تربیلاڈیم خالی،پانی کابحران سنگین،بجلی کی پیداوارگھٹ گئی

تربیلاڈیم خالی،پانی کابحران سنگین،بجلی کی پیداوارگھٹ گئی
تربیلاڈیم خالی،پانی کابحران سنگین،بجلی کی پیداوارگھٹ گئی

  

لاہور(ویب ڈیسک) ملک کے سب سے بڑے تربیلاڈیم میں پانی کاذخیرہ ختم ہونے سے آبی بحران سنگین ہوگیاجبکہ بجلی کی پیداواربھی کم ہوگئی جس کے باعث لوڈشیڈنگ مزیدبڑھنے کاخدشہ ہے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق ڈیم سے بجلی کی پیداوار بھی 40 سے 50 فیصدکم ہوگئی جبکہ منگلاڈیم میں صرف14فٹ پانی باقی رہ گیا،صورتحال کے باعث زرعی ضروریات کیلئے پانی کی فراہمی پربھی سوالیہ نشان لگ گیا۔واپڈاکی طرف سے جاری اعدادوشمارمیں بتایاگیاکہ تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 1380 فٹ کے ڈیڈ لیول تک رہ گیا اور اب ڈیم میں قابل استعمال پانی صرف60 ہزار کیوسک باقی ہے ، تربیلا میں پانی کی آمد16 ہزار 800 کیوسک اور اخراج16 ہزار کیوسک ہے ،لہذاآئندہ ہفتے تک تربیلا ڈیم سے صرف اتنا ہی پانی خارج کیا جا سکے گا جتنا پانی ڈیم میں پہنچے گا۔حکام کاکہناہے کہ اگر پانی کی آمد سے زیادہ اخراج کیا گیا تو ہائیڈل پاورسسٹم کو پانی میں موجودگار کی وجہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام 2013ءسے 2016ءتک تمام امتخانات کالعدم قرار دیدیے

اسی طرح دوسرے بڑے منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈلیول سے 14 فٹ اوپر ہے ،یہاں پانی کا ذخیرہ 1054 فٹ کی سطح پر ہے جبکہ ڈیڈ لیول 1040 فٹ ہے ،چنانچہ خدشہ ہے کہ اس ڈیم میں بھی2روزتک پانی ڈیڈلیول کو پہنچ جائیگا،اس وقت منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 26ہزار700اور اخراج20ہزار کیوسک جبکہ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 12 ہزار کیوسک ہے۔دوسری جانب چشمہ ریزر وائرمیں بھی پانی کا ذخیرہ تقریباًختم ہو چکا،یہاں پانی کا ڈیڈ لیول 637فٹ ہے جبکہ اس وقت پانی کی سطح 639 فٹ تک ہے۔حکام نے بتایاکہ دونوں بڑے ڈیموں سے پانی کا اخراج انتہائی کم ہونے کے باعث پن بجلی کی پیداوارصرف ایک ہزار میگاواٹ تک رہ گئی ہے ، جو کہ پانی کی پوری دستیابی پر 5ہزارمیگاواٹ سے زیادہ بجلی فراہم کرتے تھے ،تاہم اب بجلی پیداوار کا تمام بوجھ تھرمل اور گیس پاور پلانٹس کو برداشت کرناپڑیگا،جس کے نتیجہ میں بجلی لوڈ شیڈنگ بھی بڑھنے کاخدشہ موجود ہے اور بجلی کی قلت4ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے ،اس کے باعث شہروں میں کم از کم6اور دیہی علاقوں میں9گھنٹے تک بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،یہ صورتحال وسط مئی تک گلیشئرز کے پگھلنے تک برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ،گلیشئرز پگھلنے سے دونوں بڑے ڈیموں میں پانی کی آمد بڑھے گی تو پانی اور بجلی کے دونوں بحران ٹل سکیں گے۔

دریں اثنا انڈس ریورسسٹم اتھارٹی کے چیئرمین راﺅ ارشاد احمد نے کہاکہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح اپنے ڈیڈ لیول 1380 فٹ تک گرنے کے بعد صوبوں کو28 ہزار کیوسک پانی کی سپلائی کا انڈنٹ معطل کردیا گیا، اب صوبوں کو فراہمی ڈیم میں آنیوالے 12 سے 13 ہزار کیوسک کے مطابق رن آف دی ریور(جتنی پانی کی جھیل میں آمد اتنا ہی اخراج) کی بنیاد پر ہوگی۔

مزید :

لاہور -