حکومت ایشیائی ترقیاتی بنک سے2ارب ڈالر کا مزید قرض لینے کا فیصلہ

حکومت ایشیائی ترقیاتی بنک سے2ارب ڈالر کا مزید قرض لینے کا فیصلہ

  

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے رواں سال2017کے دوران ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) سے دو ارب ڈالر کا مزید قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے حکومت 2013سے اب تک آٹھ ہزار ارب روپے کا ملکی و غیر ملکی قرضہ لے چکی ہے جس سے ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ بائیس ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا ہے،قرضہ توانائی،انفراسٹرکچر سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے لیا جائے گا۔دستیاب دستاویزات کے مطابق حکومت نے 2017ء میں ایشیائی ترقیاتی بنک سے 2ارب سے زائد کا قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے،قرضہ توانائی،انفراسٹرکچر سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیاجائے گا۔ پائیدار انرجی سیکٹر ریفارم پروگرام کیلئے 300ملین ڈالر،پاورٹرانسمیشن انویسٹمنٹ پروگرام کیلئے200ملین ڈالر،پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبے کیلئے200ملین ڈالر،پبلک سیکٹر انٹرپرائز ریفارم پروگرام کیلئے300ملین ڈالر،پنجاب میں انویسٹمنٹ کو سپورٹ کرنے کے منصوبے کیلئے100ملین ڈالر،کیرک کوریڈور ڈویلپمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کیلئے200ملین ڈالر،کے پی کے میں سڑکوں کے منصوبے کیلئے150ملین ڈالر،پشاور سسٹینیبل بس ریپرڈ ٹرانزٹ کوریڈور منصوبے کیلئے150ملین ڈالر،کراچی سسٹینیبل ریپرڈ ٹرانزٹ منصوبے کیلئے210ملین ڈالر اور پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپرومنٹ پروگرام کیلئے200ملین ڈالرقرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں میں حکومت کی جانب سے بھی سرمایہ کاری عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق پاکستان ایشیائی ترقیاتی بنک سے مجموعی طور پر 27.5ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے۔ دستاویزات کے مطابق ماضی کی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والی قرضوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے حکومت کو فروری 2017سے لے کر جون 2018تک ساڑھے 6 ارب ڈالرز کی غیر ملکی قرضہ ادا کرنا ہوگا بین الاقوامی غیر ملکی اداروں کا تین ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کرنا ہے بیرونی ممالک کا ایک ارب 80 کروڑ ڈالرز کا قرضہ واپس ادا کرنا ہے پاکستان کو 85 کروڑ ڈالرز کا غیر ملکی کمرشل قرضہ واپس کرنا ہے اس کے علاوہ وزارت خزانہ کو 75 کروڑ ڈالرز کی بانڈز کی ادائیگیاں کرنا ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے 8 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز بھی واپس کرنے ہیں موجودہ دور حکومت کے دور میں ملکی قرضوں میں5ہزار 255ارب اور غیر ملکی قرضوں میں ڈھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق تین سال قبل ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14ہزار 318ارب روپے تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم 9ہزار 522ارب روپے اور غیر ملکی قرضے 4ہزر 800ارب روپے تھے۔قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریبا 68فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فیسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹ لی میٹیشن ایکٹ 2005کی خلاف ورزی ہے#/s#(ولی/شہزاد پراچہ)

مزید :

کامرس -