غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

غلطی ہائے مضامین مت پوچھ
 غلطی ہائے مضامین مت پوچھ

  

لاہور کے مشہور اشاعتی ادارے فیروز سنز کی شائع کردہ چھوٹے سائز پر مزمل احمد کی تالیف ’’اُردو ضرب الامثال اور کہاوتیں‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔مولف نے دو صفحے کا پیش لفظ لکھا ہے، جس میں اُنھوں نے مثال کے طور پر دو ایسے مصرعے پیش کئے ہیں جو ضرب المثل بن گئے۔ایک تو آتش لکھنوی کا مصرع ہے جو ٹھیک ہی ہے:

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ایک مشہور مصرع میر حسن کے نام لگا دیا گیا ہے:

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

جبکہ یہ مشہور زمانہ مصرع مولانا الطاف حسین حالی کا ہے ، مسدس حالی میں اِس شعر کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے:

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بہت سی ضرب الامثال قدیم دوہوں کے مصرعے ہیں مثلاً:

گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مُنھ لگائی ڈولنی گائے تال بے تال

اور:

اجگر کرے چاکرے پنچھی کرے نہ کام

اس مصرع میں ’’چاکرے‘‘ کی جگہ ’’چاکری‘‘ ہو گا

یعنی:

اجگر کرے چاکری، پنچھی کرے نہ کام

اسی طرح ہم تو اپنی اماں اور بہنوں سے ایک کہاوت اس طرح سنتے چلے آ رہے ہیں:

گھی بنائے سالنا بڑی بہو کا نام

یعنی اس محاورے کو فاضل مولف نے جس طرح اپنے دیباچے میں درج کیا ہے اس طرح نہیں ہے۔

]مجلہ ’’آئینہ کرم‘‘ منگانی شریف،جھنگ کا شمارہ نومبر2016ء پیشِ نظر ہے۔ یہ مجلہ ابو الحسن پیر محمد طاہر حسین قادری کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔ مذکورہ شمارے میں پیرزادہ محمد امداد حسین کا ایک مضمون ’’صوفی ازم اور عصرِ حاضر کے تقاضے‘‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ صفحہ9پر مضمون کے درمیان ایک بہت ہی مشہور بلکہ ضرب المثل شعر اس طرح درج پایا: ’’شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

جبکہ بار بار اسی کالم میں توجہ دِلا چکا ہوں یہ شعر حضرت علامہ اقبالؒ کا نہیں، مولانا ظفر علی خاں کا ہے۔ بار بار کی تصحیح اور ’’توجہ دلاؤ نوٹس‘‘ کے باوجود نجانے کیوں یہ غلط بخشی رَوا رکھی جا رہی ہے۔’’حق بہ حقدار رسید‘‘ کے تحت میں بہرحال اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہوں اور جاری رکھوں گا کہ ’’حامد کی پگڑی محمود کے سر باندھنے‘‘ کا عمل کبھی تو رُکے گا۔

یہ تو بات تھی غلط بخش�ئ شعر کی ادب ذرا آیئے غلطی ہائے اشعار کی طرف، اسی مجلہ، ’’آئینہ کرم‘‘ میں ایک نہایت وقیع مضمون پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب مدِ ظلہِ عالی کا شریکِ اشاعت ہے بعنوان:

’’علامہ اقبال اور جوانانِ ملت‘‘

علامہ اقبال کے ’’ساقی ئ نامہ‘‘ میں ایک شعر اس طرح کمپوز کیا گیا ہے:

امنگیں مری، آرزوئیں مری

اُمیدی مری جستجوئیں مری

دوسرے مصرعے میں ’’اُمیدی‘‘ نہیں ’’اُمیدیں‘‘ ہونا چاہئے۔ اتنے بڑے عالم و فاضل پروفیسر ڈاکٹر کے مضمون میں اور خصوصاً علامہ کے کلام میں پروف کی یہ غلطی ہر گز روا نہیں رکھی جانی چاہئے تھی جس سے مصرع ہی مجہول ہو جائے۔! ایڈیٹر صاحب کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے، نثر کی غلطیاں نظر انداز کی جا سکتی ہیں اور کی جا رہی ہیں مگر شعر کی ہر گز نہیں۔

’’فیروز سنز‘‘ سے اِس خاکسار ناصِر زیدی کا مرتب کردہ ’’انتخاب دیوانِ مومن‘‘ گزشتہ دِنوں پڑھتے ہوئے ’’ح‘‘ کی پٹّی میں خواہ مخواہ ہی مرزا غالب کا یہ مشہور شعر غلط سلط کر کے اس طرح ٹھونسا ہُوا ملا:

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب

گالیاں سُنا کے بے مزا نہ ہوا

اوّل تو یہاں غالب کے شعر کی گنجائش ہی نہ تھی اور وہ بھی گالیاں سن کے ہے، سنا کے نہیں۔

یاد رہے کہ مذکورہ ’’انتخاب دیوانِ مومن‘‘ کا دیباچہ بھی میرا لکھا ہوا نہیں ہے، نجانے کس سے لکھوایا گیا۔ہزار اصرار کے باوجود کتاب کے فائنل پروف مجھے نہیں دکھائے گئے۔ دیباچہ مجھ سے نہیں لکھوایا گیا اور جان بوجھ کے میرا نام بدنام کرنے کے لئے کتاب چھاپ دی گئی ، مَیں اِس کتاب ہی سے بریت کا اعلان کرتا ہوں، ایسے غیر معیاری کام مَیں نے نہ کبھی کئے ہیں، نہ کرتاہوں، نہ کروں گا۔ میرا خیال ہے یہ مجھ سے اِس بات کابدلہ لیا گیا ہے کہ جب ’’انتخاب دیوانِ میر‘‘ اسی طرح کے کسی مجہول شخص سے کرا کے چھاپا گیا اور مَیں نے498غلطیوں کی نشاندہی کر کے کتاب کو ظہیر اسلام صاحب کو توجہ دلائی تو اُنھوں نے بظاہر سر پیٹ لیا اور کہا اب اس کتاب کا کیا کِیا جائے؟ مَیں نے ارتجالاً کہا:’’اِسے جلا دیں‘‘

نامعلوم کس وقت کس کیفیت میں یہ بات مُنہ سے نکلی تھی:

میر کا حلیہ بگاڑنے پر حال مرا یہ تھا کہ

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا

فیروز سنز میں آگ لگی۔ پرانی کتابوں کا بہت سا سٹاک جل کے راکھ ہو گیا اس میں ’’انتخاب دیوانِ میر‘‘ بھی تھا گویا آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔

مزید :

کالم -