قومی احتساب بیورو کے قانون VR اور PB پر ایک نظر

قومی احتساب بیورو کے قانون VR اور PB پر ایک نظر

  

قومی احتساب بیورو کا قیام ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ میں مدد فراہم کرنا اور بد عنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم بر آمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروانے کے مقصدکے تحت قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چےئرمین قمرزمان چوہدری نے بطور چےئرمین اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ادارے کو نہ صرف متحرک کیا بلکہ اس میں بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ چےئرمین قومی احتساب بیورونے شکایت کی جانچ پڑتال کے لئے 2 ماہ ، انکوائری کے لئے 4 ماہ اور تفتیش کے لئے 4 ماہ کا عرصہ مقرر کیا یعنی شکایت سے انکوائری اور انکوائر ی تفتیش تک کے عمل کو مکمل ہونے کے لئے 10 ماہ کا عرصہ مقرر کیا جس سے نہ صرف قومی احتساب بیورو میں تمام مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹانے میں مددملے گی اور نئی موصول ہونے والی شکایات کو بھی قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

قومی احتساب بیورو نے عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات پر بلاتفریق کاروائی کے لئے قومی احتساب بیورو کے تمام علاقائی بیوروز اور قومی احتساب بیورو ہیڈکوارٹر میں شکایات سیل قائم کئے ہیں یہی وجہ تھی کہ قومی احتساب بیورو کو 2014 کے مقابلے میں 2015 میں دوگنا شکایات موصول ہوئیں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک بھر کے عوام نے قومی احتساب بیورو کے چےئرمین کی قیادت اور قومی احتساب بیورو پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے پلڈاٹ اور ٹرنسپرنسی انٹر نیشنل نے قومی احتساب بیورو کی بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کاوشوں کو سراہا ہے۔

قومی احتساب آرڈینینس کے قانون25-A کے تحت ویلینٹری ریٹرن VR) ) کے قانون کے مطابق پہلے انکوائری کی سطح پر قومی احتساب بیورو میں ملزمان کو ویلینٹری ریٹرن VR) ) کی آپشن دی جاتی تھی جس کو موجودہ چئیرمین نے بند کرنے کی ہدایت کی ہے اب انکوائری کی سطح پر قومی احتساب بیورو ملزمان کو ویلینٹری ریٹرن VR) ) کی آفر نہیں کرتا بلکہ اگر کوئی ملزم اپنے طور پر اپنی مکمل Liability کی بنیاد پرV R 4 کی درخواست قومی احتساب بیورو کودیتا ہے تو قومی احتساب بیورو ملزم کی قانون کے مطابق مکمل Liability کا جائزہ لیتا ہے اور ملزم کیVR کی درخواست کی مکمل جانچ پڑتال اور قانونی رائے کے بعد ویلنٹری ریٹرن( VR )کی درخواست منظور کرتا ہے VR کی درخواست سے حاصل کی گئی تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کروائی جاتی ہیں اور اس سے نیب افسران کو کوئی حصہ نہیں ملتا۔

جہاں تک پلی بارگینPB) ) کا تعلق ہے توپلی بارگین قومی احتساب آرڈینینس کے سیکشن25- B کے تحت تفتیش کے مرحلہ پر ملزم قومی احتساب بیورو کو پلی بارگین کی درخواست دے سکتا ہے جس پرقومی احتساب بیورو ملزم کی پلی بارگین PB) ) کی درخواست کا قانون کے مطابق مکمل جائزہ لیتا ہے اور قانونی رائے کے بعد ملزم کی کل Liabilit y کی بنیاد پر قومی احتساب بیورو معزز احتساب عدالت سے ملزم کی پلی بارگین کی درخواست کی منظوری لی جاتی ہے۔قومی احتساب بیورو ملزم کی کل Liability کی بنیاد پر پلی بارگین کی تمام رقم ملزم سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرواتا ہے۔ پلی بارگین کے تحت ملزم نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ دس سال تک سیاست میں حصہ لینے اور کسی بھی قومی شیڈول بینک سے قرضہ لینے کے لئے بھی نا اہل قرارپاتا ہے اور اگر ملزم سرکاری ملازم ہو تو اس کی پلی بارگین کی درخواست منظور ہونے کے فوری بعد اس کو نوکری سے برخواست کردیا جاتا ہے۔

پلے بارگین PB) ) کا قانون صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، بھارت ، کینیڈا اور جارجیاجیسے ممالک میں بھی رائج ہے پلی بارگین PB) ) کے قانون کا مقصد نہ صرف بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی رقم بروقت بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے بلکہ اس سے ملک کے قیمتی وسائل اور وقت کے ضیاع کو بھی بچانے میں مدد ملتی ہے ۔

مزید :

کالم -