معافی کی گنجائش نہیں (دوسری و آخری قسط)

معافی کی گنجائش نہیں (دوسری و آخری قسط)
 معافی کی گنجائش نہیں (دوسری و آخری قسط)

  

پاکستان کو سیکس فری سوسائٹی بنانے کے عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا خبیث افراد سے کسی بھی قسم کی نرمی برتنا عوامی غیظ و غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بیرونی ممالک کی خوشنودی اور پیسوں کے حصول کے اس کھیل میں بعض افراد سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی شریک ہونے سے باز نہیں آرہے۔

لبرل ازم کے نام پر شراب نوشی اور بدکاری کرنے والے اس ٹولے کا حصہ ہیں۔ ان کے منہ سے کبھی اسلام اور مقدس شخصیات کی حمایت میں کوئی بات سننے کو نہیں ملے گی۔ البتہ اگر کوئی مردود قانون کے شکنجے میں آجائے یاپھر عوامی آراء اس کے خلاف آنا شروع ہو جائیں تو موم بتیاں لے کر سڑکوں، چوراہوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور یہاں کے ماحول کو کوستے ہیں۔ ان سب کو کھلا چیلنج دیاجا سکتا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر وہاں کی عوام کے مذہبی عقائد کے خلاف بات کر کے تو دکھائیں۔ کپڑے اتارنا تو معمولی بات کھال ہی کھینچ لی جائے گی اور تو اور ان سب کے ’’ابو جان‘‘ نریندر مودی کے سامنے کوئی ہندو دھرم کے خلاف متنازعہ بات کر کے دکھائے۔

چلیں یہ مشکل لگتا ہے تو پھر ذات، پات کی ہندوانہ روایت کے خلاف ہی کھلے عام بات کرے لگ پتہ جائے گا۔ لبرل ازم کے نام پر غلاظت بکھیرنے والے دراصل انتہائی گھٹیا درجے کے بدبودار متعصب ہیں۔ ان کا سارا زور اسلامی شعائر اور دینی شخصیات اور پاکستان پر ہی چلتا ہے۔ دین کی بات آنے پر ان کو موت ہی پڑ جاتی ہے۔ جب ان لبرلز کے ’’بڑے ابا جان‘‘ جارج بش نے صلیبی جنگ کا نعرہ لگایا تھا تو کسی کو یہ کہنے کی توفیق نہ ہوئی کہ امریکی صدر مذہبی شدت پسند ہے۔ اب ان کے حالیہ ’’بڑے ابا‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو پالیسیاں اختیار کررکھی ہیں اور جس طرح سے صدارت کا حلف بائبل ہاتھ میں پکڑ کر اٹھایا ہے اس میں بھی ان کو کوئی مذہبی پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان کو امن و امان کے حوالے سے ابھی بے شمار چیلنج درپیش ہیں۔ ملکی بھی، علاقائی بھی اور بین الاقوامی بھی۔ مذہبی منافرت ایک ایسا خوفناک ’’ایٹم بم‘‘ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر عبرتناک تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ مذہبی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ بھائی چارے کی باتوں میں زیادہ وزن نہیں۔ ہم جانے انجانے میں اختلافات کو بڑھاوا دینے کے عمل میں شریک ہیں۔ بین الاقوامی طاقتیں اس ساری صورت حال کو بھانپ کر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کررہی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مقدس مذہبی شخصیات کی توہین کی جائے اور اس کا جواب نہ آئے۔ وہ بھی پر تشدد، یقیناًحالات کو سدھارنا حکومت کا ہی کام ہے لیکن اس کے لیے تمام سٹیک ہولڈروں کو پوری طرح سے ساتھ چلنا ہو گا۔ منافرت پر قابو پانے کیلئے پہلے ہی سے کافی قوانین موجود ہیں مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیسے کرایا جائے۔ نیشنل ایکشن پروگرام کی آڑ میں سول حکومت کو موقع ملا کہ اپنی روایتی حریف اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیتے ہوئے کارروائیاں کرے۔ کسی حدتک ایسا ہوا بھی مگر پھر کہیں کام چلتے چلتے رک جاتا ہے یا پھر کسی طاقتور کے کہنے پر روک دیا جاتا ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا مذہبی اجتماعات کیلئے اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے کڑی شرائط عائد کر دی گئی تھیں۔ سول انتظامیہ اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی تھی۔ ان دنوں پھر پالیسی میں جھول آیا محسوس ہورہا ہے۔ سڑکیں اور چوک بلاک کر کے رات رات بھر اجتماعات منعقد کیے جارہے ہیں۔ بڑے بڑے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے نعرے بازی کر کے پورے پورے علاقوں کو خلل سے دو چار کیا جارہا ہے۔ یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے؟

پچھلے دنوں ایک دانشور ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے کے باوجود نہایت وضع داری اور احتیاط سے لکھنے والی شخصیت نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ منافرت کو برقرار رکھنے کے لیے بعض حلقے شعوری طور پر سرگرم ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ مذہبی منافرت کا جن اگر ایک بار بے قابو ہو گیا تو سب کچھ ملیا میٹ ہو سکتا ہے۔ داعش کی صورت میں موجود آج کا سب سے بڑا’’ عفریت‘‘ خواہ امریکہ کی تخلیق کیوں نہ ہو اس امر سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی بنیاد بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر رکھی گئی۔ اب اس پر قابو پانے کے لیے امریکہ، روس اور پوری دنیا کو میدان میں آنا پڑ رہا ہے۔ حالات اچھے نہیں، ہم آہنگی بھی محض اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے کہ جب مذہبی منافرت روکنے کے لیے بنائے جانے والے قوانین پر سو فیصد مؤثر عمل درآمد کرایا جائے۔ ان قوانین کو سخت سے سخت ترین بنایا جائے۔ ایسی کارروائیوں میں ملوث ’’شیطان زادوں‘‘ کوامریکہ کی حمایت ہو یا بھارت کی یا پھر کسی تیسرے ملک کی ہر گز معاف نہ کیا جائے۔ سول حکمران اپنی ٹانگوں میں جان پیدا کریں۔ اسٹیبلشمنٹ نیک نیتی سے مدد کو آئے۔ واحد حل یہی ہے ایسا نہ ہوا تو لوگ قانون ہاتھ میں لینا شروع کر دینگے۔ بات خانہ جنگی کی طرف بھی جا سکتی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ، پیغمبر اسلام، شعائر اسلام اور مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی برداشت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لبرل ازم کے نام پر غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا گروہوں کو قانون کے آہنی شکنجے سے جکڑا جائے۔ بے غیرت بلاگرز کو انجام تک پہنچایا جائے۔ اس حوالے سے اگر مگر کی پالیسی ترک کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک بشمول مسلم ممالک اپنے ہاں اس نوع کی کسی ’’آزادی‘‘ کی اجازت دیتے ہیں کیا؟ ہر گز نہیں ہم نے ہر بے غیرتی اور منافرت اپنے ہاں درآمد کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا؟عالی مرتبت جسٹس شوکت صدیقی نے بالکل درست ریمارکس دئیے ہیں کہ مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی کرنے والے ہی حقیقتاً سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ بھینسا ہو یا گینڈا، کتے ہوں یا سور سب کو پکڑا جانا چاہیے۔ جج صاحب نے بالکل درست کہا۔ عوام کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ ان بدبودار متعصب ٹولے سے تعلق رکھنے والے ان گستاخ بلاگرز کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر کائنات کی مقدس ہستیوں کی توہین کرنے والے یہ افراد اس معاشرے کیلئے ناسور ہیں۔ بدکردار، بدبودار اور بے ضمیر :

اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں

اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

مزید :

کالم -