امریکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو تسلیم کرے

امریکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو تسلیم کرے
امریکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو تسلیم کرے

  

دنیا میں امن و امان کا قیام قانون پر عمل کرنے کے حامی اور خواہش مند حکمرانوں کی بنیادی ضرورت اور کوشش ہوتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی رہنما بھی اس مقصد کے لئے اندرون، بیرون ملک اپنی سیاسی و سفارتی سرگرمیاں بروئے کار لاتے رہتے ہیں، اگر بعض طاقتور ادارے اور ممالک اپنے بعض مخصوص مفادات کے لئے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، ہر صورت پیش رفت اور ترویج کے لئے اپنی سرگرمیاں اور مالی و مادی وسائل بروئے کار لائیں تو پُر امن ممالک کے سیاسی راہنماؤں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی اور امن کی تباہی کا سبب بننے والی سرگرمیاں روکنے کی ممکنہ کارروائیاں کرکے متعلقہ علاقوں میں حالات کو پُر امن رکھنے کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ بھارتی حکمرانوں کو بھی پاکستان کے خلاف اپنی مخالفانہ سرگرمیاں ترک کردینا ہوں گی۔

امریکہ بہادر اقوام متحدہ کا 1945ء میں اس کے قیام کے آغاز سے اس عالمی ادارے کا ایک بانی رکن ہے، اس وقت اقوام متحدہ کے اراکین کی تعداد محض 51تھی، جو بعدازاں رفتہ رفتہ بڑھ کرچند سال قبل تک 192 تک پہنچ گئی ہے۔

اس عالمی ادارے کے قیام کا ایک بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ کرکے لوگوں کو جبر کی حاکمیت اور غلامی سے نجات دلائی جائے۔ امریکہ بہادر ایک بڑی دفاعی، اقتصادی اور زیادہ شرح خواندگی کی حامل طاقت ہے۔

گزشتہ 72سال سے عالمی سطح پر اس کی برتری کا ڈنکہ بج رہا ہے۔ امریکی حکمران اپنی طاقت بڑھانے کے لئے کمزور ممالک پر اپنی عسکری قوت سے گاہے بگاہے حملہ آور ہوتے رہتے ہیں، تاکہ ان کی دنیا بھر میں دھاک بیٹھی رہے۔

امریکی حکمران اپنی اس جارحانہ کارکردگی پر فخر وناز محسوس کرتے ہوئے ایسی سرگرمیوں کے ارتکاب میں مختلف ممالک میں اضافہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

ان بڑی کارروائیوں کے دوران گزشتہ تقریباً 16سال کے عرصے میں افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کے ممالک میں لاکھوں بے قصور مسلمانوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کرنے کے علاوہ غیر ممالک میں مہاجر بن کر قیام پذیر ہونے پر مجبور کردیا گیا ہے۔

امریکی اور اتحادی افواج اپنی ان وارداتوں پر نادم اور شرمسار ہونے کی بجائے اسے اپنی کارکردگی قرار دیتی ہیں، جبکہ عالمی سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے الے ناقدین اور تبصرہ کار حضرات جب غیر جانبداری سے ان حالات کو دیکھتے ہیں، تو وہ اس وسیع پیمانے پر انسانی قتل و غارت کو کھلی جارحیت اور ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔

امریکہ بہادر نے عراق پر محض مسلمان ملک ہونے کی بنیا پر وہاں کے تیل کے قیمتی وسیع ذخائر پر قابض ہونے کی خاطر مسلح افواج سے چڑھائی کرکے وہاں کے چپے چپے پر ہوائی بمباری اور گولہ باری کرکے لاتعداد انسانوں بشمول خواتین اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

املاک مثلاً مکانات، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی مراکز پر شب و روز بمباری کرکے ان کو ملبے کے ڈھیربنادیا۔

افغانستان میں بھی کچھ ایسے ہی حالات گزشتہ 6سال سے دیکھنے میں آرہے ہیں، لیکن امریکی اتحادی افواج تاحال وہاں قیام پذیر ہیں اور وہاں سے واپس جانے کی بجائے، مختلف حیلہ بازی سے اپنا قیام طویل کرنے کی منصوبہ سازی کی جارہی ہے، تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے معاشی معاملات کو نقصان سے دو چار کیا جائے۔

امریکہ بہادر پاکستان کی ایٹمی قوت کو بھی تاحال تسلیم کرنے سے انکار کرکے اسے نقصان سے دو چار کرنا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکی اتحادی ممالک پاکستان کی ایٹمی طاقت کو تسلیم کریں۔

مزید :

رائے -کالم -