لاہور ہائی کورٹ نے پنشنرز شکایت سیل کو ڈرامہ قرار دے کر معطل کردیا ،چیئرمین کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

لاہور ہائی کورٹ نے پنشنرز شکایت سیل کو ڈرامہ قرار دے کر معطل کردیا ،چیئرمین ...
لاہور ہائی کورٹ نے پنشنرز شکایت سیل کو ڈرامہ قرار دے کر معطل کردیا ،چیئرمین کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ خزانہ پنجاب کے پنشنر ز شکایت سیل کو "ڈرامہ "قرار دیتے ہوئے یہ سیل تاحکم ثانی بند کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے پنشنرز شکایت سیل کے چیئرمین محمد رفیق کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیاہے،فاضل جج نے مروت گردیزی سمیت متعدد بزرگ پنشنرز کی توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے سرکاری افسر بندکمروں میں بیٹھ کر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی غلط تشریح کر رہے ہیں ،شکایت سیل ایک ڈرامہ ہے جو کوئی کام نہیں کررہا ۔درخواست گزاروں کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ واضح طور پر 75سال کی عمر کو پہنچ جانے والے بزرگ پنشنرز کو ڈبل پنشن کا حقدار قرار دے چکی ہے مگر پنجاب حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کررہی جس کی وجہ سے بزرگ پنشنرز سرکاری محکموں اور عدالتوں کے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں، چیئرمین پنشنر شکایت سیل محمدرفیق نے 68 صفحات پر مشتمل تحریری جواب عدالت میں جمع کراتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جو پنشنرز حقدار تھے انہیں ادائیگیاں کر دی گئی ہیں، ہائیکورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزار ڈبل پنشن کے حقدار نہیں ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنجاب کے سرکاری افسر بند کمروں میں بیٹھے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کی غلط تشریح کر رہے ہیں، عدالت بزرگ پنشنرز کے حقوق کی خلاف ورزی کسی صورت پر برداشت نہیں کرے گی،پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے موقف اختیار کیا کہ وزرات خزانہ پنجاب میں ریٹائرڈ ملازمین کی شکایت کے ازالہ کے لئے سیل موجود ہے ،پنشنر کا معاملہ شکایت سیل میں ہی بہتر حل کیا جا سکتا ہے، ان درخواستوں کو بھی شکایت سیل بھجوا دیا جائے، عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر عدالت نے چیئرمین پنشنر شکایت سیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا اور شکایت سیل کو بھی تاحکم ثانی معطل کردیا ،فاضل جج نے حکم دیا کہ ہے کہ20 مارچ تک بزرگ پنشنرز کی ڈبل پنشن کا معاملہ حل کیا جائے ورنہ سیکرٹری خزانہ کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔دریں اثناءمسٹر جسٹس فیصل زمان خان نے اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں نے 3خواتین سمیت 5بزرگ پنشنرز کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے سیکرٹری خزانہ کو حکم دیا ہے کہ ایک ماہ میں ان پنشنرز کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ڈبل پنشن ادا کی جائے۔د رخواست گزاروں کی طرف سے ثمرہ ملک ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے 75 سال سے زائد عمر کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ڈبل پنشن کا حقدار قرار دے چکی ہے ، سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود محکمہ خزانہ پنجاب ڈبل پنشن کی ادائیگی میں حیلے بہانے کر رہا ہے اور ان بوڑھے افراد کے ساتھ غیرانسانی سلوک کرتے ہوئے عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگوا رہا ہے، انہوں نے استدعا کی کہ بزرگ پنشنرز کو فوری ڈبل پنشن کی ادائیگی کا حکم دیا جائے۔

مزید : لاہور