صہیونی حکومت کی غزہ کو غرب اردن سے علیحدہ کرنے کے بدلے طویل جنگ بندی کی پیشکش

صہیونی حکومت کی غزہ کو غرب اردن سے علیحدہ کرنے کے بدلے طویل جنگ بندی کی پیشکش

غزہ (این این آئی) حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں طویل جنگ بندی کیلئے کچھ ایسی تجاویز سامنے آئی ہیں جن پرکسی صورت میں عمل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اگرغزہ کو غرب اردن اور فلسطین کے دوسرے علاقوں سے کاٹ دیا جائے تو اس صورت میں اسرائیل ابتدائی طورپر 5سال اور بعد ازاں 15سال تک جنگ بندی کا اعلان کرسکتا ہے۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے اپنے خصوصی صفحے پر پوسٹ بیان میں کہا ہے۔

کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے یہ پیغام فلسطینی کاروباری شخصیات اور دیگر غیر جانبدار شخصیات کے ذریعے پہنچایا گیا تھا ،تاہم حماس اور اہل غزہ نے صہیونی ریاست کی تجاویز یکسر مسترد کردی ہیں کیوں کہ غزہ بھی فلسطین کا ایک حصہ ہے جسے کسی صورت میں کوئی الگ خطہ نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہمیں کہا گیا کہ اگر غزہ کی پٹی کو مغربی کنارے سے الگ کردیا جائے اور مصر کی رفح گزرگاہ کو کھولنے کے بعد غزہ میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ قائم کرنے کیساتھ ایک بندرگاہ بھی قائم کی جائے تو کیا وہ اس پر راضی ہونگے تو ہم نے انہیں صاف جواب دیا کہ ہمیں ایسی بھونڈی تجاویز کسی صورت میں قبول نہیں جس میں فلسطین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی گئی ہو۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ایک اعلی فوجی افسر کی جانب سے آزاد شخصیات کے ذریعے ہم تک تجاویز پہنچائی گئیں جن میں کہا گیا کہ اگر یہ تجاویز منظور کرلی جائیں تو اسرائیل 5سال اور اگلے مرحلے میں 15سال کیلئے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کیلئے تیار ہے۔ اس صورت میں اسرائیل غزہ کا محاصرہ اٹھا دیگا اور شہر کی تعمیرنو میں بھی ہرممکن مدد فراہم کریگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی جانب سے اسرائیل کی پیش کش ٹھکرائے جانے کے بعد صہیونی ریاست کی جانب سے ناکہ بندی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

مزید : عالمی منظر