مردم شماری:ظلط بیانی پر 6ماہ قید و جرمانہ سزا ،نادرا ہر فرد کی تصدیق کریگی

مردم شماری:ظلط بیانی پر 6ماہ قید و جرمانہ سزا ،نادرا ہر فرد کی تصدیق کریگی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مردم شماری کا 18.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ مردم شماری میں دہری شہریت والوں کو بھی گنا جائے گا اور پہلی مرتبہ ٹرانس جینڈرز(ہیجڑوں) کو بھی گنا جائے گا، مردم شماری کے عمل میں صرف سرکاری ملازمین حصہ لے رہے ہیں، مقامی افراد ہی اپنے علاقے کے لوگوں کی خانہ و مردم شماری میں حصہ لیں گے۔بے گھر افراد کو بھی گنا جائے گا ۔ غلط معلومات دینے پر 15 ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔ غلط معلومات دینے پر 15 ہزار روپے جرمانہ اور 6 ماہ تک قید ہو سکتی ہے،اس مقصد کے لئے ایک لاکھ 18 ہزار 9 سو 18 افراد کو تربیت دی گئی ہے، ہر پاکستانی کو گنا جائے گا۔ افغان مہاجرین کی تعداد کیا ہے؟ گنتی کی جائے گی اور حلقہ بندیاں بھی مردم شماری کے تحت ہی کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ہمراہ مردم شماری کی تفصیلات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ افواج پاکستان کے ملک بھر میں سکیورٹی کے حوالے سے جاری آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری پہلے نہیں کروائی جا سکی۔ہمیں نادرا کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ ہمارا ملک چھٹی خانہ و مردم شماری کیلئے مکمل طور پر تیار ہے تاہم چونکہ ہم 19 برس بعد اس عمل سے گزرنے جا رہے ہیں تاہم یہ ہم سب کیلئے سیکھنے کا موقع بھی ہو گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نیمردم شماری کے حوالے سے پریس کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ ہے کہ مردم شماری میں پاک فوج کی خدمات لی جائیں۔ سکیورٹی مسائل کے باعث دو مرحلوں میں مردم شماری کروائی جا رہی ہے۔ ہر اینیومیریٹرز کے ساتھ ایک سپاہی ہو گاجس کا نادرا کے ساتھ لنک ہو گا، جھوٹ بولنے یا غلط معلومات دینے کو جرم تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں دو لاکھ افراد حصہ لیں گے۔ ماسٹر ٹرینرز نے ہر شہر میں جا کر اینیومیریٹرز کو ٹریننگ دی ہے۔ کوئی سپاہی یا اینیومیریٹر اکیلا نہیں ہو گا اس کے ساتھ سکیورٹی کا پورا نیٹ ورک موجود ہو گا۔ مردم شماری کے عمل کو محفوظ بنانے میں تمام سکیورٹی ادارے حصہ لیں گے، ٹی ڈی پیز کی پہلے سے رجسٹریشن ان کے علاقوں کے حساب سے ہو چکی ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -