سپریم کورٹ اور سرکاری اشتہارات کا مسئلہ

سپریم کورٹ اور سرکاری اشتہارات کا مسئلہ
سپریم کورٹ اور سرکاری اشتہارات کا مسئلہ

  

گزشتہ چند روز سے اخباری دنیا میں ایک خوف پھیلا ہوا ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر جج حضرات کا دل سے احترام کرتے ہیں اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے چاروں طرف پھیلے ہوئے سنگین مسائل کا جو نوٹس لینا شروع کیا ہے اس پر ہمارا دل بہت خوش ہے مگر بابا رحمتے کا ڈنڈا اخباری صنعت کی کمر پر بھی برسا تو بے اختیار وہ لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک زورآور پولیس والے نے کمہار کے کچے برتنوں سے لدی ہوئی پنڈ پر ایک لاٹھی مار کر پوچھا پنڈ میں کیا ہے۔

کمہار کے آدھے برتن تو لاٹھی کی پہلی ضرب سے ہی ٹوٹ گئے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھ باندھ کر کہا حضور آپ نے ایک اور لاٹھی ماری تو پنڈ میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے پہلے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گوشمالی کی کہ سرکاری خرچے پر حکمران اشتہاروں میں اپنی تصویریں کیوں چھپواتے ہیں۔

لاہور والے وزیراعلیٰ کو تو انہوں نے بذریعہ عزیزم راجہ جہانگیر سیکرٹری اطلاعات یہ حکم بھی دیا کہ ٹی وی کی ایک اشتہاری فلم پر 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں تو وزیراعلیٰ یہ رقم اپنی جیب سے ادا کریں۔ سرکاری محکمے بیچارے کس کی مانیں۔

اشتہارات پر تصویریں چھپوانے والوں سے تنخواہ ملتی ہے تو گلیوں میں ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘ والے نوازشریف کو بیک جنبش قلم بادشاہوں سے زیادہ اختیارات رکھنے والے وزیراعظم سے نااہل قرار دے کر گھر بھیجنے والے کے سامنے بیچارے سرکاری ملازم کیسے زبان کھولیں۔

اسی رواروی میں سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ اخباروں اور ٹی وی چینلز میں کام کرنے والے کارکنوں کو فوری ادائیگی کی جائے۔ ہم اخبار والے جن میں سے بعض چھوٹے اور مڈل کلاس اداروں کے کروڑوں روپے ایک ایک اشتہاری ایجنسی کی طرف واجب الادا ہیں مگر وکیل لوگوں نے بتایا بھائیو! یہ سپریم کورٹ ہے چوں و چراں کی گنجائش نہیں۔

ہمارے اکاؤنٹس والے بار بار کاغذوں کا ایک پلندہ ہمیں تھماتے رہے کہ جناب صرف سرکاری اور غیر سرکاری واجبات جو اشتہاری ایجنسیوں کے ذمے ہیں کی مالیت ساڑھے سولہ کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔

اگر کسی اشتہاری ایجنسی کی انتظامیہ نے کوئی بدعنوانی کی ہے تو بھی وہ جانے اور سرکاری محکمہ جانے۔ یہ نیب والے بھائی جان نے انہیں کان سے پکڑ کر جیل میں ڈال بھی دیا ہے تو ہمیں تو پیسے نہ ملے۔

اب نیب والے بھائی جان محترم چونکہ زیادہ فارم میں ہیں، انہوں نے سابق وزیراطلاعات شرجیل میمن کے ساتھ ہمارے مرحوم دوست اورئینٹ والے ایس ایچ ہاشمی صاحب کے فرزند ارجمند مسعود ہاشمی، ہمارے ایک اور دوست چودھری عبدالغفور مرحوم کے داماد اور ایڈ آرٹ کے روح رواں چودھری گلزار علی کے علاوہ نصف درجن اشتہاری ایجنسیوں کے بادشاہ اور ہمارے ایک اور پرانے دوست اور سینئر صحافی و ادیب غلام اکبر کے صاحبزادے انعام اکبر کو جیل بھیج دیا ہے۔

چلتے چلتے کچھ گزارشات بابا رحمتے سے بھی ہو جائیں۔ یقین جانئے ہم ان کے نیازمند ہیں، یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ محترم آپ جس طرف سے ہاتھ ڈالیں گے اندر سے یہی بو اور سرانڈ نکلے گی۔ ہم آپ سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ مقررہ دنوں کے اندر ہی ہم نے کیا اخبار اور کیا چینلز جو کارکن کام کر رہے تھے ان کی واجب الادا 2,2 ماہ کی تنخواہیں بڑی مشکل سے ادا کر دی ہیں اور یہ نسخہ ہمیں صرف سوا دو کروڑ روپے جرمانے کی شکل میں پڑا ہے۔

ہم نے تحریری رپورٹ بھی فاضل عدالت میں جمع کروا دی ہے، کچھ سابقہ کارکنوں کی طرف سے جو شکایات موصول ہوئیں ان کا اکاؤنٹس میں حساب کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ اگلے کچھ عرصے میں یہ کام بھی مکمل ہو جائے گا مگر جناب والا !چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

-1 صرف ہمارے ادارے نے سرکاری محکموں اور اداروں کے حوالے سے ساڑھے سولہ کروڑ سے اوپر واجبات اشتہاری ایجنسیوں سے لینے ہیں۔ آپ کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں مگر حضور کچھ علاج اس کا بھی ہو جائے۔

-2 جناب والا! اخباری صنعت میں کارکن صحافی کی حیثیت سے شامل ہوا آج پچاس سال گزر چکے ہیں اور جولائی 2018ء میں اکاون سال پورے ہو جائیں گے۔صابن کی جو ٹکیہ، سر پر لگایا جانے والا وہ تیل اور دانتوں کی صفائی کا جو منجن ہم بیچتے ہیں اس کی لاگت فی اخبار زیادہ ہوتی ہے اور قیمت فروخت نصف سے بھی کم ہوتی ہے۔ ساری دنیا میں یہی طریقہ رائج ہے کہ قیمت فروخت کا پچاس فیصد گھر گھر پہنچانے والا اخباری کارکن اور تقسیم کرنے والا نیوز ایجنٹ لے جاتا ہے۔ اب کاغذ کی قیمت ہو یا بجلی کا بل، طباعت کے اخراجات ہوں یا ورکروں کے معاوضے ،ان سب کے لئے جو رقم درکار ہوتی ہے وہ اشتہاروں سے آتی ہے۔ جن کے دو حصے ہوتے ہیں۔ اوّل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتہارات اور دوم پرائیویٹ یعنی نجی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات۔

-3محترم المقام پرائیویٹ اشتہارات صرف زیادہ سرکولیشن والے بڑے یا درمیانے درجے کے جرائد کو ملتے ہیں اور چھوٹے، علاقائی اخبارات پرائیویٹ اشتہارات سے یکسر محروم ہوتے ہیں اور ان بے چاروں کا دارومدار 100 فیصد سرکاری اشتہارات پر ہوتا ہے۔ یہ الگ گورکھ دھندا ہے اور بابا رحمتے کو ان سینکڑوں محاذوں سے کبھی فرصت ملے تو اس اصطبل کی صفائی بھی ہونی چاہئے مگر وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی ذاتی تشہیر کے حوالے سے آپ حضور نے کمہار کے کچے برتنوں کی پنڈ پر جو پہلی لاٹھی ماری ہے دوسری پڑ گئی تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

لہٰذا اخبار کے اشاعتی مواد کے ساتھ ساتھ سرکاری اشتہارات کے مندرجات کی خوبی اور خامی پر ضرور نظر رکھیں مگر حضور خدارا دوسری لاٹھی مارنے سے پہلے بے چارے کمہار کے حشر پر ضرور غور کر لیں۔ آپ نے جن خرابیوں کی نشاندہی کی ان کی اہمیت سرآنکھوں پر مگر حکومتوں کے سرکاری اشتہارات 4 قسم کے ہوتے ہیں۔

(الف) ٹینڈر نوٹس یعنی کام کے متعلقہ اداروں کی طرف سے تحریری پیش کش کہ وہ کام کی تفصیل جان کر کتنے بجٹ میں اسے انجام دیں گے۔

(ب) عوام کے لئے قوانین ہوں یا ضابطے یا طریقہ کار کی وضاحت تا کہ عوام کی رہنمائی ہو سکے۔

(ج) جن منصوبوں کی تکمیل ہو چکی ہوان کا اعلان اور افتتاحی تقاریب کی مشہوری۔ یہ بھی عوام کیلئے آگاہی مہم کا حصہ ہے۔

(د) عوام سے کئے جانے والے وعدے، اعلانات، رہنمائی ، قوانین اور ضابطوں کی تشریح پر مبنی اشتہارات۔

جناب ان چاروں مقاصد کے اشتہارات ضروری ہیں۔ اگر آپ ٹوتھ پیسٹ بغیر اشتہار نہیں بیچ سکتے تو ٹینڈروں سے لے کر آگاہی مہم تک ان رقوم کو فضول خرچی کیسے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

-4جناب والا! ہمارے ہاں ہر نظام میں خرابی پائی جاتی ہے۔ خرابیوں کی اصلاح ضروری ہے لیکن کمہار کے آدھے برتن توڑکر باقی آدھوں پر لاٹھی چلانے سے پہلے پوچھنا کہ بتاؤ تمہاری پنڈ کے اندر کیا ہے یہ انصاف نہیں ہوگا جناب سکھا شاہی ہو گی اور آپ جیسے فرض شناس اور قانون کی روح سے واقف منصف اعلیٰ سے ہمیں نظام کی اصلاح کی یقیناًتوقع ہے مگر جو برا بھلا ڈھانچہ کھڑا ہے اس کی کانٹ چھانٹ اور بہتری ہونی چاہئے سرے سے اس ڈھانچے کو جس میں یقیناًخرابیاں ہیں زمین بوس کرنا شاید انصاف کا منشا نہیں ہو سکتا۔

-5جناب والا اشتہارات کے سلسلے میں آپ نے ہماری موقر تنظیم آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس)کے صدر جناب سرمد علی کو 13 مارچ کی صبح طلب کیا ہے۔

اے پی این ایس کے ہم سب نمایاں اخبارات ممبر ہیں یہ مالکان اور ناشران کی ملک گیر منتخب تنظیم ہے اور میں ذاتی طور پر ان کا نہایت احترام کرتا ہوں اور خود بھی 2 سال تک اس کا سینئر نائب صدر رہ چکا ہوں۔

آج کل ایڈیٹروں کی ملک گیر تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کا دوسرے اورآخری سال کیلئے منتخب صدر ہوں۔

-6جناب والا!سرکاری اشتہارات کے بعض ریلیز آرڈرز تک واپس لے لئے گئے ہیں۔اگر یہی کیفیت رہی تو 90 دن کے اندراصولی طور پر جو ادائیگی ہوتی ہے وہ یکسر نہ ہو گی یا اس کی مقدار پہلے موجود بجٹ کے دو چار فیصد سے زیادہ نہ ہو گی۔

اس صورت میں اخبارات کی اشاعت کیسے ممکن ہو گی، شاید بعض چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کے لئے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا اور ورکروں کو تنخواہ، بجلی کا بل، نیوز پرنٹ کے اخراجات اور چھپائی کا بل تک دینا ممکن نہ ہو گا۔

اشتہارات کی زبان میں اگر کوئی ترمیم ضروری ہے تو یقیناًوہ ہونی چاہئے، ذاتی اور قومی منصوبوں کی تشہیر میں فرق بھی روا رکھنا لازم ہے مگر اس جواز میں موجودہ سرکاری محکموں میں اشتہارات کے اجراء کے ضمن میں جو خوف و ہراس پایا جاتا ہے اس کا خاتمہ فوری طور پر ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عدل و انصاف کے حقیقی تقاضوں کے مطابق فیصلے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ (بشکریہ: روزنامہ خبریں، لاہور)

مزید :

رائے -کالم -