چین پاکستان میں زرعی شعبہ کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرے

چین پاکستان میں زرعی شعبہ کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرے

  

اسلام آباد (اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے تحت چین پاکستان میں زرعی شعبہ کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرے۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی برائے ہارٹی کلچر کے چیئرمین احمد جواد نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ میں چین کی ایجادات اور ٹیکنالوجی قابل فخر ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت کم عرصے کے دوران چین کا شمار زرعی مصنوعات کے بڑے برآمد کنندگان میں ہوتا ہے ۔ اتوار کو ’’ اے پی پی ‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد جواد کا کہنا تھا کہ چین کو چاہئے کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں زرعی شعبہ کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور موسمیاتی تغیرات سے محفوظ تر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی نے اس حوالے سے چین کو باقاعدہ درخواست بھی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ پیداوار میں اضافہ کے ذریعے شعبہ کو منافع بخش بنایا جاسکے ۔ احمد جواد نے کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبہ کی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلہ میں زیادہ اچھی نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے برداشت کے بعد کے نقصانات کو بھی 20تا 40فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے جس سے شعبہ کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر نئے بیجوں کی تیاری انتہائی ضروری ہے۔

جس کیلئے اعلیٰ سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ احمد جواد نے کہا کہ زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیلئے جامع پالیسی کے تحت اقدامات کر کے پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے بھر پور استفادہ کر سکتا ہے اور پاکستان کی زرعی اجناس اور مصنوعات سمیت پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کو مشرق وسطیٰ ، یورپ ، افریقہ سمیت دیگر ممالک تک پھیلایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کی جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے اور چین کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔

مزید :

کامرس -