مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ نہیں

مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ نہیں

  

پاکستان سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدلیہ کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ ادارے خصوصاً انتظامیہ اپنی ذمے داریاں احسن طریق سے ادا کرے تو درپیش مسائل آسانی سے حل کئے جاسکتے ہیں۔ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ نہیں، مطلوبہ وسائل مہیا کرنا حکومت کا کام ہے۔ فاضل جج صاحبان نے بتایا ہے کہ صرف چار ہزار جوڈیشل افسروں اور ججوں کے ذریعے اٹھارہ لاکھ سے زائد مقدمات کو نمٹانے کا کام بہت بڑا چیلنج ہے۔ عام عدالتیں مطلوبہ وسائل کے ساتھ صحیح کام کریں تو خصوصی عدالتوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ججوں کو درپیش مسائل حل کئے بغیر ریفارمز کامیاب نہیں ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ان خیالات کا اظہار پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پائلٹ کریمینل جسٹس پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ بات درست ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر پر بعض اوقات عدلیہ کی کارکردگی زیر بحث لائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں زمینی حقائق اور درپیش مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں سے عدالتوں میں ججوں کی کمی کا مسئلہ چلا آرہا ہے۔ پولیس تفتیش اور چالان مکمل کرنے میں عموماً تاخیر کی جاتی ہے۔ گواہوں کی حاضری اور وکلا کی مصروفیات کے باعث بھی سماعت ملتوی ہوتی رہتی ہے۔ ججوں کا موقف یہی رہا ہے کہ وسائل کی کمی سے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی رفتار سست رہتی ہے۔ بالآخر یہ بوجھ اعلیٰ عدلیہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔جہاں تک مقدمات کو نمٹانے کی بات ہے تو اس حوالے سے یہ کہنا درست لگتا ہے کہ اگر پولیس مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں عدلیہ کی معاونت کرتی رہے تو موجودہ سسٹم میں بھی بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ صرف مقدمات نمٹانا اصل کام نہیں، انصاف کے لئے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ فیصلہ کتنا معیاری اور بروقت ہے۔ متعلقہ حلقوں کی رائے یہ ہے کہ اگر پولیس، جیل حکام، پراسیکیوشن اور وکلاء سمیت تمام سٹیک ہولڈرز اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریق سے ادا کریں تو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ سیمینار میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ مقدمات میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ نہیں، خصوصاً انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرے تو صورت حال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس پہلو پر اعلیٰ حکومتی حلقوں کو توجہ دینی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس، وکلاء اور عدلیہ میں ریفارمز کے کام کو بھی اہمیت دی جائے اور پیشرفت کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔

مزید :

اداریہ -