توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت نہیں بچ سکتا، ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ آرٹیکل 19 کی آڑ میں کوئی ایسا عمل نہ کرے: جسٹس شوکت عزیز صدیقی

توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت نہیں بچ سکتا، ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ ...
توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت نہیں بچ سکتا، ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ آرٹیکل 19 کی آڑ میں کوئی ایسا عمل نہ کرے: جسٹس شوکت عزیز صدیقی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت نہیں بچ سکتا، ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ آرٹیکل 19کی آڑ میں کوئی ایسا عمل نہ کرے۔ لوگوں کو آزادی اظہار کے نام پر کنفیوز کیا جارہا ہے، عوام کو آرٹیکل 19سے متعلق آگاہ کیا جائے کہ کس قسم کے آزادی اظہار کی اجازت ہے، خبر بیچنے کیلئے ناموس بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت نے گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت 17مارچ تک ملتوی کردی۔

معروف برانڈز کے گرمیوں کے ملبوسات کیلئے شاندار سہولت متعارف، خواتین کیلئے خوشخبری آگئی

تفصیلات کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے مظہر الحق کاکا خیل عدالت میں پیش ہوئے۔ مظہر الحق نے عدالت کو بتایا کہ 3 متنازعہ ویب سائٹس کے علاوہ 6 مزید ویب سائٹس کی بھی نشاندہی کی ہے اور فیس بک کو بھی نوٹس بھیجا ہے جس نے نوٹس ملنے کی تصدیق بھی کر دی ہے، اس معاملے پر اگر کسی کے پاس کوئی معلومات ہیں تو ہمیں آگاہ کرے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت پٹیشن تیار کرکے عالمی عدالت میں جانے پر بھی غور کررہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ کچھ ٹی وی شوز سے تاثر مل رہا ہے کہ ہم کام نہیں کر رہے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ خبر بیچنے کے لئے ناموس بیچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹی وی سکالرز جتنی مرضی کوشش کرلیں آئین میں ترمیم نہیں کرسکتے۔

شادی کے سیزن میں اس چیز سے بال دھونے سے ان میں ایسی چمک آئے گی کہ سب آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا ہے اور وہ تعاون کررہے ہیں۔ فیس بک کی جانب سے 70متنازعہ پیجز بند کردیئے گئے ہیں جبکہ ایک ہفتے میں ذمہ داروں کا تعین کرلیں گے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ توہین رسالت کا مرتکب کسی صورت نہیں بچ سکتا، ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ آرٹیکل 19کی آڑ میں ایسا عمل نہ کرے، فیصلے میں علماءسے بھی مدد حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو میرے آنسو نکلنے پر بھی اعتراض ہے، لوگوںکو آزادی اظہار کے نام پر کنیفوز کیا جارہا ہے۔ عوام کو آرٹیکل 19کے متعلق آگاہ کیا جائے کہ کس قسم کے آزادی اظہار کی اجازت ہے۔ آئین اور قانون کی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کو ہے۔

مزید :

اسلام آباد -