نائن زیرو پر چھاپہ اورالیکٹرونک میڈیا

نائن زیرو پر چھاپہ اورالیکٹرونک میڈیا
 نائن زیرو پر چھاپہ اورالیکٹرونک میڈیا

  


نائن زیرو پر چھاپہ یقیناًبڑی خبر تھی۔90پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت ایم کیو ایم جو 24 ایم این اے 52ایم پی اے 8سینیٹرز رکھتی ہے اس کا ہیڈکوارٹر ہے اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی آبائی رہائش گاہ ہے۔ خورشید بیگم جو الطاف حسین کی والدہ محترمہ ہیں، ان کے نام سے خورشید بیگم میموریل ٹرسٹ بنایا گیا ہے وہ 90سے ملحقہ ہے اور بڑی عمارت ہے جس میں ایم کیو ایم کے تمام شعبہ جات کے دفاتر ہیں۔90کے بعد خورشید بیگم ٹرسٹ کے دفاتر میں بدھ کی صبح نماز فجر سے پہلے 100سے زائد رینجرز کے جوانوں نے چھاپہ مارا جو چھ گاڑیوں پر آئے تھے۔ چھ بجے کے بعد ٹی وی چینل پر ایم کیو ایم کے دفاتر اورملحقہ علاقوں میں رینجرز کے بڑھتے ہوئے گشت اور پوزیشنیں سنبھالنے کے ٹیکر چلنے شروع ہوئے۔ رینجرز سندھ کے ترجمان کرنل طاہر کے مطابق ایم کیو ایم کے دفاتر اور خورشید بیگم ٹرسٹ پر چھاپے اور تلاشی کا کام دو گھنٹے میں مکمل کر لیا گیا تھا۔ کرنل طاہر نے درجنوں ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں اعلان کیا کہ چھ اشتہاری ملزمان جن میں ولی خان بابر کے سزا یافتہ ملزم بھی شامل ہیں۔ خورشید بیگم ٹرسٹ سے گرفتار ہوئے ہیں اور بڑی مقدار میں نیٹو کے کنٹینرز سے چوری ہونے والا اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے دفاتر پر چھاپے کی کارروائی مکمل کرنے اور رینجرز نے جب تمام دفاتر سیل کرکے پولیس حکام کے حوالے کر دیئے اور وہاں سے جانے کی تیاری کررہے تھے کہ ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو پر الطاف حسین کے دیوانے اور ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنان جمع ہو کر نعرے بازی کرنے لگے۔ کارکنان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے رینجرز کو بھی اور جوانوں کو منگوانا پڑا پھر ایم کیو ایم کے کارکنان کے نعرے احتجاج سے پتھراؤ میں تبدیل ہوئے تو رینجرز کے جوانوں کو ہوائی فائرنگ کرنا پڑی مظاہرین کے بڑھتے ہوئے احتجاج اور رش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی شر پسند نے ایم کیو ایم کے کارکن وقاص شاہ کو گولی مار دی جس سے احتجاج پر تشدد ہوتا گیا۔نائن زیرو پر چھاپہ کیوں مارا گیا؟ رینجرز کے ترجمان کی تفصیلی بریفنگ کے بعد وزیر داخلہ کا تفصیلی موقف بھی سامنے آ گیا جس میں فرمایا گیا کہ ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ پر مارا گیا ہے اورگرفتار ہونے والے ملزمان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں، چھاپہ غلط نہیں مارا گیا جتنی باتیں میں نے تحریر کی ہیں یہ ٹی وی کے تمام چینلز پر سینکڑوں دفعہ بدھ کی صبح سے آ رہی ہیں اور گزشتہ روز کے اخبارات میں بھی سب کچھ شائع ہو گیا ہے ۔ ایم کیو ایم کے دفاتر نائن زیرو پر چھاپے کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے چینلز نے بھرپور کوریج دی۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے بڑی سیاسی قوت کے دفاتر پر چھاپے کا انداز درست نہیں ہے۔ افسوس ناک پہلو جس کا میں درد کے ساتھ ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ہے الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے سنسنی خیزی اور ٹاک شو میں جو تماشا لگایا گیا وہ لمحہ فکریہ ہے۔ چھ چینلز کے اینکر کی طرف سے بدھ کی شام کئے گئے ٹاک شو کا تھوڑا تھوڑا حصہ سننے کا موقع ملا۔ سوائے ایک دو اینکر کے باقی سب بغیر معلومات کے بات سے بات اور سوال سے سوال نکال رہے تھے۔ یہی حال بدھ کو صبح 6بجے سے شام 6بجے تک ٹی وی چینلز پر پھیلائی گئی سنسنی خیزی سے ہوا۔ نائن زیرو پر چھاپے کے چند منٹ بعد ایم کیو ایم کی طرف سے ملک بھر میں پُرامن احتجاج کی کال آ گئی تھی اور پُرامن کال کو پُرتشدد بنانے میں جو کردار میڈیا نے ادا کیا وہ افسوس ناک ہے۔ لائیو کوریج نے بازار بند کرائے۔ میڈیا کی طرف سے قواعد و ضوابط کی دھڑلے سے دھجیاں بکھیری گئییں۔ شاید پہلی دفعہ الیکٹرانک میڈیا کے ناتجربہ کار کارکنان نے جان بوجھ کر ایم کیو ایم کے نئے نئے کارکنان سے سوالات کرکے ایم کیو ایم کی تنظیم پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رابطہ کمیٹی کے ممبران چینلز پر نظر نہیں آئے۔کوئی مانے یا نہ مانے ایم کیو ایم کی تنظیم مثالی ہے۔25 سال سے ملک سے باہر بیٹھ کر الطاف حسین اگر ایک ایک حلقہ سے لاکھوں ووٹ لے کر ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت ہے تو داد تو دینا پڑے گی۔ ظلم اور جبر قتل غارت کی بنیاد پر 25سال تک عوام کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ الیکٹرونک میڈیا کی ریٹنگ کے چکر میں یا ایم کیو ایم کی دشمنی میں جو بدھ کو کئی گھنٹے تک کی لائیو کوریج کے ذریعے نئی صحافتی روایت متعارف کرانے کی کوشش کی ہے وہ قابل افسوس ہے حب الوطنی کا دعویٰ ، پاک فوج سے محبت کا دعویٰ، کراچی میں جاری اپریشن کی حمایت، بوری بند لاشوں کی سیاست کی مذمت، پاک فوج کے حق میں ریلیاں جتنی ایم کیو ایم نے نکالی ہیں اور کسی جماعت نے نہیں نکالی ہوں گی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے جیو کو تفصیلی انٹرویو میں کرمینل کے لئے زیروٹالرنس، قبضہ مافیا اور جرائم پیشہ افراد کی ایم کیو ایم میں گنجائش نہیں ہے کا عزم دھرانا اور کھلے دل سے 22سال سے ملک سے باہر بیٹھ کر تنظیم کو کنٹرول کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کا اعتراف صولت مرزا سمیت ولی خان بابر کے قاتلوں کو پھانسی پر چڑھانے کی حمایت کرنا درست اور قابل ستائش ہے۔ راقم کو ایم کیو ایم کا ہیڈکوارٹر نائن زیرو دو دفعہ سرکاری پروٹوکول میں دیکھنے کا موقع ملا ہے ڈھائی تین مرلے کا الطاف حسین کا آبائی گھر ہے جس کو نائن زیرو کا نام دیا گیا ہے اس میں نہ کوئی خفیہ سٹور ہے نہ کسی ملزم کو چھپانے کی جگہ البتہ یہ درست سوال اٹھایا گیا ہے نائن زیرو کو 16راستے جاتے ہیں اور 16راستوں پر ایم کیو ایم کے ناکے اور کمرے موجود ہیں۔ سخت مانیٹرنگ کے باوجود ٹارگٹ کلر اور اشتہاری ملزمان نائن زیرو کے اطراف میں کیسے چھپے ہوئے رہ سکتے ہیں؟ دوسرا سوال جو تحریک انصاف کی طرف سے اٹھایا گیا ہے نیٹو کا اسلحہ خورشید بیگم ہال میں کیسے پہنچ گیا۔ تحریک انصاف ۔ا وقاص شاہ کے قتل کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے یہ بھی مطالبہ درست ہے میڈیا کو ذمہ دارانہ طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ ٹاک شو پر مختلف جماعتوں کے نمائندوں کو بلا کر باہمی لڑائی تو ہو سکتی ہے۔ کراچی میں امن نہیں ہو سکتا۔ کراچی میں باہمی رواداری کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کا اپنا بنایا ہوا لائحہ عمل اور قواعد و ضوابط اگر صرف اخبارات کے بیانات تک محدود رہنے ہیں تو پھر امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اگر اپنی تنظیم کی غلطیوں کا اعتراف کرکے ایم کیو ایم کو شفاف سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں تو انہیں موقع دینا چاہیے۔ الطاف حسین کی طرف سے نائن زیرو پرآپریشن کے باوجود ملک میں مارشل لاء کے مطالبے پر قائم رہنے کے مطالبے پر اتنی درخواست کروں گا،مارشل آتا ہے تو کھرے کوٹے کی پہچان بھی نہیں رہتی۔ آپ جمہوری دور میں اپنے مطالبے پر شروع کئے گئی آپریشن پر پشیمان ہیں۔ مارشل لا کی حمایت کے مطالبے پر دوبارہ غور کیجئے اور وطن سے 25 سال دور رہنے کے بعد اپنی محبتوں کا محور وطن عزیز کو بنانے کے لئے پاکستان چلے آیئے ملک اور آپ کی جماعت کو اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ الطاف حسین صاحب کی طرف سے پاکستانی پاسپورٹ ملتے ہی وطن واپسی کا اعلان خوش آئند ہے۔ قائد تحریک کو میڈیا میں بالعموم اور دیگر امور پر بالخصوص پائے جانے والے خوف کی فضا کو ختم کرنا ہوگا۔ کرمینل سے لاتعلقی اور سزا یافتہ افراد کو لٹکانے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے ایم کیو ایم کی سیاسی قوت میں اضافے کے ساتھ تنظیم بھی مضبوط ہوگی۔

مزید : کالم