کراچی ،اردو کی پہلی شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں،نمازجنازہ آج ہو گی

کراچی ،اردو کی پہلی شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں،نمازجنازہ آج ہو گی
کراچی ،اردو کی پہلی شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں،نمازجنازہ آج ہو گی

  

ہونٹو ں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آئے توسہی برسرِالزام ہی آئے

کراچی(خصوصی رپورٹ)اردوکی پہلی شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں،انکی نمازجنازہ آج کراچی میں ادا کی جائے گی۔مرحومہ حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز حاصل کرچکی تھیں۔تفصیلات کے مطابق معروف پاکستانی شاعرہ ادا جعفری مختصر علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئیں ، ادا جعفری کا شمار انتہائی قابل ادیب اور شاعرہ کی فہرست میں کیا جاتا تھا، ادا جعفری نے خیالوں کو حسین رنگ دیتے ہوئے زیر قلم کیا انکے انتقال سے پاکستانی معاشرے میں اردو کی بہترین شاعری کا ایک اور باب بند ہوگیا۔ ادا جعفری بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں 22اگست 1924کو پیدا ہو ئیں ،انہیں اردو کی پہلی شاعرہ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ شاعرہ کے علاوہ ادیب بھی ہیں ، ادا جعفری کو ادب کے لئے ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں امریکہ اور یورپ کی جانب سے بھی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ انہیں 1967میںآدم جی ادبی ایوارڈ ،،1981میں میڈل آف ایکسلنس اور2002میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔اداجعفری کا پیدائشی نام عزیز جہاں تھا ، وہ ابھی تین سال کی ہی تھیں کہ ان کے والد وفات پا گئے ، انہوں نے12سال کی عمر میں شاعری لکھنا شروع کر دی تھی ،ان کی شادی نور الحسن جعفری سے 29جنوری 1947کو ہوئی ، پاک بھارت تقسیم کے بعد وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئیں۔ادا جعفری نے سوگواران میں ایک بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ادا جعفری کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انھیں 1991میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا تھا، انکی بہترین کتابوں میں سازڈھونڈتی رہی ، شہردرد، اور سازسخن بہانہ ہے شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول