ترکی کی عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آگئی، لیکن اس مرتبہ ہزاروں افراد کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

ترکی کی عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آگئی، لیکن اس مرتبہ ہزاروں افراد کس کے ...
ترکی کی عوام ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آگئی، لیکن اس مرتبہ ہزاروں افراد کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کے وزیر خارجہ کو ہالینڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے پر ترک صدر رجب طیب اردگان کی طر ف سے شدید ردعمل سامنے آیا جس پر دونوں ممالک کے تعلقات کی کشیدگی عروج کو پہنچ چکی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے ہیں۔ ہالینڈ نے ترک سفیر کو ملک سے نکال دیا ہے جبکہ ترکی نے بھی بیرون ملک موجود ہالینڈ کے سفیر کو واپس ترکی آنے سے روک دیا اور انقرہ میں موجود ہالینڈ کا سفارتخانہ سیل کر دیا ہے۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو گزشتہ دنوں عوامی اجتماع سے خطاب کے لیے ہالینڈ پہنچے تو ان کے طیارے کو روٹرڈیم میں اترنے کی اجازت نہ ملی جس پر ترک شہری مشتعل ہو گئے اور انہوں نے روٹر ڈیم سمیت ہالینڈ کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج کیا۔ پولیس اور مظاہرین کیدرمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے ترکی کے جھنڈے اٹھائے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا جس سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ترک وزیر خارجہ کو روٹر ڈیم میں داخل ہونے سے روکنے پر ترک صدر طیب اردگان نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہالینڈ کی حکومت کو نازیوں کی باقیات قرار دے دیاجس کے بعد انقرہ میں ہالینڈ کا سفارتخانہ بھی سیل کر دیاگیا۔قبل ازیں ترکی کی وزیر برائے سوشل پالیسیز کو بھی ہالینڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب نہیں کرنے دیا گیا تھا، فاطمہ کایا نے آئندہ ماہ ترکی میں ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے تقاریب میں شرکت کرنا تھی، تاہم ڈچ پولیس نے انہیں ملک بدر کردیا تھا۔

ترک وزراء کو اجتماعات سے خطاب کرنے سے روکنے پر ہالینڈ کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ عوامی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ترکی میں آئندہ ماہ ایک آئینی ریفرنڈم کا انعقاد ہو رہا ہے جس کے لیے سیاسی مہم جرمنی اور ہالینڈ میں بھی چلائی جا رہی ہے جہاں ترک باشندے بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ اس مسئلے پر پہلے ترکی اور جرمنی کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی اور اب ہالینڈ اور ترکی کے تعلقات بھی کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -