو روا نہیں ہوتا کہ وہ ایک رُخی تصویر پیش کرے!

مزید : کالم