ستائیسویں قسط۔ ۔ ۔فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

ستائیسویں قسط۔ ۔ ۔فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز
ستائیسویں قسط۔ ۔ ۔فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

  

مشرقی پاکستان بھی ہمارا کئی بار جانے کا اتفاق ہوا‘ اس کا تذکرہ آتا رہے گا۔ مگر ایک سفر بہت یاد گار تھا۔ بہتر ہو گا کہ اس کا ذکر ہو جائے۔ فلم ساز اے مجید جو کئی بار پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چےئر مین منتخب ہوئے‘ مشرقی پاکستان میں ایک فلم بنا رہے تھے۔ یہ 1959ء کی بات ہے۔ اس فلم کا نام ’’جنگلی‘‘ تھا۔ اس کی کہانی ہم نے لکھی تھی اور ہدایت کار حسن طارق تھے۔ اس کی فلم بندی سندر بن کے حسین و گنجان جنگلوں میں ہونی تھی۔ پروگرام یہ تھا کہ بیشتر فلم بندی جنگل ہی میں ختم کر لی جائے۔ ’’جنگلی‘‘ ایک ایسے شخص کی کہانی تھی جو جنگلی جانور پکڑ کر بیرون ملک بھیجا کرتا تھا۔ یہ کردار علاؤالدین کو سونپا گیا تھا۔ اس فلم کی ہیروئن نیلو تھیں۔ یہ جنگل میں پرورش پانے والی ایک الھڑ لڑکی کا کردار کررہی تھیں۔ اس لڑکی کا باپ شہر میں قتل کر کے بچی کو لے کر فرار ہو گیا اور گھنے جنگل میں رہنے لگا۔ بچی نے اسی جنگل میں پرورش پائی۔ باپ کے سوا کوئی دوسرا شخص اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جب ایک دن جنگل میں ہیرو کو دیکھا تو بہت حیران ہوئی اور جھونپڑی میں واپس جا کر باپ کو بتایا کہ میں نے تمہارے جیسی ایک چیز دیکھی ہے۔ باپ فکر مند ہو گیا اور بیٹی کو مشورہ دیا کہ اس کے نزدیک بھی نہ جانا۔ وہ مرد ہے اور تجھے مردوں سے دور رہنا چاہیے۔

چھبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بیٹی نے پوچھا ’’مرد تو تم بھی ہو ؟‘‘

باپ نے کہا ’’مگر میں تیرا باپ ہوں۔ یہ بات تیری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ بس وہی کر جو میں نے بتایا ہے۔‘‘

باپ کا کردار اجمل صاحب ادا کر رہے تھے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ جب جنگل میں لڑکی کی ملاقات دوبارہ ہیرو سے ہوئی تو وہ بھاگنے لگی۔ اس نے روک کر بھاگنے کا سبب پوچھا تو ہیروئن نے بھولے پن سے صاف بتادیا کہ باپو نے تم سے بات کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ اس کردار کی خصوصیت یہ تھی کہ ہیرو اس سے جو بھی باتیں کرتا تھا وہ جا کر باپ کو بتا دیا کرتی تھی اور پھر اس سے ان کا مطلب پوچھا کرتی تھی۔

اس فلم میں اداکار ساون کو ایک جنگلی قبیلے کے سردار کا کردار دیا گیا تھا۔ ساون اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے کردار کیا کرتے تھے۔ پہلی بار ایک اہم کردار انہیں ملا تو انہوں نے اس کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔

اس فلم میں سب سے دلچسپ کردار نذر کا تھا۔ وہ کامیڈین تھے۔ ہیرو کے دوست تھے لیکن بے حد ڈرپوک تھے۔ اگر ان کا بس چلتا تو ایک لمحہ بھی جنگل میں نہ رہتے مگر دوست کی محبت کے ہاتھوں مجبور تھے۔ چوہے تک سے ڈرتے تھے لیکن ہر قسم کے درندوں سے واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ ایک بار جنگل میں جنگلی ان دونوں کو پکڑ لیتے ہیں اور نذر صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ آدم خور ہیں۔ ہمیں بھون کر یا کچا کھاجائیں گے۔ انہیں ایک جھونپڑی میں قید کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہاں سے فرار ہونے کے لئے زمین کے اندر ایک سرنگ کھودتے ہیں۔ کئی دن کی مشقت کے بعد سرنگ سے ایک جگہ باہر نکلتے ہیں تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ مگر دیکھتے ہیں کہ وہ سرنگ قبیلے کے سردار کی جھونپڑی میں جاکر نکلی ہے۔ دوبارہ سرنگ کے راستے بھاگنے کی کوشس کرتے ہیں مگر پکڑے جاتے ہیں۔ کہانی کا یہ خاکہ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ آپ کو اس فلم کے موضوع اور ماحول کے بارے میں اندازہ ہو جائے۔

فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں تمام اداکاروں کو پہلے ڈھاکہ اور پھر سندر بن کے جنگلات میں جانا تھا۔ جنگل کے اندر جھونپڑیوں کی ایک بستی بنائی گئی تھی اور روشنی کے لئے جنریٹر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سارے اداکار لاہور سے بھیج دیے گئے۔ سب سے آخر میں نذر صاحب رہ گئے۔ نذر صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ فضائی سفر سے ان کی جان نکلتی تھی۔ وہ کراچی اور لاہور کا سفر بھی ٹرین کے ذریعے کرتے تھے۔ جبکہ دوسرے اداکار ہمیشہ ہوائی جہاز کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ آوٹ ڈور شوٹنگ کے لئے بھی وہ اپنی وین کے ذریعے ہی جایا کرتے تھے۔ جس میں تمام گھریلو سامان اور سونے کا بھی بندوبست تھا۔ ان کی ایک نہ ایک بیگم ان کے ہمراہ ضرور جاتی تھیں۔ نذر صاحب کی دو بیویاں اور کئی بچے تھے۔ دونوں بیگمات ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔ اور آخر دم تک نذر صاحب نے یہ وضع نبھائی۔

ڈھاکہ جانے کے لئے ٹرین تو استعمال نہیں کی جا سکتی تھی۔ بحری جہاز سے بہت زیادہ وقت لگ جاتا اس لئے مجبوراً ہوائی جہاز کے ذریعے انہیں لاہور سے ڈھاکہ جانا پڑا۔ انہیں لاہور سے ہوائی جہاز میں سوار کرنے کی ذمے داری ہمیں سونپی گئی تھی کیونکہ اندیشہ تھا کہ ڈر کے مارے کہیں وہ عین وقت پر اپنا ارادہ ہی منسوخ نہ کر دیں۔ جس روز انہیں رخصت ہونا تھا اس سے پہلے ان کے گھر میں دعا درود کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ نیاز بانٹی جا رہی تھی۔ قرآن شریف کے ختم ہو رہے تھے۔ تعویذ گلے میں اور بازو میں باندھے جا رہے تھے۔ امام ضامن اتنے تھے کہ ان کا وزن خود نذر صاحب کے وزن کے برابر ہو گیا تھا۔ ائر پورٹ پر ان کی دونوں بیگمات اور تمام بچے انہیں خدا حافظ کہنے کے لئے موجود تھے اور وہ ہر ایک سے یوں رخصت ہو رہے تھے جیسے جنگ پر جا رہے ہوں۔ بیویاں اور بچے رو رہے تھے۔ خود نذر صاحب بھی بار بار آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ خدا خدا کر کے انہیں ہوائی جہاز میں سوار کرایا گیا اور وہ ڈھاکہ روانہ ہو گئے۔ ڈھاکہ تو وہ خیریت سے پہنچ گئے مگر جب جنگل میں جانا پڑا تو بہت گھبرائے۔ دوسرے لوگ بھی ابتدا میں تو پریشان رہے کیونکہ جنگلی جانور وہاں پالتو کتے بلیوں کی طرح گھومتے پھرتے تھے۔ مگر پھر بھی ماحول کی ندرت اور خوبصورتی نے سب کے دل موہ لئے۔ مگر نذر صاحب کا ڈر کے مارے براحال رہا۔ شوٹنگ بھی شروع ہو گئی۔ مجید صاحب نے ہیرو کے کیمپ میں بہت سے جنگلی جانوروں کو پنجروں میں بند کر کے رکھا تھا تاکہ حقیقی ماحول پیدا کیا جا سکے۔ نذر صاحب ان پنجروں کے پاس تک نہیں جاتے تھے ایک روز شوٹنگ کے لئے گئے تو جنگل میں علاؤ الدین صاحب کو ایک چیتے کا بچہ نظر آگیا۔ اسے گھیر گھار کر پکڑ لیا گیا اور یہ بچہ سارے یونٹ کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ مگر نذر صاحب کی راتوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ماں باپ یقیناًاس کی تلاش میں یہاں تک پہنچ جائیں گے اور ہم سب کو کھا جائیں گے۔ اس چیتے کے بچے کے ساتھ علاؤالدین نے کئی مناظر بھی فلمائے۔ وہ اسے اپنے کاندھے پر بٹھائے رکھتے تھے اور اس کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے۔ وہ بھی سب سے مانوس ہو گیا تھا اور پالتو بلی کی طرح گھل مل گیا تھا۔

چند دن تو بہت ٹھیک کام ہوا۔ سب لوگ مصروف ہوگئے تو ہر ایک کی توجہ صرف فلم کی طرف مبذول ہو گئی۔ مگر پھر تقدیر نے اپنا رنگ دکھایااور جنریٹر خراب ہو گیا۔اسے مرمت کے لیے چٹاگانگ بھیجا گیا اور اس اثناء میں شوٹنگ معطل ہو گئی۔ قسمت نے ایک اور ستم یہ ڈھایا کہ ایک رات طوفان آ گیا۔ مشرقی پاکستان کے طوفان کا حال تو سبھی جانتے ہیں مگر جو لوگ گھنے جنگل میں گھاس پھونس کی جھونپڑیوں میں قیام پذیر ہوں اور انہیں قیامت خیز طوفان گھیر لے تو سوچئے کہ کیا عالم ہو گا۔ جھونپڑیاں اڑ گئیں۔ سامان کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔ بارش ایسی موسلا دھار کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ خدا جانے کس طرح فلم یونٹ کے لوگوں نے وہ رات کاٹی۔ صبح ہوتے خدا خدا کر کے طوفان ختم ہوا تو ہر طرف بربادیوں کی داستانیں بکھری ہوئی تھیں۔ شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا جو کہ معجزے سے کم نہ تھا۔ ایک اور خوش قسمتی یہ تھی کہ جیپیں صحیح حالت میں تھیں۔ چنانچہ واپس چٹا گانگ اور پھر لاہور جانے کافیصلہ کیا گیا۔ کافی دن پہلے ہی ضائع ہو چکے تھے۔ اور سب ادارکار وں کو دوسری فلموں کی شوٹنگ کے لئے لاہور بھی پہنچنا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ شوٹنگ کے لئے سارا یونٹ دوبارہ جائے گا۔ مگر قسمت کو منظور نہ تھا۔ ہر بار کوئی نہ کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی رہی۔ آخر حسن طارق صاحب نے باقی ماندہ شوٹنگ مغربی پاکستان میں کرنے کا پروگرام بنایا۔ گھنے جنگل تلاش کر کے کچھ شوٹنگ بھی کی گئی۔ بستی کا سیٹ دوبارہ لگایا گیا۔ قبیلے کے مندر کا سیٹ بھی لاہور کے اسٹوڈیو میں تعمیر ہوا جس میں نیلو کا رقص اور علاؤ الدین اور ساون کی خوفناک لڑائی بھی فلم بند کی گئی۔ مگر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ اگر مکمل ہو کر ریلیز ہو جاتی تو یہ کئی لحاظ سے ایک منفرد اور مختلف فلم ہوتی۔ لیکن قدرت کو منظور نہ تھا۔ تمام سرمایہ‘ کوششیں‘ اداکاروں کی محنت۔ ہدایت کار کی جانفشانی۔ سبھی کچھ رائگاں چلا گیا۔ اب تو خیر اس فلم کے مکمل ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

’’جنگلی‘‘ اب ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اس کے ہدایت کار حسن طارق رہے نہ ہیرو علاؤالدین۔ اجمل صاحب بھی اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ یہاں تک کہ فلم کا نیگیٹو تک باقی نہیں رہا۔ اگر باقی رہ گئیں تو صرف یادیں اور کہانیاں۔

مگر ہم کچھ آگے نکل آئے ہیں۔ فلمی صنعت کے ابتدائی زمانے کی بہت سی باتیں ابھی بیان کرنے سے رہ گئی ہیں جن میں سے بعض بہت دلچسپ ہیں۔

یہ تو آپ کو بتا چکے ہیں کہ رات کو اگر آخری بس نکل جاتی تھی تو ہمیں بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ جاتا تھا۔ مال روڈ سے ماڈل ٹاؤن جانے کے لئے رات کے وقت تانگے کے سوا کوئی دوسری سواری میسر نہ تھی اور تانگے والے رات کے وقت اتنی دور جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ آج کل کا لاہور تو تھا نہیں جہاں آدھی رات کو بھی چہل پہل رہتی ہے۔ اس زمانے میں تو اندھیرا ہوتے ہی لاہور کے چند علاقوں کے سوا ہر طرف ویرانی اور سناٹا ہوتا تھا۔ فیروز پور روڈ پر اچھرہ سے آگے سڑک پر روشنی تک نہ تھی گویا چار پانچ میل کا علاقہ تاریکی میں ڈوب ہوا تھا۔ اندھیری راتوں میں چور اچکے بھی مصروف عمل ہوتے تھے۔ سڑک پر کوئی دوسری سواری یا راہ گیر دورر دور تک نظر نہیں آتا تھا۔ ان حالات میں تانگے والے کو کیا پڑی تھی کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے دور دراز علاقے تک جائے اور پھر وہاں سے واپس بھی آئے۔ گھوڑا چاہے کتنا ہی اچھا اور تیز کیوں نہ ہو وہ ماڈل ٹاؤن تک پہنچنے میں ڈیڑھ دو گھنٹے سے کم وقت نہیں لیتا تھا کیونکہ سارے دن کا تھکا ہوا ہوتا تھا۔ ان حالات میں ماڈل ٹاؤن جانے پر وہی تانگے والے آمادہ ہوتے تھے جن کا گھر اچھرہ یا مسلم ٹاؤن میں ہوتا تھا۔ اس طرح انہیں آنے جانے میں تین گھنٹے لگ جاتے تھے۔ کوئی نہ کوئی تانگا تو مل ہی جاتا تھا مگر بہت نخروں کے بعد۔ کرائے پربھاؤ تاؤ بھی ہوتا تھا لیکن پونے دو روپے یا دو روپے میں معاملہ طے ہو جاتا تھا۔ آپ سوچیں گے کتنا کم کرایہ تھا مگر اس زمانے میںیہ بھی بہت بڑی رقم تھی۔

جاری ہے۔ اٹھائیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -