سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی

سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی
سی پیک سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی

  

 آ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف دشمن کے ایجنڈے سے بخوبی آگاہ اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ سی پیک منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے چین کی مدد کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

پاک فوج سی پیک کی حفاظت اوراس پر کام کرنے والوں کی سیکیورٹی کے لئے الرٹ اور پُرعزم ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقے میں معاشی محرومی سے نجات اور امن و خوشحالی کے نئے دور کے آغاز سے نہ صرف پاکستان کے لئے ’’گیم چینجر ‘‘ ثابت ہو گی، بلکہ پورے خطے کی تقدیر بھی بدل کر رکھ دے گی۔ پاکستان اور چین یک جان دو قالب ہیں۔ چین دنیا بھر میں پاکستان کی عزت کا محافظ ہے، اس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی اور تنہا نہیں چھوڑا۔سی پیک منصوبے کی تاریخی، تزویراتی اور اقتصادی اہمیت اگرچہ اب کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ قوم جمہوری حکومت کی جانب سے معاشی ثمرات کی منتظر بھی ہے،جبکہ اس اہم ترین قومی اقتصادی منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ پہلی بار اس کی نشاندہی ایک اعلیٰ چینی عہدیدار نے کی ہے۔چین نے بھارت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بلوچستان یا پاک چین اقتصادی راہداری کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو چین بلا تاخیر اسے منہ توڑ جواب دے گا۔ بھارت کا کوئی بھی اقدام صرف پاکستان کے خلاف ہی نہیں ہو گا، بلکہ اس کے نتیجے میں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ چین کو خدشہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں موجود حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر کے چین اور پاکستان کے درمیان 46ارب ڈالر کی لاگت سے جاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ زمینی حقائق سے جڑے اندیشے ہیں، جنہیں ارباب اختیار بلوچستان کی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں۔ بھارتی مذموم عزائم سے ہمہ وقت خبردار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایا وتی کے بقول نریندر مودی کی حکومت ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان سے جنگ چھیڑ سکتی ہے۔ دیگر بھارتی سیاست دان اور اپوزیشن لیڈر بھی مودی کے خبث باطن کے کئی گوشوں کو بے نقاب کرچکے ہیں۔ سی پیک منصوبہ عالمی مفاد پرست قوتوں کے گٹھ جوڑ کا شرمناک مشترکہ ہدف بھی بن سکتا ہے۔

سی پیک محض ایک سٹرٹیجک معاہدہ نہیں،بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان عشروں پرانی دوستی کی اعلیٰ اور تاریخی مثال بھی ہے۔ 46 ارب ڈالر میں سے 18 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے،جبکہ 17 ارب ڈالر پائپ لائن میں ہیں۔ سی پیک منصوبہ صرف روڈ نیٹ ورک نہیں، بلکہ پورا فریم ورک ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بتایا ہے کہ سی پیک کے تحت پانچ صنعتی زون قائم کئے جارہے ہیں۔ ہر صوبے میں ایک ایک صنعتی زون قائم کیا جائے گا۔ اقتصادی ترقی کے لئے ہمیں پہلے تو سلامتی کے چیلنجوں پر قابو پانا ہو گا۔ چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے کہاکہ خطے کی ترقی چین کادیرینہ خواب ہے ۔ چین پاکستان کو اپنا آئرن فرینڈ سمجھتا ہے۔اقتصادی راہداری سے پاکستان میں تیز ترین ترقی ہوگی۔ دشمن ملک کی ایجنسیاں سی پیک کوناکام بنانے کے لئے گلگت،بلتستان میں حالات خراب کرنا چاہتی ہیں۔بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کے لئے مداخلت کررہا ہے۔حالات خراب ہو گئے تو بڑا نقصان ہوگا اور ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی۔ سیاحت متاثر ہو گی، امن دشمن قوتوں کا راستہ روکنے کے لئے سیکیورٹی بہت سخت کردی گئی ہے۔ خطے کے داخلی اور خارجی راستوں پرچیکنگ انتہائی سخت کی گئی ہے۔ امن خراب کرنے والوں کو علاقے میں گھسنے نہیں دیں گے۔امن دشمن عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔

نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد ہورہا ہے۔ اس پلان کے تحت ان تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو گی جو فرقہ واریت اور لسانیت کو ہوا دے رہے ہیں، نیز ریاست کے خلاف کام کررہے ہیں۔اس بات میں شبہ نہیں کہ سی پیک کے دشمن اس کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں، جنہیں مل جل کر ناکام بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان انکشاف کر چکے ہیں کہ بھارتی سفارت کاروں کے طالبان سے رابطے تھے اور اس امر کے ثبوت مل گئے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بھارت کی ان کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جائیں اور کراچی، گلگت اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت اس حوالے سے اپنے سفارت کاروں کو بھی استعمال کر رہا ہے۔پاکستان کے بھارتی سفارت خانے میں کام کرنے والے پانچ اہلکار سی پیک کے خلاف سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر کام کر رہے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے مجوزہ روٹ پر جس طرح گزشتہ کچھ برسوں سے دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، انہیں دیکھ کر پاکستان کے عوام اور عالمی برادری نے پہلے ہی اندازہ لگا لیا ہے کہ کوئی قوت ایسی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ سی پیک کے منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو۔ سی پیک کی وجہ سے اس خطے میں جو نئی صف بندی ہو گی،اس میں پاکستان کی اہمیت زیادہ اجاگر ہو گی اور بھارت کی اہمیت کم ہو گی۔

چین،روس اور پاکستان کی تثلیث کو ایک نئی عالمی طاقت کے ابھرنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تثلیث کے ساتھ ترکی اور ایران بھی اتحاد کرسکتے ہیں اور اس خطے میں ایک نیا بلاک بن سکتا ہے جو عالمی سطح پر انتہائی طاقتور بلاک ہو گا، کیونکہ مذکورہ بالا ملکوں کے معاشی مفادات انہیں ایک دوسرے کے قریب لارہے ہیں۔ بھارت اس ممکنہ اتحاد یا بلاک میں اپنی مناسب پوزیشن نہیں دیکھ رہا اور وہ اس سے خوف زدہ بھی ہے۔ بھارت یہ بھی سمجھتا ہے کہ سی پیک سے نہ صرف پاکستان کو فائدہ ہو گا،بلکہ چین پہلے سے بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرے گا۔ سی پیک پر عمل درآمد نہ ہونے سے علاقائی اور عالمی سطح پر وہ صف بندیاں نہیں ہوں گی ، جو اس وقت ہو رہی ہیں اور جن کی وجہ سے بھارت اپنی حیثیت کھو رہا ہے،اس لئے بھارت سی پیک کے منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

مزید :

کالم -