آرمی چیف کی للکار، پارلیمان اور عوام کا عزم

آرمی چیف کی للکار، پارلیمان اور عوام کا عزم
 آرمی چیف کی للکار، پارلیمان اور عوام کا عزم

  

تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں جب بھی ملکی مفاد میں بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے تو دشمن شرارتوں ، ذلالتوں، کدورتوں کے خوفناک جال بچھا دیتے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا سوچا تو اُنہیں ہر طرح کے لالچ، خوف اور دھمکیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر نواز شریف کے آہنی ارادے کے سامنے کوئی دباؤ ،دھمکی یا پریشر قدم نہ جما سکا۔ اِن دِنوں بھی ہم ایک عظیم ’’بم‘‘ کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں یہ بم کسی مہلک ہتھیار کی شکل میں نہیں، بلکہ ’’سی پیک‘‘ کی صورت میں ہے جو ہماری معیشت، ترقی و کامرانی، نئے سماج پاکستان کے نئے روپ، نئے ر نگ ڈھنگ اور نئے نین نقش کا عکاس ہے۔ سی پیک صرف ہمارے لئے ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ایسا میٹھا چشمہ ہے جس کا پانی آئندہ نسلوں کی شادابی و سیرابی کے لئے ناگزیر ہے، صد شکر کہ اِس بار دشمن کو مُنہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔ اس کا کوئی داؤ پیچ کار گر ثابت نہیں ہو رہا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کے دوران واشگاف الفاظ میں دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اِس عزم کا اعادہ کر چکے ہیں کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششوں کو خاک میں ملا دیں گے۔ آرمی چیف نے ردّالفساد آپریشن کو مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فسادیوں اور دہشت گردوں کے بلا امتیاز خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے معصوم پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

صد شکر کہ اِس بار ہم جاگ رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف، پاک فوج اور باشعور پاکستانی ایک ’’پیج‘‘ پر ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ ماضی سے سبق سیکھنا ہے۔ تلخ تجربات کو یاد رکھنا ہے، اِس سے قبل جب بھی ہم کسی عظیم منصوبے کی طرف بڑھتے تھے تو ہمیں تقسیم کر دیا جاتا تھا، اداروں کے درمیان لڑائی کروا دی جاتی تھی، ہمارا اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا تھا، قوم کی یکجہتی کا شیرازہ بکھیر دیا جاتا تھا۔ آمریت اور جمہوریت کے درمیان چوہے بلی کا عجیب و غریب کھیل یوں شروع ہوتا تھا کہ ہماری کئی دہائیوں کو کھا جاتا تھا، اداروں کے درمیان تصادم کے اِس خوفناک کھیل میں نہ صرف پارلیمنٹ، سیکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان کھینچا تانی رہتی تھی،بلکہ عدلیہ جیسے معزز ادارے کی افادیت کم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا تھا۔ صد شکر کہ سی پیک کے معاملے میں ہم ہر طرح کی سازش کا سر کچلنے کے لئے متفق و متحد ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ سی پیک کے دشمنوں کو سخت پیغام دینا اِس بات کا غماز ہے کہ ہم کھلے کانوں، کھلی آنکھوں سے نہ صرف دشمن کو پہچانتے ہیں،بلکہ اس کی حرکات و سکنات کو سُن اور دیکھ رہے ہیں۔ اب دشمن کا ہر وار خالی جا رہا ہے، ہم نہ صرف دشمن کی جھنجھلاہٹ سے محظوظ ہو رہے ہیں، بلکہ اس کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے سی پیک کی طرف ثابت قدمی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ دشمن ہماری راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش میں آخری حد تک جائے گا، مگر پاکستانی قوم کا بھی آخری فیصلہ ہے کہ ہم نے دشمن کو ہر حد اور سرحد پر پسپا کرنا ہے۔ بے شک دہشت گردی ہمارے لئے ’’روگ‘‘ کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ پارلیمنٹ، فوج اور عوام کا عہد ہے کہ ہم نے اِس ’’پھنیئر‘‘ کا سر کچل کر دم لینا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے کاٹ پھینکنا ہے اس میں شک نہیں کہ لاہور اور سیہون شریف میں ہونے والے خود کش حملے ایک طرف پی ایس ایل فائنل رکوانے کے لئے کئے گئے تھے اور دوسری جانب ایسے حملوں کا مقصد سی پیک سے ہماری توجہ ہٹانا ہوتا ہے، بلکہ دہشت گردی کے ایسے سب واقعات سی پیک کی راہ کے پتھر ہیں،ایسے تمام پتھروں کو ہٹانے کے لئے ہی پاک آرمی نے پارلیمان کے ہم قدم ردّالفساد شروع کیا ہے اور دشمن سمیت دُنیا کو بروقت باور کرایا ہے کہ ہم سوئے نہیں،جاگ رہے ہیں، بلکہ بار بار کی ٹھوکروں سے ہماری آنکھیں کچھ زیادہ ہی کھل گئی ہیں اور اب ہم صرف ناک کی سیدھ میں ہی نہیں دیکھ رہے،بلکہ آگے پیچھے، دائیں بائیں چاروں اور کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی منصوبہ سازی،سالمیت اور امن کو تہس نہس کرنے والے ہر دشمن کو بروقت روکنے، بلکہ مار گرانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت پاک فوج اور عوام بالآخر اِس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ صرف خود کش بمبار ہی دہشت گرد نہیں، بلکہ ہمارا ہر وہ دشمن دہشت گرد اور خود کش بمبارہے جو ہماری ترقی کی راہ میں حائل ہے، جو ہمیں بھوکا، ننگا دیکھنا پسند کرتا ہے، جو ہمارے مستقبل کی راہ کا پتھر ہے اور جو ہمیں ہنستا کھیلتا آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔ ہم اپنے ہر طرح کے دہشت گرد، خود کش بمبار دشمنوں سے نہ صرف آگاہ ہیں، بلکہ یہاں تک جانتے ہیں کہ کون ہمیں خود کش جیکٹ سے مارنا چاہتا ہے اور کون نام نہاد سیاست اور گھٹیا ’’اسلوب‘‘ کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔آخر میں ترقی پسند اور جدید لہجے کے منفرد شاعر جناب عابد حسین عابد کی نظم پیش خدمت ہے۔ یہ نظم ان سب خود کش حملہ آوروں کے لئے ہے جو ہمیں جانی، مالی،اقتصادی، سماجی، معاشی، سیاسی سطح پر مارنے کے ناپاک عزائم رکھتے ہیں اور دن رات، سوتے جاگتے،اُٹھتے بیٹھتے ہماری تباہی و بربادی کے خواب دیکھتے ہیں،عابد حسین عابد کہتے ہیں

کہاں سے آئے ہو

تم کون ہو قاتل

تمہارا اس زمین سے واسطہ کیا ہے

یہاں جو موت تم تقسیم کرتے ہو

تمہارا خوف ہے

اک دن تمہیں ہی مار ڈالے گا

ہمیں معلوم ہے تم کس کے کہنے پر

ہماری بستیاں ویران کرتے ہو

عبادت گاہ پر حملہ

بھرے بازار میں بارود سے جسموں کے سو ٹکڑے

کہیں معصوم بچوں کے بدن کو چیرتی گولی

تمہارے ’’کارنامے‘‘ ہیں

مگر تم اس پرنازاں ہو

جہالت اور کیا ہو گی۔

یقیں جانو! تمہارے جسم میں اک دِل نہیں

بے جان پتھر ہے

تمہاری فکر جامد ہے تمہاری سوچ پتھر ہے

بہادر ہو تو چھپ کے وار کیسا

سامنے آؤ

ہمیں میدان میں موجود پاؤ گے

ارادے گولیوں سے کب بھلا کمزور پڑتے ہیں

لہو نکلے تواپنا راستہ بھی خود بناتا ہے۔

کہو تم کون ہو آخر۔۔۔

تمہیں انساں کہوں تو بھیڑیئے ناراض ہوتے ہیں

بتاؤ کیا تمہاری مجرمانہ کارروائی ارتقاء کو روک سکتی ہے

سنو بزدل کہ مستقبل ہمارا ہے

مزید :

کالم -