انسان کی وحدت

انسان کی وحدت

پیغمبر اسلام نبی کریم ؐ کے ظہور سے قبل انسانوں کی یہ دنیا، دنیا کے نام پر رہبانیت کا شکار تھی، دوسری طرف ملک اور تمدن کے نام پر نفس پروری اور نفس پرستی کا بازار گرم تھا، جس کا محور اس دور میں دو بڑی طاقتیں تھیں، ایک طرف فارس میں کسریٰ کی حکمرانی تھی، جو مشرقی ممالک میں اثر انداز تھی اور دوسری طرف روم میں قیصر کی جہانبانی تھی جو پورے مغرب پر چھائی ہوئی تھی، نوع انسانی انہیں دو بڑی طاقتوں سے متعلق ہو کر دو بڑے گروہوں میں منقسم تھی، حکمران طبقہ رعایا کو جانوروں سے بد تر تصور کرتا تھا اور ان کی محنت سے دولت و آسائش کا حصول ہی حکومت کا مقصد نظر آتا تھا،غرض دنیا سیاسی، اقتصادی اور طبقاتی اونچ نیچ اور باہمی بے اعتمادی کی جہنم بن چکی تھی۔ نبی کریم ؐ کا کارنامہ یہ ہے کہ آپ ؐ نے انسانیت کو رہبانیت اور استبدادیت سے نجات دلائی، انسانی معاشرے سے جہالت ’’جمود‘‘ توہم پرستی اور غربت کے خلاف جہاد کیا، عدل و مساوات، اخوت، باہمی کفایت اور باہمی اعتماد کی پاکیزہ تعلیم دی، کفار اور مشرکین نے نبی کریم ؐ اور آپ ؐ پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دیں اور ان پر ظلم و ستم ڈھائے، کفار نے آپ ؐ پر غلاظتیں پھینکیں ، راہ میں کانٹے بچھائے، آپ ؐ کا اور آپ ؐ کے خاندان کا بے رحمانہ سماجی مقاطعہ (Social Boycott) کیا، مگر محسن انسانیت نبی کریم ؐ نے ان کفار کی سرکوبی کے بجائے فرمایا:کہ مَیں تمام دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، قہر و عذاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا ہوں‘‘۔ چنانچہ امن کی خاطر آپ ؐ اور تقریباً تمام صحابہ کرامؓ اپنا صدیوں قدیم آبائی وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت کر گئے، رحمت عالم کا کارنامہ یہ ہے کہ، آپ نے حاکم و محکوم کا فرق مٹا کر قومی خدمت کے جذبات کو استوار کیا۔ راعی اور رعایا میں اخوت کا تعلق قائم فرمایا۔ معاشرت اور مدنیت کو مساوات کے زرین اصولوں پر تعمیر کیا، اللہ سے کٹ کر اپنے نفس کی پوجا کرنے کی سختی سے مذمت کی، بادشاہوں کی بندگی کے بجائے، اللہ کی حکمرانی کو فروغ دیا، تمام انسانوں کو توحید و رسالت کے ذریعے ایک رشتہ میں منسلک کیا،600سال تک دنیا نبوت کے چراغ سے محروم رہی تھی، توحید کا وہ سبق جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء پڑھاتے رہے تھے، وہ یکسر فراموش ہو چکا تھا، پوری دنیا ایک ظلمت کدہ بن گئی تھی اور وحشت و ظلمت کی اس گہری تاریکی میں دنیا کا کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں تھا،جہاں اللہ کا نام پکارا جاتا ہو، بتوں، پہاڑوں، ستاروں، پتھروں کو لوگ خدائی کا درجہ دیتے تھے۔

آپ سراپا رحمت تھے، آپ ؐ نے نوکروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا، عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے، معاشرے میں غلط رسم و رواج کو رد کیا اور ان کے بجائے وہ اصول و ضوابط عطا کئے، جو انسانی فلاح و بہبود کے ضامن تھے، نیک و بد کی پہچان کرائی، بُری چیزوں سے روکا اور طیب و پاکیزہ چیزوں کی اجازت دی، آپ نے رنگ و نسل اور ذات پات کے فتنوں کو ختم کیا، وحدت انسانیت کا درس دیا، بھٹکے ہوئے انسانوں کا رشتہ اللہ سے جوڑا اور اس کی عظمت کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا، شفقت و محبت اور رحمت کے موتی بکھیرے، آپ نے انسانیت کو ارتقاء بخشا، فکرو نظر کو روشنی دی، قلوب انسانی کو بیدار کیا، امانت کی حفاظت، باتوں میں سچائی اور حسن اخلاق کو شعار بنانے کی تعلیم دی۔ یہ ہیں رحمتہ اللعالمین کی وہ عالمگیر اخوت اور دائمی تعلیمات جس نے زمین کے دور دراز گوشوں کو ایک کر دیا۔

یہ ہے رحمت عالم کی تعلیمات کا کرشمہ ہے، جس نے چین کے مسلمان کو افریقہ کے مسلمان سے، عرب کے بدو کو صحراءِ سینا کے چرواہے سے، ہندوستان کے نو مسلم کو مکہ معظمہ کے صحیح النسب قریشی سے، ایک رشتہ توحید اور اسلامی برادری کے ذریعے ملا دیا، اب دنیا میں کوئی طاقت نہیں جو اس رشتہ کو توڑ سکے۔

مزید : ایڈیشن 1