’’ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں‘‘

’’ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں‘‘
 ’’ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹیں‘‘

  

مَیں جامعہ نعیمیہ میں سینکڑوں درود والوں کے ساتھ تھا، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی کے نام سے منسوب سالانہ کانفرنس اور شہید پاکستان علامہ سرفراز احمد نعیمی کی آٹھویں برسی کے موقع پر وزیراعظم محمد نواز شریف خطاب کے لئے تشریف لا رہے تھے جب مَیں روسٹرم پر تھا تو میرے سامنے وہ کمرہ تھا جہاں علامہ سرفراز احمد نعیمی کو صرف اِس لئے شہید کر دیا گیا تھا کہ وہ رسول عربی کی اُمت کے تمام مکاتب فکر کو دہشت گردی کے خلاف متحد کرنا چاہتے تھے ، وہ ان فکری مغالطوں کا خاتمہ چاہتے تھے، جنہیں دہشت گردی کے جواز میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہماری ریاست ایک طویل عرصے تک انہی مغالطوں کا شکار رہی۔ مغالطوں کا ایک دور وہ تھاجب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم اپنے ’مجاہدین‘ کے ذریعے امریکہ اور روس کو ہی تباہ نہیں کریں گے بلکہ دلی کے لال قلعے پر بھی سبز ہلالی پرچم لہرادیں گے، کشمیر بھی آزاد کروا لیں گے،ہم نے اپنے ہاتھوں سے گرہیں لگائی تھیں اوراب دوسرے دور میں ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود تھے ( اور اب بھی ہیں) جو دہشت گردوں کونہ صرف مظلوم بلکہ اپنا سمجھتے تھے اور چونکہ ان کی آبادیاں ، مسجدیں، مدرسے اور بازار محفوظ تھے ، مرنے والے کوئی اور تھے۔ لہٰذا ایک بیانیہ تراشا گیا تھا کہ افغانستان سمیت دنیا بھر میں روا امریکی مظالم کے خلاف جنگ لڑ ی جا رہی ہے، مگر اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ ان بے گناہ عورتوں، مردوں اور بچوں کا کیا قصور ہے جو کسی میدان جنگ کا حصہ نہیں، جو نہتے ہیں ، پھر ان کے اپنے اجتماعات بھی اس سے محفوظ نہیں رہے، اس ابہام کا خاتمہ جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوا جب انہوں نے مُلک کی بااثر سیاسی جماعتوں کو آپریشن ضربِ عضب کے لئے رضا مند کر لیا۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی، جلسہ گاہ کے ساتھ ہی مولانا مفتی محمد حسین نعیمی اور علامہ سرفراز احمد نعیمی کے مزار ہیں۔ مقررین اور حاضرین کا اتفاق تھا کہ ڈاکٹر راغب نعیمی اپنے والد اور داد ا کی میراث کو بہت ہی حکمت، فراست اور دیانت سے سنبھالے ہوئے ہیں۔مَیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جب داتادربار پر خود کش حملہ ہوا تھا تو وہ جذباتی ہو گئے تھے، یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں جذباتی کر دیا تھا،مگر پھر وہ جان اور مان گئے تھے کہ اگر انہوں نے بھی عمل کے مقابلے میں اسی طاقت کے ساتھ ردعمل کا مظاہرہ کیا تو پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر گلی اور ہر محلے میںآگ لگ جائے گی، ڈاکٹر راغب نعیمی نوجوانی میں ہی وہ بات سمجھ گئے تھے جسے ہمارے بعض بزرگ اپنی داڑھیاں سفید، ہڈیاں کمزور اور بظاہر تقوے کی اعلیٰ منزل پر ہونے کے باوجود نہیں سمجھ پائے۔ جامعہ نعیمیہ اب گڑھی شاہو کی ایک مسجد ،ایک مدرسہ نہیں رہا، بلکہ مُلک بھرمیں پھیلے ہوئے نعیمین کی وجہ سے قومی تحریک کا درجہ اختیار کر چکی ہے اور تحریکوں کا اپنے نظریات اور اقدامات میں راست رہنا بہت ہی ضروری ہے۔ نعیمین جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں وہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت سمجھتا ہے، وہ جہاد کو ایک اسلامی ملک میں بے گناہ اور نہتے شہریوں کے خلاف جائز نہیں سمجھتا۔مجھے خوشی ہے کہ پاکستان میں جہاد کی زندہ علامت پروفیسر حافظ محمد سعید بھی یہی سمجھتے اور کہتے ہیں،حالانکہ دونوں کے مکتبہ فکر میں کافی مقامات پر اختلافات ہیں، مگر یہ اختلافات ، دشمنی نہیں ہیں محض رائے اور تشریح کے حوالے سے ہیں۔

مجھے وزیراعظم نواز شریف کی تقریر سن کر خوشی ہوئی،جب اس ملک کا چیف ایگزیکٹو مسئلے کا درست ادراک رکھے گا تو اس کے حل کی درست راہ بھی نکلے گی۔ وہ جانتے ہیں کہ ابہام پیدا کئے جا رہے ہیں، جہاد کا تصور مسخ کیا جا رہا ہے، علماء دہشت گردی کے خلاف متبادل بیانیہ دینے کی بجائے فتووں میں الجھے ہوئے ہیں۔ فتاویٰ جات بھی اہم ہیں، مگر سب سے اہم فتوی تو وہ ہے جو علامہ سرفراز احمد نعیمی نے اہلِ علم اور اہلِ حق کو اکٹھا کر کے جامعہ نعیمیہ کے اسی صحن میں دیا تھا، جس کے ’جرم‘ میں پھر وہ اسی صحن سے جڑے استقبالیہ کمرے میں بم دھماکے میں شہید کر دئیے گئے تھے اور اب اسی صحن میں موجود وزیراعظم بجاطور پر سوال کر رہے تھے کہ ہمارے مدارس دین کے عالم پیدا کر رہے ہیں یامسالک کے مبلغ؟ یقینی طور پر یہ مسالک دین میں ہیں مگر دین تو کسی ایک مسلک میں قید نہیں ہے۔میں جب جامعہ نعیمیہ پہنچا تو وہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے، مجھے دروازے پر روک لیا گیا، ایک دو ٹی وی چینلوں نے دکھایا کہ پولیس کی طرف سے بازار بھی بندکروا دئیے گئے، گڑھی شاہو چوک سے علامہ اقبال روڈ کے دونوں اطراف کو بھی بند کر دیا گیا تھا جس پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے غم وغصے کا اظہار کیا، مگر یہ مشکلات بھی تو اسی دہشت گردی کا نتیجہ ہیں جس نے ساٹھ ، ستر ہزار کی جان لے لی، جس نے ہماری سابق وزیراعظم، وزراء او رارکان اسمبلی ہی نہیں بلکہ علماء کرام تک کو نہیں چھوڑا۔میں نے کہا ناں،ہم اپنے ہاتھوں سے لگائی گرہیں اپنے دانتوں سے کھول رہے ہیں۔

مَیں جامعہ نعیمیہ میں ہی موجود تھا جب درود پڑھنے والے اور دہشت گردی کو حرام سمجھنے والے وزیراعظم محمد نواز شریف کی آمد پرممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف احتجاج کی کوشش کر رہے تھے۔ مَیں جانتا ہوں کہ یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے اور اس تنی ہوئی رسی پر چلتے ہوئے کسی وقت بھی توہین رسالت اور پھر اس پر ممکنہ ردعمل کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اگر معاشروں میں سرفراز نعیمی جیسے کردار ختم ہوتے چلے جائیں گے تو پھر حق اور سچ کی بات کون کرے گا۔ توہین رسالت کے الزام کی صداقت جانچنے اور اس پر سزا دینے کا اختیار ریاست کے پاس ہونا چاہئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عدالتیں لگانا اور سزائیں سنانا بند کر دیں۔ جناب مجیب الرحمن شامی، جناب راغب نعیمی اور جناب حامد میر نے بھی توہین رسالت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مہم کی نشاندہی کی، برادرم خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا کہ وہ دو روز تک سوشل میڈیا صرف اس وجہ سے نہیں دیکھ پائے کہ وہاں اگر ہمارے پیارے نبیؐ کی توہین میں کوئی بات ہو گی تو پھر وہ قابل برداشت نہیں ہوگی۔ میں منتظر تھا کہ اول الذکر تینوں مقررین کے اٹھائے ہوئے نکتے کے جواب میں وزیراعظم نواز شریف ضرور بات کریں گے، میں شریف خاندان کے حوالے سے گواہی دے سکتا ہوں کہ وہ میاں محمد شریف کی دی ہوئی تعلیم اور تربیت کے مطابق عاشقان رسول کا خاندان ہے، جاتی امرا میں اب بھی میاں محمد شریف کی قبر پر میلاد کی محفلیں سجتی ہیں،وزیراعظم چاہے پارلیمنٹ کی لابی میں چلنے والے مکّوں اور باہر ہونے والی غیر اخلاقی گفتگو پر بات کرنے سے صرف نظر کرجاتے مگر عشق رسولؐ کی بات جامعہ نعیمیہ میں بیٹھے درود والے عاشقان رسول کی محفل کاتقاضا بھی تھا اور حسن بھی، پھر اس تقاضے کووفاقی کابینہ کے اہم رکن ہونے کی حیثیت میں خواجہ سعد رفیق نے کماحقہ پورا کیا،انہوں نے جامعہ نعیمیہ کے مہتمم علامہ راغب نعیمی کو دعوت دی کہ تمام مذاہب کی کتابوں اور مقدس شخصیات کے احترام کا قانون اقوام عالم کی سطح پر بننا چاہئے اور اس کے لئے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ، یہ عین ممکن ہے کہ ہم آسمانی کتابوں اور انبیائے کرام کی توہین کے قبیح فعل پر وہ سزا نہ مقرر کرواسکیں جو ہم چاہتے ہیں، مگر ایک سزا ضرور طے کروائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ معروف ماہرین قانون بھی ہیں جو اس پر مسودہ تیار کئے ہوئے ہیں،راغب نعیمی آگے بڑھیں تو اس پربھرپور معاونت کے لئے تیار ہیں۔

اور آخر میں ایک دعا ،جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا، اللہ کرے، دہشت گردوں کے ہاتھ اسی طرح ٹوٹ جائیں جس طرح ابولہب کے ہاتھ، سورہ لہب ایک مکی سورۃ ہے جو سورۃ فتح کے نزول کے بعد نازل ہوئی، فرمایا گیا،’ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو، نہ تو اس کا مال ہی اس کے کام آیا اورنہ وہ جوا س نے کمایا،وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گااور اس کی بیوی بھی جو ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے،اس کے گلے میں مونج کی رسی ہو گی‘۔ ( صدق اللہ العظیم)

مزید :

کالم -