کامیاب میاں بیوی

کامیاب میاں بیوی

اس بات میں کوشک نہیں، کہ دنیا کی تمام چیزیں انسان کے لئے سرمایۂ حیات ہیں، وہ نفع مند اور فائدے سے خالی نہیں اور انعامات الہٰیہ کا شمار بھی ممکن نہیں، لیکن ان تمام چیزوں میں اللہ نے انسان کے لئے جو بہترین سرمایہ پیدا کیا ہے، وہ ایک نیک سیرت ، پاکدامن ، اعلیٰ اخلاق وکردار کی حامل فرمانبردار بیوی ہے، ایسی خاتون جس کے متعلق رسول ﷺ نے اپنی سچی زبان نبوت سے چنداوصاف بیان فرمائے ہیں۔ ’’کہ آدمی کے لئے دنیا کی ہرچیز فائدہ مند ہے، لیکن انسان کے لئے بہترین سرمایہ اس کی نیکی بیوی ہے، جب خاوند اسے حکم دیتا ہے، تو وہ فوراً اس کی تابعداری کے لئے تیار ہوجاتی ہے اور جب وہ اس کی طرف دیکھتا ہے، تو اسے خوش کردیتی ہے اور جب وہ اس سے غائب ہوتا ہے، تو وہ تمام معاملات کی حفاظت کرتی ہے ‘‘۔ یہ چند ایک ذمہ داریاں ہیں، جو مسلم خاتون پر اسلام کی طرف سے عائد ہوتی ہیں۔

ہم لوگ ایک اسلامی معاشرے میں زندگی گزارتے ہیں اور اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کے لئے مکمل لائحہ عمل دیا ہے، اگر ان اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے تو میاں بیوی کافی حدتک اپنی ازدواجی زندگی خوشگوار اور پرسکون بناسکتے ہیں، شادی کے بعد لڑکی کا سب سے پہلا رابطہ اور تعلق اپنے خاوند سے ہوتا ہے، ابتدائی ایام تو بہت ہی خوبصورت گزرتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی بہت اچھی اور آسان ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات وواقعات میں تبدیلی آتی ہے، شادی کے ابتدائی مراحل میں خواتین کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے، کہ یہ وقت اپنے شوہر کی بات ماننے کا ہوتا ہے ، شوہر جو بھی بات کہے اس پر مکمل اعتماد کا مظاہرہ کیجئے، اگر میاں بیوی چاہیں تو ایک دوسرے کے بہترین دوست بن سکتے ہیں اور زندگی بہت خوبصورت بن سکتی ہے، ایسے ہی شوہر کو چاہیے، کہ وہ اپنی بیوی کا پورا پورا خیال رکھے اور لڑکی جو اپنا محبت بھرا خونی رشتہ چھوڑ کر اپنے والدین، بہن بھائی اور خاندان سے رخصت ہوکر آپ کے نکاح میں آئی ہے، اس کی تمام خواہشات کا پاس رکھنا لڑکے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، خواتین سب سے پہلے غلطی یہ کرتی ہیں، کہ شوہر کو اس کے والدین سے بدظن کرنا شروع کردیتی ہیں، انسانی دماغ اس بات کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرتا کہ وہ سرمایہ حیات جسے والدین نے دن رات محنت کرکے پالا ہو بچپن کی تکلالیف کو برداشت کرکے پروان چڑھایا ہو، پھر پڑھایا لکھایا اور اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ شادی کا بندوبست کیا، اس کی ہرضرورت اور خواہش پوری کی ، لیکن شادی ہوتے ہی انہیں اپنا دشمن سمجھ لے، یہ بہت ہی مشکل اور تکلیف دہ چیز ہے، بجائے اس کے لڑکی کے لئے یہ بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے، مگر پھر بھی ناممکن نہیں، اگر لڑکی سمجھداری کے ساتھ اپنی ساس اور نندوں کا دل جیت لے تو پھر شوہر کا دل جیتنا اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا۔

ایسے ہی خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ گاہے بگاہے شریک حیات کو اپنے والدین سے ملانے کے لئے خود لے کر جائے اور لے کر آئے، بیوی پر ایسی کوئی پابندی نہ لگائے کہ وہ اپنے والدین سے مل نہ سکے، اس طرح زندگی کے لمحات خوشگوار بن سکتے ہیں، اکثر وبیشتر لڑکیوں کی طرف سے یہ بات دیکھنے میں آتی ہے ، کہ وہ اپنے سسرال کی تمام باتیں اپنے میکے میں ہرکسی کو بتانے لگ جاتی ہیں، یہ بہت قبیح حرکت ہے، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سسرال اور میکے کے مسائل کو الگ الگ رکھا جائے، تب ہی زندگی آسان اور کامیاب بن سکتی ہے۔

خواتین کو اس بارے میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے، کہ جب خاوند سارا دن ڈیوٹی میں گزارنے کے بعد شام کے وقت تھکا ہارا گھر واپس لوٹتا ہے، تو اسے ایک مکمل گھر کی امنگ ہوتی ہے، گھر کو صاف ستھرا کیا ہو، تمام گھر کے سامان کو صفائی اور ترتیب کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پہ سجایا ہو، شوہر کے گھر واپس آنے سے پہلے پہلے خواتین کو چاہیے، کہ وہ اپنے گھر کے تمام کام کاج سے فارغ ہوجائیں اور صرف خاوند کے استقلال کے لئے فارغ ہوں، نہایت خوش اخلاقی اور اچھے طریقے سے پیش آئیں اور گھر آتے ہی اسے ایسا پرسکون ماحول ملے، کہ اسے تمام دن کی تھکن بھول جائے، اسے آرام کا سانس لینے دیں پانی وغیرہ پوچھیں ، پھر اس سے دریافت کریں، کہ آپ کا دن کیسا گزرا؟ شادی شدہ زندگی میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ بات کو کس محل وموقع پر بیان کرتی ہیں۔ ایسے ہی شوہر کو چاہیے، کہ گھر آکر اگر وہ کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کے مزاج اور طبیعت کے خلاف ہو تو صبر سے کام لے، گھر آتے ہی اعتراضات کی بوچھاڑ اور دنگا وفساد شروع نہ کرے، اسے چاہیے کہ اطمینان کے ساتھ اس بارے میں اپنی اہلیہ محترمہ سے استفسار کرے تاکہ اصل صورت حال سے آگاہی ہو سکے۔ ایسے ہی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا چاہیے، شادی کے ابتدائی ایام بہت ہی اہم ہوتے ہیں، میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پاتے، جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے کو موقع ملتا ہے۔ انسان ایک دوسرے کے مزاج ، عادات اور اخلاق کو سمجھ لیتا ہے، اگر خاوند غصے میں ہو تو بیوی کو چاہیے، کہ خاموشی اختیار کرے، کیونکہ آدمی کا غصہ آگ کی طرح ہوتا ہے اور عورت کی تیزی جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے، اس وقت عورت کو چاہیے کہ تحمل واطمینان سے کام لے، کسی بھی انسان کو ناپسندیدہ بات پر غصہ آجانا ایک فطری چیز ہے، اگر بیوی کو کسی بات پر غصہ آجائے تو شوہر یعنی میاں کو بھی تحمل مزاجی سے کام لینا چاہیے، ایسی بات نہیں کہ غصہ کرنا صرف شوہر کا حق ہے۔ میاں بیوی کے درمیان لڑائی، جھگڑے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ شوہر کا اپنی بیوی پر اعتماد ویقین نہ کرنا ہے، عورت اگر اپنی نندوں میں سے کسی کی غلط عادت کی اصلاح کرنا چاہتی ہے، تو وہ اسے اپنے لئے بہت بڑا مسئلہ سمجھ لیتی ہے، اس طرح وہ بہت قسم کی باتیں کرنا شروع کردیتی ہیں۔ ’’ کہ ہماری گھر آئی بعد میں اور سمجھانے پہلے لگ گئی ‘‘۔ پھر بات بات پہ ایک دوسرے کو روکنے اور ٹوکنے کا سلسلہ چل نکلتا ہے، بالآخر اپنے بھائی کو اس کے خلاف اکسانا شروع کردیتی ہیں اور پھر شوہر صاحب اپنی بیوی سے پوچھے بغیر بہنوں پر اندھا اعتماد کرلیتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ، کہ ازدواجی زندگی محبت کی بجائے نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور پھر معاملہ اس قدرسنگین ہوجاتا ہے، کہ نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، معاملہ الجھانے کی بجائے خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی پر مکمل اعتماد کرے، اگر کوئی مسئلہ درپیش ہوتو اس کے بارے میں اپنی بیوی سے اس کی وجہ معلوم کرے، میاں بیوی کا اعتماد ہی دراصل کامیاب زندگی کا راز ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت اپنی زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے قناعت کے ساتھ اپنے شوہر کی کمائی پر گزارہ کرے اور شوہر سے ایسی چیز کا مطالبہ ہرگز نہ کیا جائے، جو اسے پریشان صورتحال سے دوچار کردے، آپ اپنی آمدن کے مطابق ایک دائرے میں رہتے ہوئے خرچ کریں، ایسے ہی خاوند کو چاہیے، کہ وہ شادی کے بعد اعتدال کے دامن کو تھامے رکھے، وہ اپنے آپ کو کچھ دکھانے کے لئے بے جا پیسے کا استعمال نہ کرے، اسے فضولیات سے ہٹ کر اپنی اصل ضروریات پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

عورت میں حسد ایک فطری عمل ہے، مگر ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے، کہ ہرانسان کا اپنا نصیب ہوتا ہے، کبھی بھی اپنے شوہر کو مت بھولئے، کہ میری بہن کے پاس تو بڑی گاڑی، عالی شان بنگلہ، پہننے کے لئے اچھے سے اچھا سوٹ، جوتا اور قیمتی قسم کے زیورات ہیں اورمیرے پاس کیا ہے، ایسی سوچ والیاں ہمیشہ اپنے گھر کو برباد اور اجاڑ لیتی ہیں ؟آخر کار بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے، کہ گھر کے تمام افراد ڈپریشن (Depression) کاشکار ہوجاتے ہیں، بہرحال اللہ رب العزت نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے، اس پر شکر ادا کرنا سیکھئے اور قناعت پسندی اختیار کیجئے، ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں ساس بہو کی لڑائی کی ایک اہم وجہ بہوکا اپنے ماں باپ کے گھر جانا ہے، ساس صاحبہ کی خواہش ہوتی ہے ، کہ اس کی بہو اپنے گھر میں دل لگائے اور اس کی خدمت کرے، دوسری طرف بہو کی تمنا ہوتی ہے، کہ اپنے والدین کو بھی وقت دے، بہو چاہے کتنی بھی خدمت گزار بن جائے مگر وہ جیسے ہی میکے جانے کا ارادہ کرتی ہے، تو ساس کے چہرے پر شکن پڑجاتی ہے، ان تمام مسائل سے بچنے کے لئے عورت کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کی مددسے میکے جانے کے لئے دن کا تعین کرے، جو دن وہ مقرر کرے اس دن میاں بیوی جائیں، بہرحال خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بہتر سے بہتر طریقے سے پیش آئے، اچھا رویہ اپنائے ، کیونکہ یہ ہمارے مسلمان ہونے کا بھی تقاضا ہے۔

ہمارے پیارے محترم نبی ﷺ کا بھی ارشاد عالی ہے کہ ایسے ہی بیوی کے حقوق کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ جب تو کھائے تو اپنی بیوی کو بھی کھلا اور تو پہنے تو اپنی بیوی کو بھی پہنا اور اس کے چہرے پر مت ماراور اسے گالی گلوچ بھی نہ کر اور اسے نہ چھوڑو۔ مگر اپنے گھر میں رہتے ہوئے اسلام نے مرد کو بھی عورت کے حقوق سمجھائے ہیں، ایسے ہی عورت کے اوپر بھی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ عورت کے متعلق فرمایا:

’’دنیا تمام کی تمام فائدے کا سامان ہے، لیکن بہترین فائدہ مند چیز وہ عورت ہے، جو نیک ہو، جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو اسے خوش کردے اور جب اسے حکم دے تو فوراً اطاعت کرے اور جب خاوند غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے۔

اللہ سے دعا ہے، کہ مولا کریم اپنے خاص فضل وکرم سے تمام مسلم گھرانوں میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کی ذمہ داری اچھے طریقے سے نبھانے کی توفیق دے، اس کے سبب اللہ پاک ہمارے گھروں میں امن وسکون ، محبت ومودت کی فضا پیدا کرنے کی ہمت و توفیق دے اور ہمارے گھروں، معاشرے اور عالم اسلام کو نظر بد سے محفوظ فرمائے اور اجڑتے گھرپھر سے جنت نظیر بن جائیں۔ آمین

مزید : ایڈیشن 1