حکومت کو چاہیے کہروزگار کے مواقع پیدا کرے

حکومت کو چاہیے کہروزگار کے مواقع پیدا کرے

  

خصوصی توجہ برائے ’’جناب نعیم مصطفی صاحب‘‘ برائے بزنس پاکستان

انٹرویو : نعیم الدین ، غلام مرتضی

تصاویر : عمران گیلانی

تعارف : محمد رضوان کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایش کے صدر ہیں ۔کراچی کے کاروباری حلقوں میں ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔انہوں نے اور ان کے والد شہید محمد عرفان نے صدر الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی حیثیت سے صدر الیکٹرانکس مارکیٹ سمیت بالخصوص کراچی اور بالعموم پاکستان بھر کے الیکٹرانکس ڈیلرز کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت زیادہ جدوجہد کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کی تاجر برادری انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔محمد رضوان کے والد شہید محمد عرفان کو تاجروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور محمد رضوان بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں اور تاجروں کی فلاح و بہبود ان کا مشن ہے ۔روزنامہ پاکستان نے محمد رضوان سے خصوصی انٹرویو کیا جس کا احوال قارئین کی نذر ہے ۔

بزنس پاکستان :۔ اپنی ایسوسی ایشن کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

محمد رضوان :۔ میں تقریباً 9ماہ قبل ہونے والے کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے الیکشن کے نتیجے میں صدر کے عہدے پر منتخب ہوا ہوں ۔ہماری ایسوسی ایشن میں ہر تین سال بعد انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔اس سے قبل منتخب ہونے والے ممبران الیکشن کروانے میں سنجیدہ نہیں تھے اس لیے تقریباً 8سال تک الیکشن نہیں ہوئے ۔سابق عہدیداروں نے غلط لوگوں کو تنظیم کا ممبر بنایا تھا جن کی کوئی دستاویزات نہیں تھیں۔اس کے بعد معاملات کو کورٹ میں پیش کردیا گیا اس لیے حالیہ الیکشن تقریباً8سال بعد منعقد ہوئے ہیں ۔ایسوسی ایشن کے حالیہ الیکشن ہائی کورٹ کی نگرانی میں کرائے گئے ۔ہائی کورٹ کے الیکشن کمشنر ایم آئی ٹو نے ہائی کورٹ کے حکم پر الیکشن کروائے جن کا انعقاد سٹی کورٹ میں کیا گیا تھا ۔اس الیکشن کے نتیجے میں مجھے صدر منتخب کیا گیا ۔ان الیکشن کا انعقاد مئی 2016میں کیا گیا جس میں شناخت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا ۔ہماری ایسوسی ایشن میں کراچی بھر کی تمام الیکٹرانکس مارکیٹیں شامل ہیں ۔صرف صدر کراچی میں 60تا 70مارکیٹیں ہیں جن میں 2000 سے 2500دکانیں ہیں ۔

بزنس پاکستان :۔ آپ کی مارکیٹوں کے مسائل کیا ہیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑتا ہے ؟

محمد رضوان :۔ مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے تاجروں کے عموماً لین دین کے اور کاروباری مسائل ہوتے ہیں جنہیں ایسوسی ایشن کی جانب سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ ہماری مارکیٹوں میں پارکنگ بہت بڑا مسئلہ ہے ۔یہاں پر پارکنگ کی سہولت بالکل ناپید ہے جس کی وجہ سے کسٹمرز کو شدید ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مارکیٹ کے لیے پارکنگ لاٹ بنائے گئے تھے لیکن متعلقہ انتظامیہ کی عدم دلچپسی یا کسی اور وجہ سے ان پارکنگ لاٹس کو گوداموں میں تبدیل کردیا گیا تھا ہم نے جہانگیر پارک کے نیچے پارکنگ لاٹ بنانے کی تجویز دی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہانگیر پارک پارسی ٹرسٹ کی ملکیت ہے اور وہ پارکنگ بنانے کی اجازت نہیں دیتے ہیںْ اگر جہانگیر پارک کے نیچے پارکنگ لاٹس بنادیئے جائیں تو یہ ایک اچھی بات ہوگی اس سے پارکنگ کے مسائل بھی ختم ہوجائیں گے ۔

بزنس پاکستان :۔ اس وقت کاروباری صورت حال کیا ہے ؟

محمد رضوان :۔ گزشتہ تین سال سے کاروباری حالات کافی اطمینان بخش تھے لیکن رواں سال کاروباری حالات ٹھیک نہیں ہیں اس کی وجہ ایک تو یہ ہے یہ مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے جبکہ لوگوں کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے ۔سی پیک موجودہ حکومت کا ایک بہت اچھا منصوبہ ہے لیکن اس کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن اس وقت کاروبار کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بے ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرے اور ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی تاکہ درآمدات کے شعبے کو بہتر بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ نئے صنعتی شعبے کو مراعات دے تاکہ صنعتی شعبے کو فروغ حاصل ہو اور لوگوں کو روزگار میسر آئے لیکن یہاں تو سندھ حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس ترقیاتی منصوبوں کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سندھ حکومت شہری حکومت سے اور وفاقی حکومت سندھ حکومت سے کھینچا تانی میں لگی ہوئی ہے جس کا عوام کو نقصان ہورہا ہے۔

بزنس پاکستان :۔ ابھی حال ہی میں آپ کی ایسوسی ایشن کی جانب سے نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا اس کو آپ کس حد تک کامیاب سمجھتے ہیں ؟

محمد رضوان :۔ اس نمائش کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے کیونکہ اتنے محدود وقت میں اتنی اچھی نمائش کا انعقاد اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ کراچی الیکٹرونکس الیکٹریکل موبائل ٹیلی کام فیئر (KFEMTF) کا انعقاد تین دن کیلئے ایکسپو سینٹر کراچی میں کیا گیا تھا اور ان تین دنوں میں 1 لاکھ سے زائد لوگوں نے اس نمائش کو وزٹ کیا ہے۔ ہم نے اس نمائش کی تیاری دو ماہ میں کی اور اس کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات محنت کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور یہ ہمارے اور کراچی کے لوگوں کیلئے بڑی اعزاز کی بات ہے ۔ اس نمائش سے لوگوں نے بہت فائدہ اٹھایا کیونکہ یہاں یہ تمام مصنوعات پر خصوصی رعایت تھی ۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کی بڑی بڑی کثیر القومی کمپنیوں نے یہاں اپنے اسٹال لگائے اور اپنی مصنوعات کو ڈسپلے کیا۔ اس نمائش میں تقریباً 40 تا 50 ملٹی نیشنل کمپنیوں نے حصہ لیا جبکہ مقامی کمپنیوں نے بھی بڑی تعداد میں اس میں شرکت کی۔ یہاں میں آپ کو اس نمائش کی ایک قابل ذکربات بتانا چاہوں گا کہ ہم نے پہلی بار چھوٹے اور متوسط درجے کے دکانداروں کو اس نمائش میں اسٹال فراہم کیے جنہوں نے نمائش میں اپنی اشیاء فروخت کیں۔ اس نمائش کے انعقاد کا مقصد نفع یا نقصان نہیں تھا بلکہ یہ نمائش ہماری جانب سے دنیا بھر کے لوگوں کو پیغام تھا کہ روشنیوں کا شہر کراچی جس کی روشنیاں ماند پڑ گئی تھیں اب وہ دوبارہ عروس البلاد بن چکا ہے اور یہاں کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

بزنس پاکستان :۔ مارکیٹ میں امن و امان کی صورتحال کیا ہے ؟

محمد رضوان :۔ سال 2012-2013 میں تو کراچی میں حالات بہت خراب تھے لیکن سابق آرمی چیف راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی ایم سلیم باجوہ اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر نے پاکستان میں امن وامان کے مسائل پر خصوصی توجہ دی اور ملک بھر میں جاری ضرب عضب اور کراچی آپریشن کی وجہ سے حالات بہت زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔ موجودہ سندھ حکومت جو پہلے وفاق میں تھی برسراقتدار رہی ، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آرمی نے قدم آگے بڑھایا اور عوام کو دہشتگردی سے نجات دلائی ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔

بزنس پاکستان :۔ ابھی کچھ دن پہلے مارکیٹ میں جعلی موبائل فروخت کرنے پر گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں ؟ وہ کیا معاملہ تھا ؟

محمد رضوان :۔ وہ ایک معروف ملٹی نیشنل کمپنی کی کاپی رائٹ کا مسئلہ تھا ۔ اگر کوئی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کررہا ہو تو کمپنی کو چاہیے کہ وہ ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لے اور اسے لیٹر لکھے کہ مارکیٹ میں ہماری پروڈکٹ کی کاپی فروخت ہورہی ہے۔ ایسوسی ایشن ان افراد کو جو یہ کام کررہے تھے پابند کرتی اور ان سے یہ کہتی کہ آپ یہ نہ کریں لیکن اس کے برعکس زیرتبصرہ کمپنی نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر ایف آئی اے میں شکایت کی اور میڈیا والوں کو بھی لے کر آئے جس سے مارکیٹ کی بدنامی ہوئی ۔ میرے خیال میں انہوں نے ایک غیر مہذب طریقہ کار اختیار کیا جس کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوا اور مارکیٹ کے تاجروں نے احتجاج کیا ۔ دراصل وہ مارکیٹ کو بدنام کرنا چاہتے تھے ۔ خیر معاملات پر قابو پالیا ہے۔ ایف آئی اے نے جو زیادتی کی ہے ا سکی شکایت ہم نے ڈی جی ایف آئی اے کو کی ہے جس کی انکوائری ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے جن تاجروں کو اٹھا کر لے گئی تھی ان کی ضمانت کورٹ سے ہوگئی ہے۔

بزنس پاکستان :۔ چوری کے موبائلز کی خریدوفروخت کے حوالے سے آپ کی ایسوسی ایشن نے کیا کام کیا ہے ؟

محمد رضوان :۔ ہم نے مارکیٹ میں ایسے اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے یہاں چوری کے موبائلز کی خریدوفروخت تقریباً ناممکن ہوگئی ہے اس حوالے سے ہم سی پی ایل سے ہر وقت رابطے میں ہوتے ہیں اور یہاں کا جو تاجر کوئی موبائل خریدتا ہے تو اس کو سب سے پہلے کمپنی کے ذریعے چیک کروایا جاتا ہے اور اگر وہ سی پی ایل سی کلیئر ہوجائے تو اسے خریدا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فروخت کرنے والے شناختی کارڈ کی کاپی بھی لی جاتی ہے۔ اگر سی پی ایل سی کہے کہ موبائل بلاک ہے تو ہم اس کو recover کرکے سی پی ایل سی کو دیدیتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے ابھی تک 20 تا 80 لاکھ روپے کے موبائل ریکور کرکے ایڈیشنل آئی جی کے حوالے کئے ہیں۔ اور جن کے یہ موبائلز تھے ان کو بھی ریکور کروائے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے زیرنگرانی آنے والی شہر کی دیگر مارکیٹوں کے چیئرمینز کو بھی ہم نے یہ ترغیب دی ہے کہ وہ چوری کے موبائل کی خریدوفروخت کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کریں اور ان پر سختی سے عمل کریں۔ ایسوسی ایشن نے کراچی بھر کی دیگر مارکیٹوں کے 30 تا 35 چیئرمین نامز کئے ہیں اور انہیں یہ کہا ہے کہ وہ چوری کے موبائل فونز کی خریدوفروخت کے حوالے سے مرتب کیے گئے ایسوسی ایشن کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

بزنس پاکستان :۔ آپ کے والد محمد عرفان شہید کے زمانے میں مارکیٹ کے یہی مسائل تھے یا اب ان میں اضافہ ہوا ہے؟

محمد رضوان :۔ والد صاحب کے زمانے میں کیونکہ صرف صدر الیکٹرونکس مارکیٹ کے مسائل کو دیکھا جاتا تھا لیکن اب کراچی بھر کی مارکیٹس ایسوسی ایشن کی زیرنگرانی ہیں اس لیے مسائل پہلے سے ز یادہ بڑھ گئے ہیں۔

بزنس پاکستان :۔آپ سے قبل جو برسراقتدار گروپ تھا ان کے زمانے میں جو مسائل پیدا ہوئے تھے کیا آپ نے ان پر قابو پالیا ہے یا وہ ابھی تک جوں کے توں ہیں ؟

محمد رضوان :۔ اس دور میں لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے تاجروں سے درخواستیں لے لی جاتی تھیں اور مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے لیکن ہم تاجروں کے مسائل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ے کہ جو مسائل درپیش ہیں ان کو جلد از جلد حل کرلیا جائے ۔ سابق برسراقتدار گروپ نے اچھا کام کیا ہوتا تو ان کو ووٹ ملتے ، ہم نے اچھا کام کیا تھا اس لیے ہم کو ووٹ ملے ۔ میرے والد محمد عرفان 28 سال تک ایسوسی ایشن کے صدر رہے ،لیکن سیاسی کھیل کھیلا گیا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ۔ اب اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سیاست اب ختم ہوگئی ہے ویسے بھی ہم کاروباری لوگ ہیں ا س لیے ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -