بلدیاتی انتخابات، عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت الیکشن کمشن آمادہ

بلدیاتی انتخابات، عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت الیکشن کمشن آمادہ

 تجزیہ: چودھری خادم حسین

سینیٹ کا ہنگامہ فرو ہوا، لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔ نیا سلسلہ شروع ہونے والا ہے اور یہ عوامی حمایت حاصل کرنے کا ایک اور موقع ہے، جو بلدیاتی انتخابات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے علاوہ کنٹونمنٹ بورڈوں میں انتخابات کے لئے تاریخیں دے کر انعقاد کا حکم دے دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر الیکشن کمیشن نے سر تسلیم خم کر دیا اور صوبائی حکومتوں میں سے پہلا عمل خیبرپختونخوا کی حکو مت کرے گی۔ تاحال کوئی رکاوٹ والی بات سامنے نہیں آئی، اس لئے یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ باقی تاریخوں پر بھی عمل ہو گا اور بلدیاتی ادارے وجود میں آ ہی جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں صوبائی تنظیم کے اجلاس میں بھرپور طریقے سے تیاریاں کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہر حلقے میں امیدوار کھڑا کیا جائے اور یہ معرکہ جیت کر جماعت کی مقبولیت ثابت کر دی جائے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بھی پہلے ہی سے اپنی تنظیموں کو تیاریوں کا کہہ چکی ہے اور اب پاکستان پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے بھی اعلان کیا ہے کہ پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پاس صوبائی اراکین اسمبلی کی بھاری اکثریت ہے اور تنظیم بھی مکمل ہے۔ وہ تو بورڈ بنا کر ٹکٹ بھی دے سکیں گے۔ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ یہ ہدف صوبائی اسمبلی کے اراکین کو دیا جائے۔ ان کے منتخب اراکین کی تعداد تو30ہے ان کا مقصد امیدواروں سے ہے اور تنظیم بھی کرے گی۔ اصل مسئلہ اور پریشانی پیپلزپارٹی کو ہو گی جسے پنجاب میں عام انتخابات کے دوران بہت بُری طرح سے شکست ہوئی تھی اور موجودہ سربراہ صوبائی تنظیم اب تک تنظیمی ڈھانچہ بھی مکمل نہیں کر سکے۔ ان کو بورڈ بنانا پڑیں گے اور پھر تنازعات بھی پیدا ہوں گے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے پیپلزپارٹی کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اب پتہ چلے گا، یہ ایک نیا امتحان ہے سپریم کورٹ کی ہدایت اور الیکشن کمشن کی تعمیل میں اب کوئی ابہام نہیں۔ صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کو تعاون کرنا ہو گا اور کرنا چاہئے کہ انتخابات غیر جانبدارانہ طریقے سے ہو سکیں۔ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے اب تک گریز کرتی چلی آئی ہے اب مشکل ہو گی اور ان انتخابات سے عوامی مقبولیت کا اندازہ ہو جائے گا۔اگرچہ اس میں مقامی حالات کا بھی اثر ہوتا ہے، اس لئے سیاسی جماعتیں متوقع طور پر زیادہ تیاری کریں گی۔ان انتخابات میں ایڈجسٹمنٹ بھی ہو گی اور دیکھیں آئندہ آسمان کیا کیا رنگ بدلتا ہے۔ جہاں تک سیاسی صورت حال کا تعلق ہے تو اسے بھی اب نیا رُخ ملے گا،اب گلی محلے کی سیاست چلے گی۔ جلد ہی مقبولیت کا ’’راز‘‘ بھی کھل جائے گا۔ الیکشن کمشن آمادہ

مزید : تجزیہ