وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ملک میں بچت کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ملک میں بچت کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے

  

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ملک میں بچت کے کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ قومی بچت کی شرح بیس فیصد تک لے جانے کے عزم کی حمایت کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں کاروباری برادری حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی کیونکہ قومی بچت کی شرح میں اضافہ معیشت کے استحکام کیلئے بہت اہم ہے۔ قومی بچت میں اضافہ کے بغیر ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی اسلئے وزیر خزانہ کا فیصلہ درست اور بروقت ہے جسے کامیاب بنانے کیلئے عوام کو بھرپور تعاون کرنا چائیے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے سابق صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر خزانہ نے دیوالیہ ہوتی ہوئی معیشت کو مختصر مدت میں مستحکم بنا ڈالا ہے اور ملک بھر کی کاروباری برادری انکی اقتصادی پالیسیوں سے مطمئن اور مکمل حمایت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اپنی ضروریات کے تحت آئی ایم ایف اوردیگر غیر ملکی اداروں سے قرض لینے کے بجائے اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پرکشش ترغیبات کے زریعے قرض لے تو یہ بہتر حکمت عملی ہو گی اور گزشتہ روز جاری کیا گیا چالیس ہزار مالیت کا پریمئیم بانڈ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ حکومت نے بانڈ کے خریدار کا نام رجسٹر کرنے کا طریقہ اختیار کرکے ان کے زریعے کالے دھن کو سفید بنانے کا راستہ بھی بند کر دیا ہے جو اچھا قدم ہے۔ ایک لاکھ کا بانڈ بھی جلد از جلد جاری کیا جائے۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ قومی بچت میں اضافہ کیلئے ضروری ہے کہ بینک کھاتہ داروں کو جائز منافع دیں اور اس میں افراط زر کی رعایت رکھی جائے۔ کھاتہ داروں کو منفی منافع ملنے کی وجہ سے قومی بچت کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ قومی بچت کے مراکز کو بھی فعال بنانے اور انکے نیٹ ورک کو مزید پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی ان اداروں تک رسائی کو آسان بنایا جا سکے جبکہ بچت کی مختلف اسکیموں کے شرح منافع میں بار بار کی کمی بیشی سے سرمایہ کاروں میں مایوسی پھیلتی ہے جس کا حل نکالا جائے۔

مزید :

کامرس -