مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنماؤں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جبکہ سینیٹرسعید غنی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت پرمتحدہ کارکنان کی جبری وفاداریاں تبدیل کرانے کا الزام قیامت کی نشانی ہے مئیرکراچی کی صفائی مہم پرتنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاکر انہیں ہیرونہیں بنانا چاہتے ۔پیپلزپارٹی میڈیا سیل سندھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کراچی ڈوین کے جنرل سیکریٹری سینیٹرسعید غنی کا کہناتھاکہ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ حکومت پر متحدہ کارکنان کی زبردستی وفا داریاں تبدیل کرانے کا الزام قیامت کی نشانی اور دھاندلی کے الزامات مذاق کے مترادف ہیں۔انہوں نے مئیر کراچی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی مصروفیات سے تھوڑاسا وقت نکال کر بلدیاتی ایکٹ کا مطالعہ کرلیں گے توانہیں ان کے اختیارات کا پتہ لگ جائے گا۔پیپلزپارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اب طے کر لیاہے کہ کوئی بریف کیس لندن نہیں جائے گا۔اس موقع پرتحریک انصاف ،ایم کیو ایم،پاک سر زمین پارٹی اور آل پاکستان مسلم لیگ کی ثمینہ سلام ،فاطمہ عباس ندیم تحریکی،شاہد خان،حامد جعفری اور دیگر نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کراچی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئے گی۔سعید غنی نے کہاکہ پیپلزپارٹی ائندہ انتخابات میں شہر کے ان علاقوں سے بھی کامیابی حاصل کرے گی جہاں سے ایک جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ شورمچانا ایم کیو ایم کا ایک پورانہ وطیرہ رہا ہے یعنی اتنا شور مچایا جائے تاکہ لوگ جھوٹ کو سچ مانے پر مجبور ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ صفائی مئیر کا کام ہی نہیں تھا صفائی کا کام ڈی ایم سیز کی ذمہ داری ہے ۔کراچی کی تمام ڈی ایم سیز کو فنڈز دئیے گئے ہیں مگرایم کیو ایم نے ساٹھ ہزار گھوسٹ ملازمین بھرتی کئے جوکام نہیں کرتے ،واٹربورڈ میں نگران حکومت کے دور میں پانچ ہزار ملازم بھرتی کئے گئے یہ تمام گھوسٹ ملازمین سرکاری نوکری بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے بانی قائد کے جلسہ میں جوہزاروں لوگ شریک ہوتے تھے وہ یہ گھوسٹ بلدیاتی ملازمین تھے جس کی وجہ سے کے ایم سی کوتباہ کردیا گیا سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی درخواست پرہرماہ سندھ حکومت بلدیہ عظمی کو پانچ کروڑ گرانٹ دیتی ہے صوبے میں بے روزگاری کی وجہ سے سندھ حکومت ان لوگوں کو بے روزگار نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہاکہ نااہلی چھپانے کے بجائے مئیر کو اپناکام کرناچاہئے پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹریجنرل وقارمہدی کا کہنا تھا کہ صوبے کے اور کسی چئیرمین یا مئیر کو اختیارات کا مسئلہ نہیں ہے وسیم اختر اختیارات کا رونہ روکر سیاست کرناچاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے اب طے کیا ہے کہ اب کوئی بھی بریف کیس لندن نہیں جائے گا،ایم کیو ایم کو مشرف دور کے تین سو ارب روپے کا حساب دینا ہوگا۔ وسیم اختر کو اگر تھوڑی سی بھی فرصت ہے تو وہ بلدیاتی ایکٹ کا مطالعہ کرلیں۔

مزید :

صفحہ آخر -