اعتبار قائم کیجیے

اعتبار قائم کیجیے
اعتبار قائم کیجیے

  

پاکستان کا بطور ایک ریاست عالمی برادری میں جو اعتبار ہے اکثر و بیشتر میڈیا کے ذریعے اس کا پتا چلتا رہتا ہے بطور ریاست پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا (ہاتھ پھیلایا بھی) ہر موقع اور ہر فورم پر امریکہ کا ساتھ دیا۔

لیکن امریکہ نے آج تک پاکستان کو قابل اعتبار ملک نہیں سمجھا۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔ ہمارے ہمسایوں میں بھارت کی تو بات چھوڑیں وہ تو ہمارا ازلی دشمن ہے لیکن برادر اسلامی ممالک ایران اور افغانستان ہمیں اعتبار کے قابل نہیں سمجھتے ہیں، افغانستان پر جب جب افتاد پڑی ہر مشکل گھڑی میں پاکستان نے بطور ریاست اور پاکستانی عوام نے دل و جان سے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کی اور اپنے سارے وسائل افغانستان کے لیے پیش کر دیئے۔

لیکن افغانستان نے قدم قدم پر پاکستان کی مخالفت کی اور پاکستان کے دشمن بھارت کو ترجیح دی ہے۔ ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

اوسلو میں ہماری دکان تھی وہاں ایک افغانی لڑکا آیا جو کام کی تلاش میں تھا، چونکہ اس کے پاس اٹلی کے پیپرز تھے اور ناروے میں کام کی اجازت نہ تھی، اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی، ان وجوہات سے اسے کوئی بھی کام نہیں دیتا تھا۔

کسی ملازم کی ہمیں بالکل ضرورت نہیں تھی، مَیں نے معذوری ظاہر کی کہ ہمارے پاس پہلے سے کافی لوگ ہیں مزید نہیں چاہیے تو اس لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے اور کہنے لگا میں بہت مجبور ہوں کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں تو ہم نے اسے ہفتے میں تین دن کا کام دے دیا اور اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے رہے اور کئی بار کسی اور ملازم کو چھٹی کروا کر اسے زیادہ کام دیتے رہے اس نے اچھے خاصے پیسے جمع کرلیے اور بہت زیادہ خوش تھا۔ لیکن ایک دن میں نے نارویجین پارلیمنٹ کے سامنے کشمیر کی آزادی کے لیے مظاہرے کا اہتمام کر رکھا تھا اور اس افغانی لڑکے جس کا نام عبید اللہ اور عرف قاری تھا سے کہا کہ تم بھی ساتھ چلنا اور اپنے دوستوں سے بھی کہنا کہ ہمارے مظاہرے میں شرکت کریں۔ تو وہ جھٹ سے بولا کہ میں جاوں گا اگر وہاں پاکستان کا پرچم نہ ہوا۔۔۔ اگر پاکستان کا جھنڈا وہاں ہو گا تو میں نہیں جاوں گا۔ اس کا جواب سن کر میرے دماغ پر جیسے بجلی گر گئی۔

میں نے پوچھا میں کون ہوں اور کیسا انسان ہوں تو بولا انکل آپ بہت ہی اچھے انسان ہیں میں نے کہا تو کیا میں پاکستانی نہیں ہوں ؟ اس نے کہا جی آپ پاکستانی ہیں اور بہت اچھے بھی ہیں لیکن مجھے پاکستان اور پاکستانیوں سے نفرت ہے۔ اس واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ میں تب سے یہ سوچتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے ہم جن سے محبت کرتے ہیں۔

جن کی مدد کرتے ہیں وہ ہمارے دشمن کیوں بن جاتے ہیں، ہم سے نفرت کس لیے کرتے ہیں۔ میں کئی ایرانیوں سے مل چکا ہوں ان کے دلوں میں بھی پاکستان کے لیے کوئی محبت نہیں ہے۔

ہم نے نارویجین پارلیمینٹ میں خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک ممبر کو اپنا دوست بنا رکھا تھا اور وہ مختلف مواقع پر کشمیر پر منعقدہ پروگراموں میں شرکت کرتا تھا اور کشمیریوں کی حمایت بھی۔ اس نے ایک بار پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر ایک سیمینار منعقد کرانے میں بھی ہمارا ساتھ دیا اور پارلیمینٹ میں کئی بار کشمیر پر بات کی اور وزیر خارجہ سے کشمیریوں کی مشکلات پر سوال کرتا رہا۔ ایک دفعہ میں نے اسے پرائیویٹ کھانے پر بلایا جس میں راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست انجینئر پرویز بھی شامل تھے وہاں بات چیت کا محور کشمیر، پاکستان اور عالمی برادری کا کردار تھا تو اس نارویجین پارلیمنٹرین نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ تب پرویز مشرف کا دور تھا۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو اس نے جواب دیا کہ پاکستان اور پاکستان کی ایجنسیاں دوہرے معیار رکھتی ہیں۔

میں نے سوال کیا کہ کیا امریکہ سمیت دوسرے کئی ممالک کی ایجنسیاں دوہرے معیار نہیں رکھتیں اور اپنے اپنے ملکوں کے مفاد کے کے لئے کام نہیں کرتیں۔

تو وہ بولا ہاں ایسا سب کرتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ اس طریقہ سے کرتے ہیں کہ دہائیوں تک ان کے دوہرے معیار سے پردہ نہیں اٹھتا جب تک کہ وہ خود اس کا اعتراف نہ کریں۔

جبکہ پاکستانی ایک طرف ایک بات کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان کے دوہرے معیار سے پردہ اٹھ رہا ہوتا ہے اور پاکستان میں ہر سطح پر اتنا زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچی بات بھی جھوٹ ہی لگتی ہے۔

اس کی بات میں وزن تھا، ہم نے خود بھی محسوس کیا ہے کہ ریاستی سطح پر بہت ساری باتیں عوام سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں، حکومتی ترجمانوں کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

معاہدہ تاشقند ہو یا سقوط ڈھاکہ، اوجڑی کیمپ سانحہ ہو یا کارگل کی جنگ ہو یا سانحہ بہاولپور امریکی جنگ میں شمولیت ہو یا اسامہ بن لادن پر حملہ آج تک کسی حکومت نے عوام کو اعتماد میں لیا نہ سچ بتایا۔ تو پھر ریاستی اعتبار کیسے قائم ہو؟

یہاں تک تو بات تھی ریاستی اعتبار کی۔ اب ذرا پاکستانی عوام اور عام لوگوں کے اعتبار کی بات ہو جائے۔ پاکستانیوں پر دوسرے ممالک کے لوگ کیا اعتبار کریں گے یہاں کوئی ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی پر اعتماد نہیں کرتا۔

میں نے اکثر و بیشتر سمندر پار یہ بات محسوس کی ہے کہ کوئی پاکستانی کسی بھی دوسرے ملک کے باشندوں پر تو اعتبار کر لیتا ہے لیکن اپنے ہم وطنوں پر کبھی بھروسہ نہیں کرتا۔ ملک کے اندر بھی اعتبار ہے نہ اعتماد۔

دکاندار اور گاہک سے لیکر سرکاری ملازمین اور سائل تک کوئی کسی پر اعتبار نہیں کرتا۔ کسی ورکشاپ میں کوئی بندہ گاڑی کا کام کروانے جائے تو اس کو سر پر کھڑے ہو کر کام کروانا پڑتا ہے، گاڑی میں فیول ڈلواتے ہوئے بھی بعض لوگوں کی نظر ٹینکی کے سوراخ پر جمی ہوتی ہے۔

بندہ کسی سے کوئی نیکی کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے تو اس کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ اس کو ضرور کوئی مطلب ہوگا۔ جن قوموں میں اعتبار و اعتماد کا فقدان اتنا شدید ہو وہ ترقی کر سکتی ہیں نہ قوموں میں اپنا مقام حاصل کر سکتی ہیں۔

آج وطن عزیز کی جو حالت ہے اس میں بے اعتباری اور بے اعتمادی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ہر کام کے پیچھے لوگ کسی سازش کی بو سونگھتے ہیں۔

کوئی سیاستدان بدعنوانی میں پکڑا جائے یا کسی کرکٹر کو میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں دھر لیا جائے تو وہ یہی شور مچاتے ہیں کہ ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ کسی کو کسی پر اعتبار ہے نہ سچ جھوٹ کی پہچان۔ منتخب حکومت کو پتا نہیں کہ وہ کتنے عرصے کے لیے منتخب ہوئی ہے۔ یہاں پر میں کسی کی زمین پر ایک شعر عرض کرتا ہوں :

’’ آگاہ اپنے نکالے جانے سے کوئی وزیر نہیں

ووٹ پانچ سال کا لیکن پل کی خبر نہیں‘‘

شعر کی زمین سے یاد آیا کہ یہاں لوگ دوسروں کی زمینوں کو فروخت کر دیتے ہیں یا قبضے کر لیتے ہیں پچھلے دنوں میں اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے ملنے گیا اور ان سے ضلع کے اندر فلاح و بہبود پر بات چیت کی تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں آپ کو لوٹ لیں گے۔ ساتھ انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپکی کوئی زمین ہے میں نے اثبات میں سر ہلایا تو دوسرا سوال کیا کہ کاشت کون کرتا ہے میں نے بتایا کہ کسی کو کاشت کے لیے دے رکھی ہے تو ڈپٹی کمشنر صاحب جو ڈپٹی کلکٹر بھی ہیں(زمینوں کے ریکارڈز اور اس پر اتھارٹی رکھتے ہیں) نے فرمایا کہ جاکر پہلے پتا کروا لو کہ زمین آپ ہی کے نام ہے یا کاشت کار نے اپنے نام کروا لی ہوئی ہے۔

المیہ یہ نہیں کہ لوگ دوسروں کی زمینوں کو اپنے نام کروا لیتے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ ڈپٹی کلکٹر اس پر یقین رکھتے ہیں۔ اسی طرح پہلے بھی میری کئی افسران سے بات ہو چکی ہے سب ہی مایوس ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں پر کچھ بہتر نہیں ہو سکتا۔ یہی المیہ ہے کہ کسی بھی سطح پر کسی کو کوئی اعتبار نہیں ہے۔

ملک میں اعتبار کیسے قائم ہو، جس ملک میں ممبر قانون ساز گلی محلوں کے مسائل کے ٹھیکیدار بن جائیں، اعلی عہدوں پر براجمان افسران ملکی دولت لوٹنے میں دلچسپی رکھتے ہوں اور عام آدمی بات بات پر جھوٹ بولنے کا عادی ہو۔ جہاں چند ٹکوں کی خاطر ادویات تک میں ملاوٹ کر کے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا جاتا ہو۔

جہاں دوکاندار اپنا سودا بیچنے کے لیے ہر قسم کا جھوٹ بولتا ہو، جہاں لوگ اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت صرف اپنا وقتی فائدہ دیکھتے ہوں۔ چند ٹکوں کے لالچ میں ووٹ دیتے ہوں اس ملک میں اعتبار کہاں سے اور کیسے قائم ہوگا؟ آج وعدہ کریں کہ ہم خود پر اعتبار قائم کریں گے، یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم خود سچ بولنے لگ جائیں، سچ اور حق کا ساتھ دینے والے بن جائیں۔

جب ہم خود ایماندار ہوں گے تو سارا ملک ایماندار ہوگا۔ جب ہم دوسروں پر اعتماد کریں گے تو سب ہم پر اعتماد کریں گے۔ ریاست بھی اپنے عوام پر اعتماد کرے اور ان سے سچ بولا کرے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ اعتبار و اعتماد سے بڑی دولت کوئی نہیں جب آپ کسی کی چوری کرتے ہیں یا جھوٹ بولتے ہیں تو اس وقت کسی کے چند ہزار روپوں سے کسی کو زیادہ فرق نہیں پڑتا، اس بات سے ایک دوسرے پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے ایک بار اعتبار اٹھ جائے تو یہ ایسا پرندہ ہے جو دوبارہ آسانی سے واپس اپنے گھونسلے میں نہیں آتا۔

مزید :

رائے -کالم -