تھانہ غازی آباد ، مقدمات کے اندراج میں تاخیر ، جرائم میں کمی کا اظہار تھانیداروں کی مہارت کا ثبوت

تھانہ غازی آباد ، مقدمات کے اندراج میں تاخیر ، جرائم میں کمی کا اظہار ...

  

لاہور( لیاقت کھرل) تھانہ غازی آباد میں ایک ہی انسپکٹر گزشتہ 28 ماہ سے بطور ایس ایچ او تعینات ہے۔ اس کے باوجود اس تھانہ کا کرائم گراف کینٹ ڈویژن کے دیگر تھانوں سے کم نہیں، ڈکیتی، راہزنی، چھینا جھپٹی اور گاڑیاں چوری کے واقعات یا جیب تراشی کے مقدمات کے اندراج میں تاخیری حربے اور جرم میں کمی اس تھانے کے تھانیداروں کی مہارت سمجھی جاتی ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم نے ڈکیتی، راہزنی، نقب زنی اور گاڑیاں چوری یاچھیننے کی وارداتوں جیسے اہم کیسز کا ریکارڈ چیک کیا اور تھانہ میں آئے ہوئے سائلین تاج پورہ ، مسلم آباد، غازی آباد، تاج باغ اور محمد پورہ کے مکینوں سے گفتگو کی توان کا کہنا تھا کہ اس تھانہ میں ایک ہی ایس ایچ او گزشتہ اڑھائی سال سے تعینات ہے اس کے باوجود ڈاکوؤں، راہزنوں اور نقب زنوں نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اس موقع پر تھانہ میں 2017ء کے پہلے دو ماہ 10 دنوں میں پولیس کی جانب سے درج مقدمات کاجائزہ لیا گیا تو جہاں مقدمات کے اندراج میں تاخیری حربے استعمال کرنے کاپتہ چلا وہاں سنگین جرم ، ڈکیتی کو چوری میں تبدیل کرنے کا بھی انکشاف سامنے آیا۔ پولیس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق شہری فاروق کے ساتھ 8 فروری 2017ء کو واردات ہوئی، پولیس نے 6 روز بعد 13 فروری کو مقدمہ نمبر 153/17 درج کیا۔ تاج باغ کے محمد سلمان کے ساتھ 16 فروری کو جیب تراشی کی واردات ہوئی، 18 فروری کو مقدمہ نمبر 171/17 درج کیاگیا اور تاحال ملزمان کاسراغ نہیں لگایا جا سکا ۔ تاج باغ کے محمد سلیم کیساتھ دو فروری کو ڈکیتی کے دوران پرس چھیننے کی واردات ہوئی۔ پولیس نے 3 فروری کو مقدمہ نمبر118/17 درج کیا مگر چوری کی دفعہ 379/35 ت پ کا جرم لگایا گیا۔ تاج باغ کے ہی زاہد سے 6 مارچ کو دن دیہاڑے پرس چھیناگیا، پولیس نے 7 مار چ کو چوری کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ محمد پورہ مسلم آباد میں 5 مارچ کو دن دیہاڑے ڈاکوؤں نے محمد جمشید سے لاکھوں روپے لوٹ لئے۔ پولیس نے 24 گھنٹے کی تاخیر سے مقدمہ نمبر 208/17 درج کیا اور تاحال ڈاکوؤں کاسراغ نہیں لگایا جا سکا ۔ ڈی بلاک تاج پورہ سکیم کے محمد عرفان کو 3 مارچ کی صبح 8 بجکر 10 منٹ پر ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ہونڈا 125 موٹر سائیکل بھی لے گئے۔ پولیس نے ڈکیتی کی دفعہ 392 ت پ کے تحت مقدمہ تودرج کر لیا لیکن ڈاکوؤں تک رسائی حاصل نہیں کی جا سکی۔ تھانہ سے چند گز کے فاصلے پر اتوار بازار کے قریب 9 جنوری کو دو ڈاکو ایک شہری سے ہونڈا موٹر سائیکل ایل ای کیو 7000 چھین کر لے گئے۔ پولیس نے 34/17 مقدمہ تو درج کیا، لیکن دو ماہ گزر جانے کے باوجود شہری کی گاڑی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔ شہری عبدالغفارنے بیٹ نمبر4 میں لاکھوں روپے مالیت کی 6 فروری کو واردات کی شکایت سنائی ، پولیس نے 8 فروری کو چوری کی دفعہ 457/380 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر کے ٹال دیا اور ایک ماہ 5 روز گزر جانے کے باوجود واردات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ۔ منظور کالونی میں شہری مختار کے ساتھ 5 فروری کو ایک لاکھ 60 ہزار مالیت کے طلائی زیورات لوٹنے کی واردات ہوئی۔ پولیس نے 6 فروری کو چوری کی دفعہ 380 کا مقدمہ نمبر 133/17 درج کیا۔ پولیس کی جانب سے درج مقدمہ کے مطابق تاج باغ کے ارسلان صادق کے 13 فروری کو لاکھوں روپے کے 130 کبوتر چوری کر لئے گئے ، پولیس نے مقدمہ نمبر154/17 درج تو کر لیا ، مگر ملزمان کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ تنویر آباد کے رہائشی شہری زاہد علی نے بتایاکہ اس کے ساتھ 15 فروری کوایک لاکھ روپے نقدی ، پسٹل اور نقدی چھیننے کی واردات ہوئی ، پولیس نے چوری کی دفعہ 457/380 ت پ کے تحت مقدمہ نمبر 163/17 درج تو کر رکھا ہے لیکن تاحال ملزموں کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا گیا۔ شہری دلاور کے ساتھ 8فروری کو 20 ہزار نقدی کی واردات ہوئی، پولیس نے 13 مارچ کو چوری کی دفعہ کے تحت مقدمہ نمبر 154/17 درج کیا۔ شہری محمد شفیق کے گھر واقع بیٹ نمبر3 سے 7 جنوری کو موٹر سائیکل نمبر ایل ای ایم 2530 اور ایک لاکھ روپے کے طلائی زیورات اور نقدی چوری ہوئی۔ پولیس نے 24 گھنٹے چکر لگوانے کے بعد 8 جنوری کو 457/381A جرم کامقدمہ نمبر 31/17 درج کر کے ٹال دیا۔ رزاق کالونی کی نصرت بی بی کے گھر سے 10 جنوری کو رات 4 بجے لاکھوں کی واردات ہوئی، پولیس نے 11 جنوری کو مقدمہ نمبر38/17 درج کیا اور تاحال واردات کاسراغ نہیں لگایا جا سکاہے۔ سولنگ روڈ غازی آباد کے عدنان یاسین کے گھر میں 27 جنوری کو دو لاکھ کی واردات ہوئی، پولیس نے 28 جنوری کو ایک لاکھ 50 ہزار روپے چوری کی دفعات کے تحت مقدمہ نمبر96/17 درج کیا۔ پنج پیر کے سہیل اشرف کی گاڑی ایل آر ای دن دیہاڑے چور لے اُڑے، پولیس نے 4 روز بعد مقدمہ نمبر103/17 درج کیا۔ تاج باغ میں شہری سلیمان کے ساتھ 16 فروری کو واردات ہوئی۔ پولیس نے 8 1فروری کو مقدمہ نمبر171/17 درج کیا۔ شہری قیصر عباس سے 5 فروری کو موبائل فون اور 35 ہزار نقدی اڑا لی گئی، پولیس نے 24گھنٹے کی تاخیر کے بعد مقدمہ درج کر کے ٹال دیا۔ شہری محمد فاروق کے ساتھ 8 فروری کو پولیس ناکے سے چند گز کے فاصلے پر واردات ہوئی۔ پولیس نے 6 روز بعد 13 فروری کو مقدمہ نمبر 153/17 درج کر کے ٹال دیا۔ لال پل پر محمد اصغر کے ساتھ 24 فروری کوواردات ہوئی، پولیس نے 6 روز بعد یکم مارچ کو مقدمہ نمبر 200/17 درج کیا اور 18 روز گزر جانے کے باوجود تاحال ملزمان کا سراغ نہیں لگا یاجاسکا ۔ متاثرہ مکینوں حاجی ناصر علی، رزاق علی، رانا تنویر، محمد شفیق، عرفان علی، ارسلان، غلام مصطفی ، عبدالغفار اور دیگرکا کہنا ہے کہ اس تھانے میں ایک ہی ایس ایچ او ا متعدد اہلکاروں اور تھانیداروں کی فوج کے ساتھ اڑھائی سال سے تعینات ہے اس کے باوجود وارداتوں میں کمی نہ آنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس بارے میں سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشن کو نوٹس لینا چاہیے۔

مزید :

علاقائی -