وزیر اعلی ٰ ہائی کورٹ کے جج کو کیسے ہدایات دے سکتے ہیں ،سانحہ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کیس میں اٹارنی جنرل طلب

وزیر اعلی ٰ ہائی کورٹ کے جج کو کیسے ہدایات دے سکتے ہیں ،سانحہ ماڈل ٹاﺅن ...
وزیر اعلی ٰ ہائی کورٹ کے جج کو کیسے ہدایات دے سکتے ہیں ،سانحہ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کیس میں اٹارنی جنرل طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کی قانونی حیثیت سے متعلق درخواستوں پرحکومت سے استفسار کیا ہے کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ آئین کے تحت ہائیکورٹ کے جج کو کیسے کسی جوڈیشل کمیشن کا سربراہ مقرر کر سکتا ہے اورپھر ہائی کورٹ کے جج کو جوڈیشل کمیشن کے طور پر کام کرنے سے کیسے روک سکتا ہے ۔مسٹر جسٹس خالد محمود خان، مسٹر جسٹس انوار الحق اور مسٹر جسٹس عبدالستار اصغر پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے مذکورہ قانونی نکات کی وضاحت کے لئے اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی طلب کرلیا ہے ۔ماڈل ٹاﺅن کمیشن کی قانونی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار زبیر نیازی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل کمیشن کی تشکیل قانونی ہے، ماضی میں ایسی روایات موجود ہیں کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے حاضر سروس ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل ہوئے، آئین کے آرٹیکل 158اور 159کے تحت جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کی تقرری میں حکومت اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ میں مشاورت غیرقانونی نہیں تاہم اسے حکومت کی حد تک بے ضابطگی کہا جا سکتا ہے، ہائیکورٹ کی حد تک بے ضابطگی نہیں کہی جا سکتی اور بے ضابطگی کی بنیاد پر کسی جوڈیشل کمیشن کی پوری کارروائی کو غیرقانونی نہیں کہا جا سکتا، اگر ماڈل ٹاﺅن کمیشن کی تشکیل غیرقانونی ہو گئی تو یہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے ساتھ ناانصافی ہو گی، جس پر بنچ نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ عدالت میں جذباتی نہیں، صرف آئین اور قانونی دلائل دیئے جائیں، عدالتیںآئین کے تحت فیصلے کرتی ہیں، جذبات کی بنیاد پر نہیں، مسٹر جسٹس خالد محمود نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کسی معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کو جوڈیشل کمیشن کا سربراہ مقرر کر ے اور پھر اپنی مرضی کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کو کام کرنے سے روک دے، ہائیکورٹ کا جج اپنے حلف کے مطابق صرف آئین کا پابند ہے، وہ حکومت کا کیسے پابند ہو سکتا ہے ، فاضل جج نے مزید کہا کہ اس کیس میں ایسا ہوا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے پنجاب انکوائری اینڈ ٹربیونل آرڈیننس کے تحت اختیارات مانگے مگر ہوم سیکرٹری کی سطح کے افسر نے کمیشن کا خط مسترد کر دیا، وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن چودھری نے پیش ہو کر استدعا کی کہ انہوں نے وزارت قانون سے ماضی میں بننے والے تمام جوڈیشل کمیشنوں کی تشکیل کے نوٹیفکیشنز کی نقول فراہم کرنے کا کہا ہے تاہم اس پرعمل درآمد کے لئے کچھ مہلت درکار ہے جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی اس کیس میں پیش ہونا چاہتے ہیں ، عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو مذکورہ آئینی نکات کی وضاحت کے لئے 27مارچ کو طلب کر لیا۔

مزید : لاہور