عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس اور بنیاد ہے، مفتی عزیزالرحمن

عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس اور بنیاد ہے، مفتی عزیزالرحمن

  

لاہور( پ ر)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و جامعہ صدیقیہ مسجد الرفیق مصطٖیٰ آباد لاہور کے زیراہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ایک وسیع عریض پنڈال میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت وفاق المدارس العربیہ پاکستان لاہورڈویژن کے مسؤل مولانا مفتی عزیزالرحمن کی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس اور بنیاد ہے،ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہمارا مذہبی اور آئینی فریضہ ہے ہرقیمت پر تحفظ کریں گے۔منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے خلاف ہماری آئینی وقانونی جدوجہد جاری رہے گی ۔شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایانے کہا کہ سب سے پہلے دہشتگردی کی ابتدا قادیانیوں نے کی۔حکومت کاقائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادکے شعبہ فزکس ڈاکٹرعبدالسلام کے نام سے منسوب کر نا اسلام اوروطن عزیزکی نظریاتی اساس کی خلاف ورزی ہے حکومت فی الفوریہ فیصلہ واپس لے عقیدہ ختم نبوت اسلام میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کاکام قربت خداوندی حاصل کرنے کے مترادف ہے،جب تک ایک بھی منکر ختم نبوت اس دھرتی پر موجود ہے ہماری پرامن تحریک جاری رہے گی۔متکلم اسلام مولانا محمدالیاس گھمن نے کہا کہ منکرین ختم نبوت اور اسلام وملک دشمن قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں نظم ونسق اور اتحاد پیداکرنا ہوگاکا بر علماء کی مسلسل محنت اور قر بانیوں کے نتیجہ میں با لآا خر 1974ء میں قا دیا نی پا کستا ن کی دستور ساز اسمبلی میں طویل بحث مباحثہ کے بعد بالاتفاق اقلیت قرار پا ئے اور یو ں عقیدہ ختم نبوت کو آئینی و دستوری تحفظ نصیب ہوا ۔ اس کے بعد 1984ء میں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور حکومت میں ایک صدراتی آرڈینینس کے ذریعے قادیا نیوں کو اسلا می شعا ئر کے استعمال سے ردک دیا گیا یہ ایک بہت بڑا معر کہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے اکا برعلماء کو کامیا بی عطاء فر مائی تا ہم قادیانیوں نے آج تک اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا ۔مولانا عزیزالرحمن ثانی نے کہا کہ قادیانی مختلف نا پا ک تد بیروں سے عا م سا دہ لو ح مسلما نوں کو مرتدبنا نے کیلئے اپنے دجل و فر یب کے جا ل پھیلائے لیکن اہل اسلام نے ان کا مقابلہ کیا۔ گستاخانہ پیجز چلانے والوں کو تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت گستاخ بلاگرز کو نشان عبرت بنائے۔ اسلام دشمن طاقتیں گستاخانہ کلچر کو عام کرنا چاہتی ہیں۔ اقوام متحدہ مقدس شخصیات کی توہین روکنے کیلئے سخت قوانین بنائے۔کانفرنس کے منتظم اعلیٰ مولانا محمدیعقوب فیض نے اپنے افتتاحی بیان میں کہا کہ ناموس رسالت کی نگہبانی ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ ہے۔ حکومت گستاخ بلاگرز کے خلاف کاروائی نہ کرکے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ نہ کرے۔ عدالت نے تحفظ ناموس رسالت کیلئے سوئی ہو ئی وزارت داخلہ کو جگایا ہے۔ گستاخانہ پیچز چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرنا حکومت کی آئینی و دینی ذمہ داری ہے۔ ہر سچا مسلمان ناموس رسالت کیلئے قربان ہو نا اعزاز سمجھتا ہے۔مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم نے کہا کہ ہماری زندگیاں ناموس رسالت کی امانت ہیں۔ حکومت شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا آغاز کرے مسلمان عمل میں کمزور ہیں لیکن عشق میں کمزور نہیں ۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن آقا کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے۔ آزادی اظہار کی حدو د وقیود کا تعین ہو نا چاہیئے۔ شہیدان ناموس رسالت امت مسلمہ کے ہیرو ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ کلچر عام کرنا اسلام دشمن طاقتوں کی سازش ہے۔ کسی بھی قسم کی نبوت ظلی بروزی وغیرہ کا عقیدہ رکھنا اسلام کے منافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے اکابرنے محنت اور جدوجہدسے آئین پاکستان کو اسلامی بنایا ہم اس کا ہر حال میں تحفظ کریں گے۔کانفرنس میں قاری احمدمیاں تھانوی،مولانا عزیز الرحمان ثانی ،پیررضوان نفیس،مولانا عبدالنعیم،،مولانا شاہدعمران عارفی،مولانا قاسم گجر،مولانا رانا محمدعثمان قصوری،قاری سید انوارلحسن شا ہ ،مولانا اسدللہ فاروق،مو لانا دوست محمد ،مولانا حسام الدین ،مولاناقادر بخش اعوان ، مولانا صوفی محمداکرم،قاری عبدالرحمن،قاری محمدشریف،قاری منصورالحق،مولانا مفتی ریاض جمیل، ،مولانا ظاہر شاہ ،مولانا عبدالوحید،شاہد اسرارصدیقی اور دیگر علماء نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر اہلِ علاقہ کا جوش و جذبہ انتہائی دیدنی تھا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -