جنات کا غلام۔۔۔آٹھویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔آٹھویں قسط
جنات کا غلام۔۔۔آٹھویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

ساتویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

میری کن پٹیاں لہو کی گرمی سے سلگنے لگی تھیں۔ رضیہ کچھ بتانے سے گریزاں تھی اور میری لاڈلی بیٹی زلیخا میرے سینے میں منہ چھپائے روتے چلی جا رہی تھی۔ میں نے قہر بھری نظروں کے ساتھ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھا ، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اس کی آنکھوں میں میرے لئے نفرت کا لاوا ابل رہا تھا۔

”رضیہ تو بولتی کیوں نہیں ہے“ میں تقریباً چیختا ہوا بولا ”بتاتی کیوں نہیں ،زلیخا کے ساتھ کیا ہوا ہے۔“

”کک کچھ نہیں ملک صاحب! اللہ سوہنے کی قسم سب خیر میر ہے۔ بچی ہے ذرا گھبرا گئی ہے۔ کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی“ میں نے محسوس کیا رضیہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے قبل آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اس کا پراعتماد لہجہ مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ وہ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ مگر آج اس کا چہرہ صاف صاف چغلی کھا رہا تھا۔

”اٹھ میری بچی .... اپنے باپ کو کیوں پریشان کر رہی ہے“ رضیہ زلیخا کو مجھ سے الگ کرتے ہوئے اپنے شانے کے ساتھ لگانے لگی تو زلیخا ماہی بے آب کی طرح مچلی اور اپنی اس ماں کے شانے کے ساتھ لگنے سے گریزاں تھی جس کی گود میں سر رکھ کے وہ روزانہ سوتی تھی۔

”رضیہ تو مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے۔ اگر تو اب خاموش رہی تو اللہ سوہنے کی قسم میں ساری حویلی کو خون میں نہلا دوں گا“ میں نے زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ”زلیخا دھی کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا“

رضیہ کا چہرہ فق ہو گیا۔ زلیخا بھی میری جلالت دیکھ کر یکدم خاموش ہو گئی اور پھر جیسے وہ سنبھلنے لگی رضیہ میرا چہرہ تکے جا رہی تھی۔ پھر ایک دم چیخنے چلانے لگی ”لو.... سب سے پہلے مجھے مار ڈالو ملک صاحب۔ میں بدبخت عورت اپنی بچی کی پریشانی میں مرے جا رہی ہوں۔ میرے پاگل پن کی وجہ سے حویلی میں پیر صاحب آئے ہیں ملک صاحب آپ کو جس بات پر شک ہے آپ اس کی تصدیق کے بغیر غصہ کرتے جا رہے ہیں۔ آپ پیر صاحب کا کرودھ دل میں کیوں پال رہے ہیں۔ مجھ پر غصہ نکالیں اور مجھے ماریں“ زلیخا ماں کی بات سن کر اب سنبھل گئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک جا کر غصہ کر رہے ہیں تو وہ اپنی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی

”اماں .... چپ ہو جا۔ خدا کے واسطے چپ ہو جا تو نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب تو تیرے دل کو تسلی ہو گئی ہے کہ مجھ پر کسی قسم کے جن نے قبضہ نہیں کیا ہوا میں خود ہی ایک جننی ہوں“

”ہیں .... میں نے کیا کہا ہے“ رضیہ کولہوں پر ہاتھ رکھ کر زلیخا پر برس پڑی ”تو کہنا کیا چاہتی ہے میں نے تری عزت برباد کر دی ہے۔ تری زبان جل جائے زلیخا تو نے یہ کیا کہہ دیا ہے“

”ماں عورت کی عصمت بڑی قیمتی شے ہوتی ہے۔ کوئی نامحرم بھی اسے چھو لے تو ماں اس کی حیا کو موت آنے لگتی ہے۔ عورت بڑی پاکیزہ اور قیمتی شے ہے ماں .... میں تجھے ہمیشہ کہتی آئی ہوں مجھ پر کسی جن کا سایہ نہیں‘ لیکن تجھے اپنی بیٹی کے دکھ کا صرف ایک ہی وہم کھائے رہتا ہے۔ اللہ کا شکر کرو ماں میں بچ گئی ہوں۔ تو آنکھیں بند کرکے یہاں بیٹھی ہو گی تیری عقیدت نے تجھے آنکھیں نہیں کھولنے دی ہوں گی ماں .... لیکن میں بے ہوش ہو کر بھی جاگ رہی تھی۔ ترے بابا جی میرے پاس تھے ماں اور مجھے ایک شرمناک سبق پڑھا رہے تھے“

”بس کر دے بس کر دے زلیخا .... خدا کے لئے بس کر دے“ رضیہ چیخنے لگی ”اب بابا جی پر الزام لگانے لگی ہے تو“

”رضیہ .... تو عقیدت میں اندھی ہوتی جا رہی ہے۔ تجھے اپنی بیٹی کی بات پر یقین کیوں نہیں آ رہا“ میں نے اپنا غصہ دبا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

”آپ دونوں پاگل ہو گئے ہیں۔ اندھی میں نہیں ہوئی ہوں ملک صاحب آپ ایک بزرگ ہستی پر الزام لگا کر ان کو قہر میں ڈال رہے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ بابا جی کو غصہ آ گیا تو یہاں قیامت آ جائے گی“

”شاہد پتر .... یہ عورت بھی اللہ کی عجیب مخلوق ہے۔ تری چاچی جو کبھی میرے سامنے نیچی آواز میں نہیں بولتی تھی پیر ریاض شاہ کی وجہ سے مجھ پر دھاڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ پیر ریاض شاہ کو بچانا چاہتی تھی۔ یقیناً اس نے کوئی اوچھی حرکت کی تھی۔ تیرا یار نصیر تو ابھی بچہ ہے وہ مرد کی آنکھ میں تیرتے شیطانی بال کو نہیں دیکھ سکتا۔ مگر میں ریاض شاہ کی آنکھوں میں ابلتی ہوئی ہوس کو صاف طور پر محسوس کر رہا تھا۔ جب ہم دونوں آپس میں جھگڑنے لگے تھے تو پیر ریاض شاہ غصے سے کھولتا رہا۔ میں نے رضیہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ اپنے پیر صاحب سے کہو کہ وہ آج اور ابھی میری حویلی سے چلا جائے۔ یہ بات سن کر رضیہ رونا پیٹنا بھول گئی اور اس نے پوری ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ کہا

”ملک صاحب یہ نہیں ہو سکتا۔ میں شاہ صاحب کی بے عزتی نہیں کر سکتی۔ وہ یہیں رہیں گے اور اگر انہیں جانا ہے تو صبح کی روشنی میں جائیں گے“

”جس کو کسی کی عزت کا خیال نہیں ہے اس کی اپنی کوئی عزت نہیں ہوتی رضیہ۔ اسے کہو ابھی میرے گھر سے نکل جائے ورنہ نوکروں سے کہہ کر ابھی نکلوا دوں گا“

”ملک صاحب“ پیر ریاض شاہ گرجدار آواز میں بولا

”ہوش میں آئیں۔ میں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں لیکن آپ ہیں کہ مجھے بے عزت کرتے جا رہے ہیں۔ آپ نے ابھی تک میرا صبر دیکھا ہے جبر نہیں۔ میں خود یہاں ایک منٹ نہیں رہنا چاہتا میں جا رہا ہوں ملک صاحب لیکن آپ کو ایک بات کہے دیتا ہوں۔ آپ خود جھک کر مجھے بلانے کے لئے آئیں گے۔ منتیں کریں گے‘ میرے قدموں میں گریں گے لیکن میں نہیں آﺅں گا“

ریاض شاہ کی باتوں سے مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اس وقت میں نے خود پر قابو پایا۔ رضیہ ریاض شاہ کے سامنے ہاتھ جوڑنے اور انہیں جانے سے روکنے لگی۔ تمہاری چاچی ایک دم اس قدر نیچے گر جائے گی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔ وہ ریاض شاہ کے قدموں میں گر گئی۔

”شاہ صاحب خدا کے واسطے ایسا نہ کریں۔ میں مر جاﺅں گی۔ ملک صاحب کے دماغ پر تو غصہ طاری ہے آپ ہی سمجھ جائیں ناراض ہو کر نہ جائیں“

میں آگے بڑھا اور رضیہ کا بازو پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی

”حیا کر رضیہ .... تو اس گندے پیر کے پاﺅں پکڑ رہی ہے“

”ملک صاحب“ ریاض شاہ میری بات سن کر کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکرایا۔ غصے کی وجہ سے اس کی آنکھیں ابل پڑی تھیں اور چہرے سے آگ برسنے لگی تھی۔ اس کا پورا بدن شاخ بید کی طرح لرز رہا تھا” حد کر دی آپ نے بہت ہو گیا۔ بس .... اب کچھ نہیں کہنا“

ایک لمحہ کے لئے تو مجھ پر اس کی شخصیت کا ایسا رعب طاری ہو گیا کہ میری زبان گنگ ہو گئی۔ میں بھی ایک بڑا زمیندار تھا۔ میری اپنی عزت تھی ، رعب تھا میں نے آگے سے کہا

”اوئے تم کیا کر لو گے“ یہ کہہ کر میں نے اپنے نوکروں کو آوازیں دینی شروع کر دیں ”اوئے کاموں‘ کرمے ادھر آﺅ“ رضیہ پیر ریاض شاہ کی ڈھال بن گئی تھی۔

”ملک جی شاہ صاحب کو کچھ بھی کہا تو میں اپنی جان دے دوں گی۔ آپ یہ تماشا بند کریں“

زلیخا نے یہ صورتحال دیکھی تو نہ جانے اسے کیا ہوا۔ ایک زوردار کربناک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی ” ہائے میں مر گئی ابا جی“ اس کے یہ الفاظ سن کر میرا دماغ گھوم گیا۔ میں نے فوراً پلٹ کر دیکھا، اس کے منہ سے سفید جھاگ بہہ رہی تھی اور وہ فرش پر تیورا کر گر گئی ۔ رضیہ اس کی طرف لپکی اور میں نے ریاض شاہ کا گریبان پکڑ لیا

”اوئے سچ سچ بتا تو نے میری بچی کے ساتھ کیا کیا ہے۔ اسے کیا کھلایا ہے۔ نہیں تو تیری جان لے لوں گا“

اس سے قبل کہ ریاض شاہ بولتا یکدم کمرے کی روشنی گل ہو گئی البتہ باہر سے آنے والی روشنی سے اندھیرے میں بھی ہلکا ہلکا سا اجالا تھا۔ میرے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی باہر زودار آواز سے چیزیں گرنے لگیں کچھ ہی دیر بعد پوری حویلی میں بھونچال سا آ گیا۔ میرے پالتو کتے خوفزدہ ہو کر بھونکنے لگے اور پھر یوں محسوس ہونے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ ریاض شاہ کے گریبان پر میرے ہاتھ کمزور پڑ گئے۔ رضیہ زلیخا کا سر اپنی گود میں رکھ کر دہائیاں دینے لگی ”ہائے میری بچی شاہ صاحب۔ خدا کے واسطے کچھ کریں۔ بچی کو سانس نہیں آ رہی۔ ملک صاحب بھاگ کر پانی لائیں“

زلیخا کی بگڑتی ہوئی حالت اور حویلی میں برپا ہونے والے بھونچال نے مجھے بوکھلا کر رکھ دیا۔ میں نے قہر آلود نظروں سے ریاض شاہ کو گھورااور بے بسی سے اس کا گریبان چھوڑا تو کمینگی سے بھرپور ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے لبوں پر ناچنے لگی۔

”ملک صاحب“ وہ سرسراتی آواز میں بولا ”آپ سے میرا ایک رشتہ ہے جس کی وجہ سے میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو وہ معنی خیز انداز میں مسکراتا ہوا پیچھے کو مڑ گیا

”ملک صاحب پانی لائیں“ میں بے بسی سے باہر نکلنے لگا تو باہر سے کاموں کے چیخنے کی آواز آئی

ملک صاحب جنوں نے حویلی پر حملہ کر دیا ہے“

میں نے باہر نکل کر دیکھا حویلی کی راہداری میں بڑے بڑے گملے کسی نے ا ٹھا اٹھا کر دور دور تک پھینک دئیے تھے اور پوری راہداری مٹی‘ پتھروں اور پودوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں جونہی باہر نکلا کسی نادیدہ وجود نے ایک بڑا سا گملا اٹھایا اور میرے قدموں میں اتنے زور سے پھینکا کہ اگر میں ایک انچ بھی آگے بڑھا ہوتا تو میرا پاﺅں کچل گیا ہوتا۔

”نہیں .... خبردار رک جاﺅ“

عقب سے ریاض شاہ کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا میرے پاس سے گرم ہواﺅں کا ایک بگولا تیزی سے گزرا ہے۔ میں ٹوٹے پھوٹے گملوں سے گزر کر پانی لے کر آیا اور بے ہوش زلیخا کو پانی پلانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کے دانت آپس میں جڑ گئے تھے اور سانس پھولتی جا رہی تھی۔ اس کے دل کی تیز دھڑکن ایسے ہو گئی تھی جیسے کہیں دور سے ڈھول کی آواز آتی ہے۔ آنکھیں ابلی پڑی تھیں اور چہرے پر تناﺅ سے اس کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ سانس یوں لیتی تھی جیسے خالی گھڑے پر منہ رکھ کر آواز نکالی جاتی ہے۔ میں نے پانی سے بھرا گلاس اس کے چہرے پر چھڑک دیا کہ شاید اس طرح وہ ہوش میں آ جائے مگر وہ ہوش میں نہیں آئی۔

”پتر تمہیں کیا بتاﺅں اس لمحے ہم پر کیا قیامت گزر رہی تھی۔ باہر بھونچال اور شور شرابہ ختم ہو گیا تھا لیکن میرے اندر بھونچال برپا ہو گیا تھا۔ بیٹی کی حالت دیکھ کر میرے اندر کا اعلیٰ نسب ملک اور زمیندار جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔

”مار دیا میری بچی کو آپ نے ملک صاحب۔ میری بچی کو مار دیا کر لیا شوق پورا۔ حویلی کو موت سے بھر دیا ہے آپ نے ملک صاحب“

نویں قسط پڑھنے کلک کریں

مزید : کتابیں /جنات کا غلام