طلاقیں اور بچے؟

طلاقیں اور بچے؟

عدالتوں میں میاں بیوی کے تنازعے اور بچوں کی تحویل کے مقدمات آتے ہی رہتے ہیں اور فیصلے قانون کے مطابق ہو جاتے ہیں عموماً نا بالغ بچوں کی تحویل ماں کا حق بنتا ہے۔ حال ہی میں عدالت عالیہ میں ایک کیس کے حوالے سے عدالت کے باہر اور اندر جو کچھ ہوا اس نے دِلوں کو تو ملول کیا ہی، لیکن معاشرے کی خرابی کا بھی اظہار کر دیا، میاں بیوی میں ناچاقی کے بعد بیوی میکے چلی گئی اور بچے باپ کے پاس تھے۔ عدالت میں معاملہ آیا تو قانون کے مطابق بچے ماں کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی، بچوں نے نہ صرف انکار کیا، بلکہ رو رو کر آسمان سر پر اُٹھا لیا وہ ماں کے ساتھ نہیں جانا چاہتے تھے۔عدالت نے حتمی فیصلہ سنانے سے قبل فریقین کو موقع دیا کہ وہ بچوں کی خاطر مصالحت کر لیں اور تاریخ دے دی، لیکن صلح پھر بھی نہ ہو سکی۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ اُسے زبانی طلاق دے دی گئی تھی، فیصلہ قانون کے مطابق ہوا، بچے والدہ کی تحویل میں دینے کا حکم جاری ہوا اور پھر وہی سب کچھ ہوا جو پہلے بھی ہوا تھا۔ بچوں نے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کیا، بار بار والد کے پاس جاتے وہ بھی رو رہا تھا اور بچے بھی چلا رہے تھے، لیکن ہوا تو وہی جو قانون کا فیصلہ تھا، آنسو کام نہ آئے۔یہ ایک کیس نہیں، فیملی کورٹس میں ایسے بہت سے مقدمات زیر سماعت ہیں، ماں باپ کی ناچاقی میں بچے ویران ہو رہے ہیں، ان کی منت سماجت بھی کام نہیں آتی، ماضی اچھا تھا، اس میں یہ مغربی برائیاں نہیں آئی تھیں جو آج ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرانے والے کم اور آگ لگانے والے زیادہ ہوتے ہیں، پہلے مصالحتی عدالتیں موجود تھیں کہ بلدیاتی نظام رائج تھا۔ اب یہ سلسلہ ختم ہوا ہے۔ اگر یہ ادارے ہوں تو شاید جدائی والی نوبت کم ہو جائے اور مصالحت زیادہ ہو کہ مصالحتی عدالت میں عزیز و اقارب اور باعزث محلے دار بھی شامل ہوتے ہیں جو سمجھا بجھا لیتے ہیں، ہمیں اپنی روایتی اقدار کو ٹھیک کرنا ہو گا، تنازعات کی صورت میں بچوں کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے، اس کے لئے بھی بلدیاتی انتخابات ضروری ہیں کہ عائلی قوانین کا نظام بھی عمل پذیر ہو سکے۔

مزید : اداریہ