مردم شماری کے انتظامات مکمل ، آغاز 15مارچ سے ہوگا غلط بیانی پر قید و جرمانہ کی سزا

مردم شماری کے انتظامات مکمل ، آغاز 15مارچ سے ہوگا غلط بیانی پر قید و جرمانہ کی ...

  

اسلام آباد(اے این این) ملک میں چھٹی مردم و خانہ شماری کیلئے تمام ترانتظامات مکمل ، آغاز 15 مارچ سے ہوگا،پہلا مرحلہ 15 مارچ سے شروع ہوکر 15 اپریل کوختم ہوگادوسرامرحلہ 25اپریل سے شروع ہوکر 25 مئی کواختتام پذیرہوگا، ایک لاکھ 18 ہزار 918 سرکاری ملازمین حصہ لیں گے، دو لاکھ فوجی جوان سیکورٹی فراہم کریں گے ،غلط معلومات دینے والے کو 15 ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے، پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی مردم شماری میں شامل کیاجارہاہے،بے گھر افراد کو بھی گنا جائے گا، مجموعی بجٹ ساڑھے 18ارب روپے رکھا گیاہے ۔ ان خیالات کااظہار وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب ،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور اور ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے مردم وخانہ شماری کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ سے شروع ہوکر 15 اپریل تک جاری رہے گا جس کے بعد لاجسٹکس کی منتقلی کیلئے 10 روز کاوقفہ ہوگا اور اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا جو 25 مئی تک جاری رہے گا پہلے تین دن گھر یا خانہ شماری کے لیے مختص کیے گئے ہیں جس کے بعد 10 مردم شماری کا عمل مکمل کیا جائے گا جبکہ ایک دن علاقے میں موجود بے گھر افراد کی گنتی کے لیے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرد شماری کے دوران استعمال کیے جانے والے فارم ٹو اے میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ معذور افراد کا ڈیٹا بھی موثر طریقے سے اکھٹا کیا جاسکے گا اس کے علاوہ دہری شہریت رکھنے والے وہ افراد جو مردم شماری کے دوران ملک میں موجود ہوگا اسے بھی شامل کیا جائے گابے گھر افراد کو بھی گنا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ اس عمل میں بلاتفریق ہر پاکستانی شہری کو شامل کیا جائے گا اور مردم و خانہ شماری کا مجموعی بجٹ ساڑھے 18 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 25 مئی کو مردم شماری کا عمل مکمل ہونے کے بعد پہلے صوبائی نتائج کو شائع کیا جائے گا جس کے بعد مرحلہ وار مرد و خواتین کا تناسب، دیہی و شہری کا تناسب اور خواجہ سراؤں کی تعداد کے حوالے سے نتائج جاری کردیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک پانچ مرتبہ مردم شماری کرائی جاچکی ہے جو 1951، 1961، 1972، 1981اور 1998 میں کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود سفارتکاروں کے اعداد و شمار دفتر خارجہ کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔ وزیرمملکت نے کہا کہ مردم شماری میں ایک لاکھ 18 ہزار 918 سرکاری ملازمین حصہ لیں گے جنہیں خصوصی تربیت فراہم کردی گئی ہے جبکہ تعیناتیاں بھی ہوچکی ہیں۔ مردم شماری کی اہمیت کواجاگرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب کی بنیاد پر ہی قومی و صوبائی اسمبلی میں نشستوں کا تعین ہوتا ہے جبکہ حلقہ بندیاں بھی مردم شماری کی بنیاد پر ہوتی ہیں مردم شماری کے بغیر عوام کی حقیقی نمائندگی سامنے نہیں آ سکتی، این ایف سی ایوارڈ اور ترقیاتی بجٹ کا تعین بھی مردم شماری ہی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پوری ایمانداری کے ساتھ اس قومی فریضے میں حصہ لیں۔ ایک سوال پر وزیر مملکت نے کہاکہ مردم شماری کے عمل سے متعلق کسی بھی معلومات کے حصول کیلئے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جس کا نمبر ہے 0800-57575 ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی توجہ کا مرکز عوامی فلاح کے حوالے سے اقدامات کرنا ہیں، آخری مردم شماری بھی وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت میں ہی کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے ملک بھر میں سکیورٹی کے حوالے سے جاری آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری پہلے نہیں کروائی جا سکی۔ انہوں نے بتایا کہ غلط معلومات دینے پر 15 ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے، ایک لاکھ 18 ہزار 9 سو 18 افراد کو تربیت دی گئی ہے، ہر پاکستانی کو گنا جائے گا اور ہمیں نادرا کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مردم شماری ایک آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک چھٹی خانہ و مردم شماری کیلئے مکمل طور پر تیار ہے تاہم چونکہ ہم 19 برس بعد اس عمل سے گزرنے جا رہے ہیں یہ ہم سب کیلئے سیکھنے کا موقع بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلح افواج کے شکرگزار ہیں کہ وہ مردم شماری کے عمل کو پرامن بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بلوچستان کے سینسس کمیشن کے متعلق تمام قیاس آرائیاں غلط ہیں۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا کہ مردم شماری میں پاک فوج کی خدمات لی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی مسائل کے باعث دو مرحلوں میں مردم شماری کروائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اینیومیریٹرز کے ساتھ ایک سپاہی ہو گا۔ آرمی چیف نے ہدایت کی ہے کہ مردم شماری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔ مردم شماری کے عمل کو سموتھ اور ٹرانسپیرینٹ بنایا جائے گا جو سپاہی اینیومیریٹر کے ساتھ جائے گا اس کا نادرا سے لنک ہو گا، جھوٹ بولنے یا غلط معلومات دینے کو جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں دو لاکھ اہلکار حصہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ماسٹر ٹرینرز نے ہر شہر میں جا کر اینیومیریٹرز کو ٹریننگ دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارا کوئی سپاہی یا اینیومیریٹر اکیلا نہیں ہو گا اس کے ساتھ سکیورٹی کا پورا نیٹ ورک موجود ہو گا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مردم شماری کے عمل کو سکیور بنانے میں تمام سکیورٹی ادارے حصہ لیں گے، ٹی ڈی پیز کی پہلے سے رجسٹریشن ان کے علاقوں کے حساب سے ہو چکی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع سکیورٹی اداروں کو دی جائے، مسلح افواج ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری کر چکی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -