حکم عدولی کی سزا، ٹرمپ نے نیو یارک کے وفاقی پراسیکیوٹر کو برخاست کر دیا

حکم عدولی کی سزا، ٹرمپ نے نیو یارک کے وفاقی پراسیکیوٹر کو برخاست کر دیا
 حکم عدولی کی سزا، ٹرمپ نے نیو یارک کے وفاقی پراسیکیوٹر کو برخاست کر دیا

  

نیو یارک ( نیٹ نیوز)مریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اہم پراسیکیوٹر کو برخاست کر دیا ہے۔انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کو عہدے پر قائم رہنے کو کہا تھا۔امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کے مقرر کردہ نیو یارک کے وفاقی پراسیکیوٹر کو مستعفی ہونے سے انکار کے بعد برخاست کر دیا گیا۔پیمر بھرارا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ میں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا تو مجھے ہٹا دیا گیا ہے۔‘ٹرمپ نے حکم عدولی پر اٹارنی جنرل کو برطرف کر دیا۔ اْس فہرست میں ان کا بھی نام تھا جس میں سابق صدراوباما کی جانب سے مقرر کیے گئے پراسیکیوٹرز کے نام تھے جن سے محکمہ انصاف نے مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ بھرارا نے مزید ٹویٹ کیا ہے کہ نیویارک کے اٹارنی ہونا میری پیشہ ورانہ زندگی کے لیے ہمیشہ قابلِ عزت رہے گا،عموماً نئے صدور سابق صدر کے مقرر کیے گئے عہدے داران کو تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن یک مشت اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو تبدیل کرنا بعض لوگوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ مسٹر بھرارا کا اس فہرست میں نام آنا کافی حیران کن تھا کیونکہ انھوں نے نومبر میں اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے عہدے پر برقرار رہنے کو کہا ہے اور انھوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے۔ہ پراسیکیوٹر اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انھوں نے بدعنوانی سے متعلق انتہائی اہم مقدمات اور وال سٹریٹ بینکرز کے خلاف مقدمات کی پیروی کی۔انھوں نے ڈیموکریٹک اور رپبلکن دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمات چلائے۔حال ہی میں انھوں نے نیو یارک کے میئر بل ڈی بلاسیو کے خلاف فنڈز اکٹھے کرنے کی تحقیقات کی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -