منچھرجھیل آلودگی کیس، سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کی ٹاسک فورس کا نوٹیفیکیشن مسترد کر دیا ، اقدامات کیلئے ایک ماہ کی مہلت

منچھرجھیل آلودگی کیس، سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کی ٹاسک فورس کا نوٹیفیکیشن ...
منچھرجھیل آلودگی کیس، سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کی ٹاسک فورس کا نوٹیفیکیشن مسترد کر دیا ، اقدامات کیلئے ایک ماہ کی مہلت

  

کراچی(یو این پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے منچھر جھیل میں آلودہ پانی کی آمیزش سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت سندھ کی ٹاسک فورس کا نوٹیفیکیشن مسترد کر تے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ٹاسک فورس میں قابل اور باصلاحیت ماہرین کو شامل کیا جائے،ٹاسک فورس میں ایک ایسے شخص کو شامل کیا گیا جو پانی میں ملاوٹ کا ذمہ دار ہے ،منچھر جھیل میں آلودہ پانی کی آمیزش سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تحفظ ماحولیات سندھ کا ڈائریکٹر جنرل نااہل ترین شخص ہے ،نعیم احمد پورے سندھ اورکراچی کے کروڑوں لوگوں کاقتل کررہاہے۔سماعت شروع ہوئی تو سندھ حکومت کی جانب سے آر بی او ڈی پراجیکٹ سے متعلق وفاق اورصوبائی حکومت کی رپورٹ پیش گئی جس میں بتایا گیا کہ آر بی او ڈی پراجیکٹ وفاقی ادارے واپڈا کا منصوبہ ہے اور سندھ حکومت اس میں حصے دار ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے منچھر جھیل سے متعلق ٹاسک فورس بنالی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جس شخص نے منچھرجھیل کوتباہ کیااسے ٹاسک فورس میں شامل کردیاگیا،عدالت نے سندھ حکومت کو ٹاسک فورس میں قابل اور باصلاحیت ماہرین شامل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کا حکومت سندھ کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو وزیر اعظم اور وزیراعلی سندھ کو بلائیں گے۔

منچھر جھیل میں آلودہ پانی کی آمیزش سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وفاق اور سندھ دونوں حکومتیں کام کرنے کو تیار نہیں،سارا کام ٹھیکے پر چل رہا ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی ٹھیکے پر دے دیں۔انہوں نے کہا کہ آپ سب ٹیکس پر پل رہے ہیں۔واپڈا حکام اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے موقف اختیارکیا کہ سندھ حکومت اپنی حصے کے فنڈز دینے کو تیار نہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ ہمارا کام نہیں کہ دو حکومتوں کا تنازع حل کریں۔ آئین میں تنازع کا حل موجود ہے۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ نے عدالت کو بتایا کہ پراجیکٹ میں سندھ حکومت حصے دار ہے۔ عدالت نے آر بی او ڈی پراجیکٹ 16 سال سے مکمل نہ ہونے اورمنچھر جھیل میں گندے پانی کی آمیزش کا حل نہ نکالنے پر برہمی کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کی تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا نوٹیفکیشن مسترد کرتے ہوئے فورس میں شامل ڈائریکٹر جنرل انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی نعیم احمد بخاری کو نکالنے کا بھی حکم دے دیا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ نعیم احمد بخاری کیخلاف چارج شیٹ ہے۔ جس شخص نے منچھرجھیل کو تباہ کیا اسے ٹاسک فورس میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت میں صلاحیت نہیں، تعلقات کی بنیاد پر عہدے ملتے ہیں، ڈی جی انوائرمینٹل عوام کیٹیکس کے پیسے مفت بیٹھ کرکھا رہیہیں۔ قتل ایک آدمی کا ہوتا ہے یہ شخص پورے سندھ اور کراچی کے کروڑوں لوگوں کا قتل کر رہا ہے، ڈی جی انوائر مینٹل نااہل ترین شخص ہے حکومتی نااہلی پرصبرکا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ منصوبے میں وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان تنازعہ لگتا ہے، یہ ہمارا کام نہیں کہ دو حکومتوں کا تنازعہ حل کریں، آئین میں تنازعے کا حل موجود ہے فوجی آمروں کے دور میں من مانی ہوتی ہے جمہوری دور میں آئین کے ذریعے حل نکالا جاتا ہے یہ وفاق اور صوبے کے مابین عدم تعاون کی بدترین مثال ہے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ بااثر افراد کی جھیلوں میں گندا پانی کیوں نہیں ڈالا جاتا، ہمت ہے تو وہاں گندا پانی ڈال کر دکھائیں اگرایک ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو وزیراعظم اور وزیر اعلی سندھ کو بلائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ جس شخص نے منچھر جھیل کو تباہ کیا اسے ٹاسک فورس میں شامل کردیا گیا ۔یہ شخص پورے سندھ اور کراچی کے کروڑوں لوگوں کا قتل کررہا ہے۔ حکومتی نااہلی پر صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔سات سال سے انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کی لیبارٹری ہی بند ہے تو تنخواہ کس چیز کی لے رہے ہیں۔ابھی ان سب کی تنخواہیں بند کردیں لیبارٹری چلنے لگے گی۔سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو منچھر جھیل کو آلودہ پانی سے بچانے کے اقدامات کیلئے ایک ماہ کی حتمی مہلت دیدی جبکہ ٹاسک فورس دوبارہ تشکیل دے کر جمعرات تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے تنازعہ ختم کرنے کیلئے دونوں حکومتوں کو ایک ماہ کی حتمی مہلت دے دی۔

مزید :

کراچی -