حکومت نے مردم شماری کیلئے فارم میں 5اضافی خانے شامل کر دیے

حکومت نے مردم شماری کیلئے فارم میں 5اضافی خانے شامل کر دیے
حکومت نے مردم شماری کیلئے فارم میں 5اضافی خانے شامل کر دیے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )حکومت نے پاکستان میں 19سال بعد ہونے والی مردم شماری کیلئے فارم میں 5اضافی خانے شامل کر دیے ۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ملک میں رواں ماہ شروع ہونے والی مردم شماری کیلئے چھپوائے گئے فارمز پر 5نئے خانوں کا اضافہ کیا گیا ہے ۔

1-کمیونٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ سال2017ءمیں ہونے والی مردم شماری میں پہلی مرتبہ مخنث افراد کو علیحدہ گنا جائے گا اور اس مقصد کیلئے فارمز کو عدالتی احکامات کے عین مطابق چھپوایا گیا ہے اور شمارکندہ گان کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ جنس کا تعین کرنے کیلئے فارم میں تین عددی آپشنز دی گئی ہیں ، پہلی آپشن مردوں کیلئے ، دوسری خواتین جبکہ تیسری آپشن اپنے آپ کو مخنث ظاہر کرنے والوں کیلئے دی گئی ہے ۔

حکومت نے گوادر میں سینما گھروں کی بحالی کا اعلان کر دیا

2-مردم شماری فارم میں ددسرے اضافی خانے میں زبان کو کثیر النسلی ملک کے بنانے میں اہم ٹول تصور کیا گیا ہے جبکہ نہ ہی گلگت بلتستان سے علاقائی زبانوں کو شامل کیا جائے گا اور نہ ہی بھارت سے بعض مسلمان تارکین وطن میں بولی جانے والی گجراتی شامل ہو گی جن کا ماننا ہے کہ شناخت کی کمی انکی مادی زبان کو گم نامی کی جانب لے جائے گی ۔

3-مردم شماری میں مذہبی اقلیتوں خصوصاُُ عیسائیوں اور ہندوﺅں کی صحیح تعداد کی معلومات بھی مل سکیں گی کیونکہ ابھی تک اس حوالے سے پاکستان میں عیسائیوں کی تعداد 20لاکھ سے 1کروڑ جبکہ ہندوﺅں کی آبادی 25لاکھ سے 45لاکھ والے اندازے متنازع اور خودساختہ ہیں ۔حالیہ مردم شماری میں شہری مذہب کے لحاظ سے مسلمان ، عیسائی ، ہندو وغیر ہ کے خانوں میں اپنا اندرا ج کرا سکیں گے جبکہ اس کے علاوہ وہ شیڈیول ذاتوں یاپسماندہ ہندو خاندانوں کا رکن بھی بن سکتے ہیں تاہم فارمز میں سکھوں ، پارسیوں یا بہائی کیلئے الگ آپشنز موجود نہیں ہیں ۔

فیس بک کوپاکستان میں بند کیا جائےکیونکہ۔۔۔ شہری عدالت میں پہنچ گئے

4-ایک خانے میں لوگوں سے پوچھا گیا ہے کہ انکے گھر میں کتنے باتھ روم ہیں ؟ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق 40فیصد لوگ کھیتوں کو بیت الخلاءکے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے خاص طورپر بچوں میں صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں ۔

5-مردم شماری میں شہریوں کیلئے پاکستانی یا غیر ملکی کے ناموں سے 2قومیتوں کی آپشن بھی رکھی گئی ہے ۔تاہم پاک فوج کی جانب سے شروع ہونے والے سروے کو ملک میں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی کی وجہ سے زیادہ بہتر بنانے کا پلان کیا جا رہا ہے ۔

بہت سے مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ افغانیوں کو مقامی افراد کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب بیرونی ممالک میں کام کرنے والے اندازاُُ60لاکھ پاکستانی بھی شمار سے محروم رہ جائیں گے ۔

مزید :

قومی -