تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف

تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف
تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف

  



آئیندہ قومی انتخابات میں کے پی کے میں تحریک انصاف کو دھچکے لگ سکتے ہیں ۔اسکی وجہ یہاں مقامی قائدین کے باہیم اختلافات ہیں جو پارٹی کی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ ملک کی دیگر جماعتیں آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوچکی ہیں تو تحریک انصاف کو اندورنی اختلافا ت سے فرصت نہیں مل رہی۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت پارٹی انتشار پر موجودہ صورت حال کا نوٹس نہیں لیتی تو آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کا مقابلہ اپنی ہی پارٹی کے باغی کارکنوں سے ہونے کا خدشہ ہے، جس کا فائدہ یقیناً دیگر سیاسی جماعتوں اور بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کو ہو گا۔ 

چند ماہ قبل تک خیبرپختونخوا کے دوسرے بڑے شہر ضلع مردان کی سیاسی میدان میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی آمنے سامنے دیکھائی دے رہی تھیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اپنے جلسوں میں اے این پی کے گزشتہ دور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزامات عائد کئے جاتے تھے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت تحریک انصاف کی حکومت کو نااہل کھلاڑیوں کی حکومت قرار دیتی تھی۔ لیکن سیاسی میدان میں ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب 22فروری کو تحریک انصاف کے کارکن ارشاد خان نے ویڈیو پیغام میں تحریک انصاف ضلع مردان کے صدر ایم پی اے و ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین افتخار مشوانی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے سالے ڈسٹرک کونسلر عبدالستار خان کو ضلع ناظم کا امیدوار نامزد کرنے اور انہیں ضلع ناظم بنوانے کیلئے پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا جس میں 22لاکھ روپے مختلف قسطوں میں میں نے افتخار مشوانی کو فراہم کئے۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری و صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے ارشاد خان کوطلب کیا اور تحریک انصاف ضلع مردان کے سینئر نائب صدر فیصل سلیم اور عمرفاروق کاکاخیل کی موجودگی میں ارشاد کا موقف سننے کے بعد دو دن میں تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ۔ کئی دن گزرنے بعد اس معاملے پر قیادت کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے ارشاد خان نے معاملے کی تحقیقات کیلئے پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کو تحریری درخواست جمع کرائی۔ 2مارچ کو ارشاد خان اور افتخار مشوانی کے سابق سیکرٹری واجد علی ودیگر ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، ارشاد خان کے مطابق ڈسپلنری کمیٹی کے رکن اور مردان سے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے انہیں صاف الفاظ میں کہا کہ افتخار مشوانی میرے دوست ہیں ۔میں کچھ نہیں کہہ سکتا،یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ تحریک انصاف کے نومنتخب جنرل سیکرٹری اسفندیار خان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ٹھیکیدار سے رقم کے مطالبے کی آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئی۔آڈیو ریکارڈنگ منظرعام پر آنے کے بعد اسفندیار خان نے بطور جنرل سیکرٹری اپنی سرگرمیاں معطل کرنے اور خود کو واقعے کی تحقیقات کیلئے پیش کیا۔ تاہم ضلعی صدر افتخار مشوانی نے اگلے روز سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ کرپشن کرنے کے الزام میں اسفندیار خان کو جنرل سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا،جبکہ ارشاد خان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ندیم شاہ ایڈووکیٹ اور ارشاد خان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کیا، تاہم معاملے کو دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود افتخار مشوانی کی جانب سے ندیم شاہ اور ارشاد خان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نظر نہیں آئی۔ افتخار مشوانی کے ترجمان اکرام اللہ کے مطابق افتخار مشوانی کی جانب سے ندیم شاہ اور ارشاد خان کو نوٹس بھجوا دیا گیا جس کے پندرہ دن پورے ہونے کے بعد عدالت سے رجوع کیا جائے گا، جبکہ ارشاد خان اور ندیم شاہ ایڈووکیٹ نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاحال انہیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا البتہاگر کوئی لیگل نوٹس ملتا بھی ہے تو وہ اپنے موقف کا بھرپور دفاع کریں گے۔

سوشل میڈیا پر پارٹی قیادت پر تنقید کے جرم میں تحریک انصاف ضلع مردان کے صدر افتخار مشوانی نے عدنان باچا اور ندیم شاہ ایڈووکیٹ کو پہلے نوٹس جاری کئے اور پھر انکی پارٹی رکنیت منسوخ کردی۔ کرپشن کے انکشافات کے باوجود پارٹی قیادت کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف یوتھ ونگ پشاور ریجن کے سابق جوائنٹ سیکرٹری ندیم شاہ ایڈووکیٹ، عدنان باچا ارشاد خان، افتخار مشوانی کے سابق سیکرٹری واجد علی، پارٹی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ناصرف مندرجہ بالا الزامات دوبارہ دہرائے بلکہ یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ مردان کے تمام سرکاری اداروں سے ماہانہ بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کیلئے افتخار مشوانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الزامات عائد کرنے والے کارکنوں کی پارٹی رکنیت منسوخ کی جاچکی ہے، اب وہ تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہیں ، انکی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں ۔ پارٹی قیادت معاملے کی تحقیقات کرے، اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو میں اسمبلی رکنیت اور ضلعی صدارت سے مستعفی ہو جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے والے کارکنان پارٹی میں عہدوں کا مطالبہ کررہے تھے عہدے نہ ملنے پر سوشل میڈیا پر پارٹی قیادت کی کردار کشی کرنے لگے، کبھی امیر مقام سے ملاقات کرتے ہیں تو کبھی امیر حیدر خان ہوتی کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔ ایم پی اے افتخار مشوانی پر لگے الزامات میں کس حد تک صداقت ہے یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ سکتا ہے تاہم پارٹی قیادت بالخصوص مردان سے تعلق رکھنے پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری و صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان اور ایم این اے علی محمد خان کی خاموشی سے کئی سوالات جنم لینے لگے ہیں۔ دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کی تلاشی کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعت کی قیادت اپنی ہی پارٹی کے ضلعی صدر پر لگے الزامات پر خاموش کیوں ہے۔ دو ہفتوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کوئی تحقیقاتی کمیٹی کیوں قائم نہیں کی جاسکی۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے اور وزیراعظم کا منصب چھوڑنے کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی جماعت کے ضلعی صدر اپنے عہدہ چھوڑ کر خود کو تحقیقات کیلئے پیش کرنے پر رضا مند کیوں نہیں ہورہے؟ علی محمد خان کی جانب سے کارکنوں کا یہ کہنا کہ افتخار مشوانی میرے دوست ہیں اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیا تحریک انصاف کی قیادت احتساب کا نظام صرف دوسروں کیلئے چاہتے ہیں؟

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ