مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ

مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ
 مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ

  

تصورِ پاکستان کے خالق، شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے ایک زبردست تحقیقی کتاب لکھنے کے بعد ممتاز محقق سید سلطان محمود حسین نے یہ فیصلہ کیا کہ پوری حیات اقبال کو بھی عہدبہ عہد مستند حوالوں کے ساتھ نئی نسل کے لئے ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کردیا جائے۔ اس اہم کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد سلطان محمود حسین کو یہ شوق لاحق ہوا کہ علامہ محمد اقبالؒ کی مادرِ علمی مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ سے بھی پردہ اٹھنا چاہیے، چونکہ آج تک کسی محقق نے اس طرف توجہ نہیں دی۔علامہ اقبالؒ نے جس سکاچ مشن سکول سیالکوٹ سے اپنی پرائمری، مڈل اور دسویں جماعت تک تعلیم مکمل کی تھی، اسی سکول میں 1889ء میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں کا بھی آغاز کردیا گیا۔ اس کالج کے پہلے پرنسپل ڈبلیوینگ سن مقرر ہوئے اور یہ کالج پرنسپل کے علاوہ صرف دو پروفیسرز پر مشتمل تھا، جن میں ایک مولوی میر حسن تھے۔ مرے کالج سیالکوٹ کا ابتدائی نام سکاچ مشن کالج تھا۔ اس کالج کے انٹرمیڈیٹ کے طلباء نے آرٹس کے مضامین میں اپنا پہلا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام دیا اور 1891ء کے پنجاب یونیورسٹی کے نتائج کے مطابق سکاچ مشن کالج سیالکوٹ کے اولین Batchکے 6طلباء کامیاب قرار پائے۔سکاچ مشن کالج کی تاریخ میں 1893ء کا سال اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سال محمد اقبالؒ ایک طالب علم نے فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا۔ یہی محمد اقبال مستقبل کے ڈاکٹر سر محمد اقبال تھے۔ مرے کالج سیالکوٹ کی 75سالہ تاریخ 1889-1963)ء(میں سلطان محمود حسین نے یہ دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ محمد اقبال کی بارات 4مئی 1893ء کو سیالکوٹ سے گجرات گئی۔

بارات میں محمد اقبال کے محبوب ترین استاد مولوی سید میر حسن بھی شریک تھے۔ 5مئی 1893ء کو محمد اقبال کالج میں داخلہ لیتے ہیں۔ اپنی شادی سے صرف ایک دن بعد محمد اقبال کی کالج کی زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ 1895ء میں جب محمد اقبال سیکنڈ ڈویژن میں انٹر میڈیٹ کے امتحان میں پاس ہوتے ہیں،اس وقت پرنسپل سمیت کالج کے اساتذہ کی تعداد 5تھی،جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء کی کل تعداد 21تھی۔

اس دور میں کالج کے پرنسپل مسٹر جارج واگھ تھے جو انگریزی اور فلسفے کے استاد تھے۔ جارج واگھ 1895ء سے 1905ء تک سکاچ مشن کالج کے پرنسپل رہے۔ دوسال کے وقفے کے بعد جارج واگھ 1908ء سے 1912ء تک دوبارہ سکاچ مشن کالج میں پرنسپل کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 1909ء میں علامہ اقبالؒ کی مادر علمی کو ایک نئی عمارت میں منتقل کردیا گیا۔ یہ نئی عمارت 5کلاس رومز پر مشتمل تھی۔ اب کالج کو لیبارٹری اور ایک ہال بھی میسر آگیا۔ کالج میں پرنسپل کے لئے الگ دفتر اور طلباء کے لئے بورڈنگ ہاؤس بھی تعمیر ہوگئے۔ کالج کی نئی عمارت کا افتتاح پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر لوئیس ڈین نے کیا۔ فوج کے ایک کیپٹن مرے مرحوم کے ورثاء نے کالج کی نئی عمارت کے لئے 1500پونڈز کا عطیہ دیا اور سکاچ مشن کالج کو مرے کالج کا نام دے دیا گیا۔ علامہ اقبالؒ کے دورِ طالب علمی کے پرنسپل جارج واگھ سکاچ مشن کالج کے مختصر سے سٹاف سمیت جو صرف چار اساتذہ پر مشتمل تھا، سکول کی بلڈنگ چھوڑ کر کالج کے لئے تعمیر کی گئی نئی عمارت میں منتقل ہوگئے۔مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ بتاتی ہے کہ 1891ء سے 1911ء تک 21سال میں مجموعی طور پر 122طلباء اپنے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں کامیاب رہے۔اسی مرے کالج سے فیض احمد فیض نے 1929ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ مارچ 1928ء میں علامہ اقبالؒ کے عظیم استاد مولوی سید میر حسن بھی اپنی بصارت کے تقریباً ختم ہو جانے کے باعث مرے کالج سیالکوٹ سے ریٹائر ہوگئے۔ بہر حال فیض احمد فیض کو تقریباً ایک سال تک سید میر حسن سے عربی اور فارسی زبان کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع میسر رہے۔ مرے کالج کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 1927ء میں یہاں اکنامکس اور انگریزی کے ایک استاد عطاء اللہ بھی تھے، جنہوں نے علامہ اقبالؒ کے خطوط پر مشتمل ’’اقبال نامہ‘‘ کے نام سے ایک انتہائی اہم اور قابل حوالہ کتاب ترتیب دی تھی۔ عطاء اللہ کے ایک بیٹے مختار مسعود( سابق بیوروکریٹ) نے بھی تین کتابیں لکھ کر اردو ادب میں بہت شہرت حاصل کی۔ ان کی ایک کتاب ’’ آواز دوست‘‘ تو بہت ہی مشہور ہوئی تھی۔ باقی دو کتابیں ’’سفر نصیب‘‘ اور ’’لوحِ ایام‘‘ ہیں۔

مرے کالج سیالکوٹ کے ایک استاد خواجہ عبداللطیف تھے۔ وہ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ ان کے دو بیٹے راحت لطیف فوج میں میجر جنرل اور وجاہت لطیف آئی جی پولیس رہے۔ یہ دونوں مرے کالج سیالکوٹ ہی کے اولڈ سٹوڈنٹس ہیں۔ فوج اور بیوروکریسی میں مرے کالج سے فارغ ہونے والے بہت سارے طلباء ممتاز عہدوں پر فائز رہے، لیکن ان کی تفصیل اس کالم کا موضوع نہیں۔ سید سلطان محمود حسین نے بھی اپنی تحقیق کا رخ اس طرف نہیں پھیرا۔ اس کے لئے غالباً الگ سے تاریخ مرتب کرنا ہوگی۔1889ء سے 1963ء تک مرے کالج سیالکوٹ میں پرنسپل کے منصب پر 18پروفیسرحضرات مختلف اوقات میں فائز رہے ہیں۔ ان کے سوانحی خاکے بھی مختصر طور پر کتاب میں شامل کردیئے گئے ہیں۔ یہ تمام پروفیسرز انگریز تھے اور ایک مشن کے طور اپنے خاندان اور آبائی وطن چھوڑ کر مختلف ادوار میں صرف تعلیم و تدریس کی خدمات سرانجام دینے کے لئے سیالکوٹ آتے رہے۔ مختلف اوقات کے دوران جو استاد مختلف مضامین پڑھانے کے لئے مرے کالج سیالکوٹ سے وابستہ رہے، وہ تمام تفصیلات بھی مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ میں محفوظ کردی گئی ہیں، لیکن 1963ء کے بعد نصف صدی اور بیت چکی ہے، کسی اور صاحب جنون کو آگے بڑھنا چاہیے اور 1963ء سے 2017ء تک (54سال) کے عرصے کی بھی تاریخ محفوظ کردینی چاہیے۔ سلطان محمود حسین نے اپنے حصے کا جو کام مکمل کردیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ سید سلطان محمود حسین سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ وہ اب کافی ضعیف ہیں۔ ان کا بڑھاپا اور صحت کی کمزوری دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اپنی تمام تر جسمانی اور دماغی طاقت اپنے تحقیقی کاموں کی نذر کر چکے ہیں۔ ایثار اور قربانی کی یہ بھی ایک منفرد مثال ہے کہ ایک شخص اپنی تمام دماغی صلاحیتوں کو نچوڑ کر اپنی کتابوں میں منتقل کردے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہو سکیں۔سید سلطان محمود نے صرف مرے کالج سیالکوٹ کی تاریخ ہی نہیں لکھی، بلکہ تقریباً آٹھ دوسرے تعلیمی اداروں کی تاریخ کے حوالے سے بھی ان کی گراں قدر کتب شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں گورنمنٹ کالج لاہور، پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور، دیال سنگھ کالج لاہور،ایڈورڈز کالج پشاور، گارڈن کالج راولپنڈی،کنیئرڈ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج لاہور بھی شامل ہے۔ ان کے تحقیقی کارناموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ جو کام بڑے بڑے منظم اداروں کے کرنے کے ہیں، وہ سلطان محمود حسین نے اپنے محدود وسائل کے باوجود تن تنہا سرانجام دیئے ہیں۔

مزید :

کالم -