لنڈی کوتل ،ہسپتال میں سہولیات کی عدم سہولیات کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ

لنڈی کوتل ،ہسپتال میں سہولیات کی عدم سہولیات کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ

  

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ) لنڈیکوتل بازار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سہولیات کی عدم سہولیات کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا مظاہرے کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی خیبر ایجنسی کے صدر حضرت ولی افریدی کر رہے تھے مظاہرین نے ہسپتال چوک سے لیکر لنڈیکوتل پریس کلب تک احتجاجی مارچ بھی کیا اور محکمہ صحت حکام کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر حضرت ولی افریدی ،خیبر یوتھ کے صدر عامر افریدی ،اور شاہ رحمن شینواری نے کہا کہ لنڈیکوتل ہسپتال میں مریضو ں کیلئے کسی قسم کی سہولیات مہیا نہیں ہے ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں صرف کھانسی زکام اور بخار کی علاج ممکن ہیں اسکے علاوہ دوسرے بیماریوں کے علاج کیلئے نہ قابل ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ کوئی سہولت ہیں جبکہ زیادہ تر مریضوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں بھیج دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی نجکاری کی بھر پور مذمت کر تے ہیں ہسپتال کی نجکاری غریب عوام کی معاشی قتل ہے اور ان کے خلاف ہر فورم پر اواز اُٹھائینگے ،مقررین نے کہا ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر گز شتہ سات سالوں نہیں ہے اور تقریبا بارہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے اکثر مریضوں کو پشاور ہسپتال منتقل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ لنڈیکوتل ہسپتال کے گائناکالوجسٹ ڈاکٹر جمرود ہسپتال میں ڈیوٹی کرتے ہیں اور تنخواہ لنڈیکوتل ہسپتال دی جاتی ہیں اور بعض ڈاکٹر زڈیوٹی پر بھی حاضر نہیں ہوتے جبکہ ہسپتال میں غیر ملکی کروڑوں روپے فنڈ سے نئے بلاکس تعمیر کئے گئے اور کروڑوں روپے کی مشینری بھی خرید ی گئی جو اب بھی گزشتہ چار سولوں سے ہسپتال کے گوداموں میں پڑی ہیں جو خراب ہونے کا اندیشہ ہے ان تمام صورتحال پر محکمہ صحت اور ڈائیریکٹر فاٹا خاموشی اختیار کی ہے جو ان کی غفلت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں انہوں نے کہا کہ لنڈیکوتل ہسپتال مسائل پر ممبر قومی اسمبلی اور سنیٹر بھی خاموش ہیں ور ابھی تک ہسپتال کے حالت ٹھیک کرنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے جس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں انہوں نے خیبر پختو نخوا کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال کے حالت کو ٹھیک کرنے کیلئے صحیح معنوں میں اقدامات کئے جائے تاکہ غریب عوام کی علاج معالجہ اپنے علاقوں میں ممکن ہو سکے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -