آئی جی پنجاب نے صوبے بھر کے 55ڈی ایس پیز کی سنیارٹی ری فکس کردی

آئی جی پنجاب نے صوبے بھر کے 55ڈی ایس پیز کی سنیارٹی ری فکس کردی

  

ملتان(کرائم رپورٹر) محکمہ پنجاب پولیس میں ترقی کے حصول کے لیے سرد جنگ جاری ہے۔ خلاف ضابطہ ترقی پانے والےافسران کی تنزلی کے بعد آئی جی پنجاب نے صوبہ بھر کے55 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کی سنیارٹی بھی ری فکس کر دی۔سینئر ڈی ایس پیز نئی سنیارٹی ملنے پر مضطرب ایس پی کے رینک پر ترقی ناممکن ہوگئی۔ڈی ایس پی کے عہدے پر ہی ریٹائر ہوجائینگے۔افسران نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرلیا۔تفصیل کے مطابق کچھ روز قبل انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا نے صوبہ بھر کے 55ڈی ایس پیز کی سنیارٹی ری فکس کرنے کے احکاما ت جاری کیے ہیں۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب پولیس میں غیر متوازی بھرتیاں اس کا سبب بنی ہیں۔پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتیوں کے بعد یہ فارمولا طے پایا تھا کہ پروبیشنر اے ایس آئی 3سال بعد سب انسپکٹر 5سال بعد انسپکٹر اور 7سال بعد ڈی ایس پی کی سنیارٹی حاصل کرے گا۔تاہم 1993 ,1995,اور1998 میں بڑے پیمانے پر ڈائریکٹ انسپکٹرز بھرتی ہونے کے بعد پولیس میں نچلے سکیل پر سنیارٹی کا بڑا مسئلہ سامنے آیا۔مذکورہ انسپکٹرز نے عدالتوں سے رجوع کر کے ترقی کے لیے راہ ہموار کی ،اور پولیس کے قانون once a senior always a seniorکے تحت انسپکٹر سے ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی حاصل کی ۔آئی جی پنجاب نے اس قانون کے تحت 2003میں ڈی ایس پی ترقی پانے والے افسران کو 2016ء سے سنیارٹی دی ہے۔اسی طرح 2005میں ڈی ایس پی بننے والوں کو 2015جبکہ 2010میں ڈی ایس پی بننے والوں کو بھی 2016سے سنیارٹی دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔جس سے ان کی ایس پی کے عہد ے پر ترقی اب ناممکن بن چکی ہے۔ اس کی وجہ ان کی عمر ہے مذکورہ ڈی ایس پی کی سروس مکمل میں ہونے میں کچھ سال رہ گئے ہیں۔جس سے ان کی بطور ایس پی کے عہدے پر ترقی ناممکن بن گئی ہے۔مذکورہ افسران نے فیصلے کے بعد تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ واحد محکمہ پولیس ہے جہاں ترقی کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں۔جس سے ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔مذکورہ افسران نے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرلیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -