توانائی کا بحران اور کالا باغ ڈیم

توانائی کا بحران اور کالا باغ ڈیم

مکرمی! اگر سابق حکمران کالا باغ ڈیم بننے دیتے تو آج پاکستان میں بجلی اور پانی کے بحران پیدا نہ ہوتے۔ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ فنی نہیں ،سیاسی بنا دیا گیا ہے جس کا حل بھی بالآخر سیاسی قیادت ہی کو نکالنا ہے۔ انرجی کے بحران نے ساری قوم کا جینا حرام اور معیشت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ حکومت کو اپنی نا اہلی یا مس مینجمنٹ کا اعتراف کرنا چاہئے۔ ایسے حالات میں پانی کی قلت کا بحران تو سب کچھ تباہ کر دے گا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے این آر او کر دیا، مگر کالا باغ ڈیم نہ بنا سکے۔ غیروں کی محتاجی سے چھٹکارا پانے کی خاطر اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے ہمیں ہر حال میں قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے مطالبے کا خیال خاص طور پر اپوزیشن جماعت کو اس وقت آتا ہے، جب اقتدار سے کوسوں دور ہو اور جب اقتدار میں ہو تو ایک ہی لفظ سامنے آتا ہے کہ قومی و ملکی مفاد کو اس ڈیم کی تعمیر سے خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا۔ اقتدار سے پہلے کالا باغ ڈیم کو پاکستان کی لائف لائن قرار دیتی ہے۔اقتدار کے بعد مکمل خاموشی،اسی دورنگی، منافقت، مفاہمت کی سیاست سے قومی مفاد کا قتل عام ہورہا ہے، جو قوم کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ توانائی بحران کی وجہ سے انڈسٹری اور روزگار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ،جبکہ دوسری طرف مستقبل قریب میں بجلی کے بحران کے علاوہ پانی کی قلت کا مسئلہ خطرہ بن کر منڈلا رہا ہے۔ حکومت کو توانائی اور پانی کی قلت کے ممکنہ خدشات سے بچاؤ کے لئے طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔(ابو سعدیہ سید جاوید علی شاہ، سیالکوٹ)

مزید : اداریہ