بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ، چھٹی قسط

بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ، چھٹی ...
بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ، چھٹی قسط

  

شام سے جلا وطنی کے بعد ممالک مشرق میں بنی اسرائیل کی موجودگی اور رہائش پذیر ہونے کے ثبوت میں مزید چند واقعات کا بیان کرنا بہتر ہوگا۔

’’اسرائیلی قبائل بہت ہی سرگردانی کے بعد موجودہ افغانستان کی زمین پر دکھائی دینے لگے تھے۔‘‘ (ٹویوسکن بحوالہ یوسفی)

پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی اپنی کتاب تاریخ ایران جلد اول میں ایرانی مؤرخ حسن پیرینہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ۔۔۔

’’قدیم تاریخوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو اس وقت آرمینیہ کے بادشاہ ہائک دوئم نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ اس مہم میں جو یہودی اسیر کرکے آرمینیہ لائے گئے ان میں شامبات نامی یہودی کا ایک کنبہ (قبیلہ) بھی تھا۔ شامبات کے بیٹے کا نام باگارات تھا۔ اہل آرمینیہ لکھتے ہیں کہ اس کنبے کے افراد بہت دانشمند تھے۔ا س لئے انہوں نے بڑے بڑے رتبے حاصل کئے پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ یہی لوگ آرمینیہ اور گرجستان (غرجستان) کے بادشاہ بنے۔‘‘

پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عبدالجبار شاہ اپنی تصنیف بنی اسرائیل میں تاریخ قدیم بخت نصر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ :

’’بنی اسرائیل بخارا، مرو اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔‘‘

فاضل کرنل ایچ مچل کی رائے کے مطابق ۵۰۳۔۵۲۰ میں کاسمس نے ذکر کیا ہے کہ ’’چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں جیحون کے کنارے پر عیسائی آبادی تھی۔ عربوں نے بخارا میں بھی ایسا ہی پایا۔‘‘

آرمینس ویمبرے(ہنگری) پروفیسر پرتھ یونیورسٹی اپنی تصنیف تاریخ بخارا کے مقدمہ میں بخارا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’مغرب کی سمت سروان کا ضلع اور شہر پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔ آب و ہوا غیر معتدل مگر باشندے (یعنی سروانی) بہت صحت مند اور جفا کش تھے۔ زردگرد جو ساسانیوں کے زمانہ میں عیسائیوں کی مشہور قیام گاہ تھا یہاں سے دس فرسخ دور تھا اسی طرح یہاں پر برک(برکی) اور کیشی(کانسی) بھی مشہور مقامات تھے جو اضلاع جیحون اور سیحون) کے منبع کے نزدیک ہیں۔‘‘

اسی کتاب کے باب اوّل میں اسلام سے پہلے کے دور کے زیر عنوان وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’متعاقب صدی میں اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ شاپور کے عہد میں عیسائیوں کو تنگ کیا گیا اور طوس و مرو میں تین سو چونتیس بڑے پادریوں کے اسقف خانے تھے۔‘‘

تاریخ بخارا کے ان اقتباسات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دریائے جیحون و سیحون اور طوس و مروکے علاقوں میں جہاں کہیں بھی عیسائیوں کا ذکر آیا ہے وہ یہی افغان قبائل تھے۔ عربوں کی آمد کے وقت ان عیسائیوں کا حکمران ماہویہ سوری تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد کے تحت مرزبان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور ان کا دارالحکومت مرو شہر تھا۔ یزدگرد نے عربوں کے خلاف جب مرو پر چڑھائی کی تو ماہو یہ سوری نے عربوں کی حمایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ مرو سے شکست کھا کر واپسی پر یزدگرد کو قتل کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد ماہویہ سوری نے اپنے تمام ہم قوم افغانوں کے ساتھ جو مذہب عیسائیت پرتھے مسلمان ہو کر عربوں کا پورا اعتماد حاصل کرلیا اور خلیفہ وقت کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر لئے جیسا کہ تعلیقات پٹہ خزانہ کابل صفحہ ۲۲۲ پریوں درج ہے:

’’ماہویہ سوری در عصر حضرت علیؓ بہ کوفہ رفت داز طرف حضرت خلیفہ برائے جمع جزیہ و خراج و مالیات وغیرہ بحیثیت مرزبان انجاشانختہ شد‘‘

ماہویہ سوری کے متعلق امام بلازری اپنی تصنیف فتوح البلدان حصہ دوم میں لکھتے ہیں’’کہتے ہیں۔ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مرو کا مرزبان ماہویہ کوفہ آیا۔ حضرت علیؓ نے اس کے لئے زمینداروں اور اسادرہ اور دشلادین کے نام فرمان لکھا کہ ’’آئندہ وہ اسی (یعنی ماہویہ) کو جزیہ اداکیا کریں۔‘‘

کہتے ہیں کہ اس فرمان پر اہل خراسان نے عہد توڑ دیا لیکن ماہویہ نے فوجی طاقت سے اس بدامنی کو دبا کر امن و امان قائم کر لیا۔ اور جیحون پار کے علاقہ پر بھی فوج کشی کرکے تورانیوں کو مضبوطی سے قابو میں لایا اور تمام شورش کو کچل دیا۔

جاری ہے۔ ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید :

شجاع قوم پٹھان -