تھر میں کوئلہ نکالنے اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

تھر میں کوئلہ نکالنے اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ

  

برائے بزنس پیج

ترقی کا عمل تیز ہونے سے تھر کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے

حامد ولید

تھر میں کوئلے کی دریافت 1990کی دہائی میں ہوئی تھی۔ اس وقت کوئلے کی دریافت وفاقی حکومت نے کی البتہ 2008میں معدنیات اور منرلز کی ذمہ داری سندھ حکومت کو دے دی گئی جس نے نجی شعبے کے تعاون سے تھر میں کوئلہ نکالنے کا کام شروع کردیا ہے۔ابتدا میں طے کیا گیا تھا کہ 3بلین ڈالر کی لاگت سے 6.5ملین ٹن کوئلہ نکال کر 1200میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگایا جائے گا۔ البتہ بعد میں اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے 660میگاواٹ کا پاور پلانٹ ابتدائی مرحلے میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے سے نجی شعبے کے لئے بھی آسانی بھی پیدا ہوگئی کہ قومی نوعیت کے اس منصوبے میں بھرپور شرکت کرسکے۔ اس وقت تھر میں چھے پاکستانی اور دو چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

تھر میں زیر عمل مائننگ کے منصوبے کی لاگت 845ملین ڈالر ہے جو اپنی مالیت کے اعتبار سے اس شعبے میں سب سے بڑا منصوبہ ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی لاگت 1.1ارب ڈالر ہے۔ سی پیک منصوبے میں بے شمار پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں جن میں تھر میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا نمبر تیسرا یا چوتھا ہے۔ پہلے نمبر پر پورٹ قاسم پر لگایا جانے والا کول پاور پلانٹ ہے، دوسرے نمبر پر ساہیوال میں لگایا جانے والا کول پاور پلانٹ ہے جبکہ تھر میں کوئلہ نکالنے والے منصوبے کا نمبر تیسرا اور یہیں پر کول پاور پلانٹ کا نمبر چوتھا ہے۔وفاقی حکومت تھر سے مٹیاری سندھ تک ٹرانسمیشن لائن بھی بچھا رہی ہے ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تھر میں کوئلے اور بجلی کے منصوبوں پر وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر کام کر رہی ہیں۔

تھر میں 175ارب ٹن کی مالیت کے کوئلے کے ذخائر ہیں جبکہ دنیا میں اس کا نمبر ساتواں ہے۔ حکومت نے ان ذخائر کو 13بلاکوں میں تقسیم کیا ہے ۔ اس وقت بلاک نمبر دو سے کوئلہ نکالا جا رہا ہے جس میں دو ارب ٹن کوئلہ کے ذخائر ہیں اور اس کوئلے سے اگلے 50سالوں تک 5000میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ کوئلے کی یہ مقدار تھر میں موجود کل ذخائر کی صرف ایک فیصد ہے۔

تھر میں کوئلہ 135میٹر کی گہرائی میں موجود ہے جس کو نکالنے کے لئے اس وقت مٹی ہٹانے کا کام تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ اس وقت تک 33میٹر کی گہرائی تک مٹی ہٹائی جا چکی ہے 2018کے چوتھے کوارٹر میں 135میٹر تک مٹی ہٹا دی جائے گی جس کے بعد کوئلہ نکالنے کا کام شروع ہو جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوں جوں کھدائی ہوتی جاتی ہے توں توں اس پر آنے والی لاگت میں کمی آتی جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئلے اور بجلی کی قیمت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے اور جونہی تھر میں 4000میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اس کی قیمت غیر معمولی حد تک کم ہو جائے گی۔

تھر میں لگ بھگ 2300افراد کوئلے کی کھدائی میں مصروف ہیں جن میں 750چینی ہیں ۔ ان کے علاوہ جاپان اور جرمنی سے بھی کچھ ماہرین وہاں مصروف عمل ہیں۔ ان کے علاوہ 1200کے قریب تھر کے مقامی افراد وہاں فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ کل ورکرز کا 50فیصد مقامی افراد پر مشتمل ہوگا۔

تھر میں تعلیم کے مواقع بہت کم ہیں، زیادہ تر افراد غیر تربیت یافتہ ہیں اور ان کو سوائے ککنگ اور ڈرائیونگ کے اور کوئی کام نہیں آتا۔اس سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ جب تک تھر سے کوئلہ نکالنے کا عمل شروع نہیں ہوا تھاتب تک مقامی سطح پر نوکری کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ حکومت سندھ اس وقت تھر کے باسیوں کو مختلف ڈسپلن میں تربیت دے رہی ہے اور 18سے 23سال کی عمر کے 250افراد کو این ایل سی نے ڈرائیونگ کی ٹریننگ دی ہے تاکہ وہ ہیوی ڈیوٹی ٹرک چلا سکیں۔ دوسرے مقامی افراد کو میسنری، پلمبری اور الیکٹریشن کے کاموں کی تربیت دی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبے میں سکیفولڈنگ کی تربیت بھی دی گئی ہے ۔ لگ بھگ 300مقامی افراد سکلڈ جاب کر رہے ہیں اور مزید کو تربیت دی جا رہی ہے۔ اگرچہ تھر میں چند نوجوان تھر سے باہر جا کر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر انجنیئر اور ٹیکنیشن بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اس وقت نجی شعبے میں چلنے والی کنسٹرکشن کی بڑی کمپنیاں مقامی لوگوں کو مختلف مہارتوں میں تربیت دے رہی ہیں۔

تھر میں دو دیہاتوں کو جو کوئلہ نکالے جانے والی جگہ پر آباد تھے کو دوسری جگہ شفٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ ان دیہاتوں کے نام سہرنی داس اور تھاریو ہالیپوتو ہے۔ ان دیہاتوں کو 2018سے قبل نئی جگہ پر شفٹ کر دیا جائے گا۔ اس کے لئے جگہ کا انتخاب کرلیا گیا ہے اور لوگوں نے رضامندی بھی ظاہر کردی ہے۔ نئی جگہ پر ماڈل ہاؤسز بنائے جائیں گے۔ تھاری خواتین کو نئی جگہ پر شفٹ ہونے کے لئے اندرون سند ھ سے لڑکیوں کو ہائر کیا گیا جنھوں نے نئی جگہ کے فوائد سے ان کو آگاہ کیا۔ یہ خواتین اپنے گھروں کے پیچھے گلیاں چاہتی ہیں تاکہ وہ پردے میں ایک دوسرے کے گھر آ جا سکیں اور اس کے لئے انہیں مرکزی سڑک پر نہ آنا پڑے۔ تھر میں پچاس فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ البتہ ان دونوں کے درمیان ایک سڑک ہے جو ہندو اور مسلم آبادی کو تقسیم کرتی ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ماڈل ویلج بھی اسی طریقے سے تیار کئے جائیں۔ انڈس ہاسپیٹل کے تعاون سے ماروی مدر اینڈ چائلڈ کلینک کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جہاں ایک گائناکالوجسٹ اور بچوں کے امراض کا ماہر ڈاکٹر ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں تھر میں 70بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال بھی بنایا جا رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں سٹیزنز فاؤنڈیشن تھر کی سات تحصیل ہیڈ کوارٹروں میں سکول کھول رہی ہے جن میں لگ بھگ 14000بچے داخل کئے جائیں گے۔ علاقے میں ایک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ بھی قائم کیاجائے گا۔ دبئی کی ایک کمپنی بھی علاقے میں ایک سکول قائم کرنے جا رہی ہے۔ وہاں بھی مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے گی۔ یہ منصوبے تھر کے لئے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ خاص طور پر بجلی کا منصوبہ علاقے کو سستی بجلی کی فراہمی میں معاون ہوگا۔

تھر میں زیر زمین پانی ستر، سو اور 130میٹر کی گہرائی پر ہے ۔ 70میٹر کی گہرائی پر موجود پانی میٹھا ہے اور قابل استعمال ہے ۔ اس وقت سندھ حکومت لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) جو نواب شاہ سے شروع ہوتی ہے سے پانی لے کر اس کی ٹریٹمنٹ کرکے سپلائی کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ تھر میں بہت سے ریورس اوسموسس پلانٹ لگائے جا رہے ہیں تاکہ زمینی پانی کو قابل استعمال بنایا جا سکے۔ اس سے علاقے کے مکینوں کو زیادہ مقدار میں پانی مل رہا ہے۔ اس وقت تھر کے علاقے میں آٹھ سے دس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے مقامی گرڈ سے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تقریباً ہر گھر میں بجلی ہے ۔ مقامی آبادی خانہ بدوشی کرتی ہے ، جہاں بارش ہوتی ہے وہاں کھیتی باڑی کرکے گزر اوقات کی جاتی ہے۔ جب بارش نہ ہو تو دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں ۔ البتہ تھر میں کوئلے اور بجلی کے منصوبوں کے آجانے سے اس کلچر میں تبدیلی آئے گی اور لوگوں کو مستقل نوکریوں کی فراہمی سے خانہ بدوشی کے کلچر میں کمی آئے گی۔ اسی طرح چونکہ ان کو پانی بھی سپلائی کیا جا رہا ہے اس لئے ان کے خوف کا خاتمہ ہو رہا ہے کہ پانی کے بغیر ان کے جانور مر جائیں گے۔ تھر میں بہترین سڑک تعمیر کی گئی ہے ، دیگر سڑکیں بھی بنائی جا رہی ہیں، واٹر سکیمیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے تیزی سے بن رہے ہیں۔اب مقامی خواتین بھی مختلف کاموں کے لئے ہائر کی جا رہی ہیں ، اس سے قبل صرف مرد حضرات ہی کام پر رکھے جاتے تھے۔ خواتین کی اکثریت کام کی خواہش مند ہے اور چند ایک تو ڈرائیور بھی بننا چاہتی ہیں۔ پڑھی لکھی خواتین ہسپتال اور سکولوں میں کام کی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ترقی کا عمل تیز ہونے سے تھر کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

سرخیاں

ترقی کا عمل تیز ہونے سے تھر کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

تھر میں بہترین سڑک تعمیر کی گئی ہے

تھر میں زیر زمین پانی ستر، سو اور 130میٹر کی گہرائی پر ہے

تھر میں دو دیہاتوں کو جو کوئلہ نکالے جانے والی جگہ پر آباد تھے کو دوسری جگہ شفٹ بھی کیا جا رہا ہے

18سے 23سال کی عمر کے 250افراد کو این ایل سی نے ڈرائیونگ کی ٹریننگ دی ہے

تھر میں 660میگاواٹ کا پاور پلانٹ ابتدائی مرحلے میں لگانے کا فیصلہ کیا گیا

تھر میں چھے پاکستانی اور دو چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں

مزید :

ایڈیشن 2 -