متحدہ نے کوئی پلاٹ ،نالہ نہیں چھوڑا مزید نہیں کھانے دینگے ، پیپلز پارٹی ، بچہ بچہ جانتا ہے کمیشن کون کھاتا ہے: متحدہ

متحدہ نے کوئی پلاٹ ،نالہ نہیں چھوڑا مزید نہیں کھانے دینگے ، پیپلز پارٹی ، ...

  

کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت پر میئر کراچی کے الزامات نے پنڈورا باکس کھول دیا، وزیر اعلیٰ سندھ کے بعد پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ایم کیو ایم پر برس پڑے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے پریس کانفرنس تو پارٹی میں افراد کی شمولیت اختیار کرنے کے حوالے سے بلائی تھی مگر متحدہ کا تذکرہ ہوا تو وہ جم کر برسے۔چائنہ کٹنگ اور گھوسٹ ملازمین کی بھرتی سمیت الزامات کی بارش کر دی ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کوئی پلاٹ، نالہ نہیں چھوڑا، مزید کھانے نہیں دیں گے ، ایم کیو ایم والے شور اتنا مچاتے ہیں کہ لوگ سچ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، صفائی کا کام کے ایم سی کا نہیں ڈی ایم سی کا ہے، جن کے پاس عملہ اور گاڑیاں سب موجود ہیں۔پی پی سینیٹر نے متحدہ دور میں گھوسٹ ملازمین بھرتی کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایم سی، واٹر بورڈ اور کے ڈی اے میں ملازمین کی تعداد 2005ء میں 16 ہزار تھی، گھوسٹ ملازمین بھرتی ہونے سے مصطفیٰ کمال کے دور میں ملازمین کی تعداد بڑھ کر 60 ہزار ہو گئی۔ یہ لوگ تنخواہیں حکومت سے لیتے ہیں اور کام ایم کیو ایم کے بانی لیتے تھے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے الزامات پر ایم کیو ایم کے رہنماارشد ووہرا نے کہا ہے کہ پی پی پی گڑھے مردے اکھاڑ رہی ہے، کے ایم سی ملازمین کی تعداد بڑھی نہیں بلکہ کم ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ بچہ بچہ جانتا ہے کمیشن کون کھاتا ہے۔ جلد دکھا دیں گے نالوں پر قبضہ کس نے کیا، بریف کیس تو وقار مہدی ہی لے کر لندن ہونگے ۔فیصل سبزواری کو سندھ سیکریٹریٹ کمیشن ایجنٹ کا دفتر لگنے لگا، کہتے ہیں پیپلز پارٹی والے تو بینظیر پارک کا کمیشن بھی کھا گئے، سڑکوں کی بجائے گینگ وار کا تحفہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میئر کراچی عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں، 100 روزہ صفائی مہم میں پیپلز پارٹی نے رخنے ڈالے۔ فیصل سبزواری نے یہ بھی کہا کہ وسائل، اختیار نہ ہونے کے باوجود مہم شروع کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتے میں سپریم کورٹ میں مقدمہ لیکر جا رہے ہیں۔انہوں نے پی پی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سوئس بینکوں کی تفصیلات آنے دیں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے نام آئیں گے، ضرورت پڑی تو استعفیٰ بھی دیدیں گے۔

پی پی پی، ایم کیو ایم

مزید :

صفحہ اول -