سیاست میں شائستگی لانے کی ضرورت

سیاست میں شائستگی لانے کی ضرورت

  

دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نوازشریف کی جانب جوتا پھینکنے کے واقعہ کی ملک بھر کے سیاسی و دینی رہنماؤں اور سماجی شخصیات نے مذمت کی ہے، جامعہ کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر راغب نعیمی نے اسے انتہائی غیر اخلاقی حرکت اور افسوس ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سازش میں ملوث تمام افراد اور ماسٹر مائنڈ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرکے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے، شرکا میں موجود متعلقہ نوجوان کا یہ انفرادی عمل منفی فکر کی عکاسی کرتا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور اُن کے خاندان سے ہمارے تعلقات ستر سال سے زائد عرصے پر محیط ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے تعلقات ختم ہو سکتے ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ہمیں اس واقعہ کا اتنا ہی دکھ ہوا اور اتنی ہی تکلیف پہنچی ہے جس قدر میاں نوازشریف کو، بلکہ ایک حوالے سے ہمارا دکھ اور بڑھ جاتا ہے کہ ہم میزبان تھے اور میاں صاحب مہمان۔

اس واقعہ سے ایک روز قبل سیالکوٹ میں وزیر خارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی جا چکی تھی۔ اتوار کے روز ہی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر جوتا پھینکنے کی کوشش خوش قسمتی سے کامیاب نہیں ہو سکی، پاکستان کے اندر اور باہر ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں، عالمی رہنماؤں میں سے امریکہ کے سابق صدر بش، ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے اور میاں نوازشریف کی جانب جوتا اچھالنے کا واقعہ کوئی حیران کن تو نہیں، البتہ اس قسم کے واقعے پر تشویش اس لئے بھی لازم ہے کہ اگر ہمارے سیاسی کلچر میں ایسے بدنما واقعات ہونا شروع ہو گئے تو یہ سلسلہ پھیلتا چلا جائے گا اور پھر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کہاں رکے گا اور رکے گا بھی یا نہیں کیونکہ کسی پبلک مقام پر کسی بھی سیاسی رہنما یا مذہبی شخصیت پر جوتا پھینک دینا کیا مشکل کام ہے۔

ہم نے تو ایسے مذہبی جلسے بھی دیکھے ہیں جب قابلِ احترام دینی و سیاسی رہنماؤں کی جانب گولیاں بھی چلائی گئیں، جن میں کارکن شہید بھی ہوئے، جلسوں کو درہم برہم بھی کیا گیا، جلسوں میں پانی بھی چھوڑا گیا اور کرنٹ بھی، نقلی (یا اصلی) سانپ چھوڑ کر سنسنی اور افراتفری بھی پھیلائی گئی۔ عالمی رہنماؤں کی جانب جوتے پھینکنے کا کلچر بھی کوئی نیا نہیں ہے، پاکستان کے ایک وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آ چکا ہے، جب اُنہیں حیدر آباد میں پھولوں کے ہار پہنائے جا رہے تھے تو کسی نے سٹیج پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی، اس پر مرنجاں مرنج سہروردی نے برجستہ جواب دیا کہ جو عوام پھولوں کے ہار پہناتے ہیں، انہیں جوتوں کے ہار پہنانے کا بھی حق ہے اور جب ذوالفقار علی بھٹو کی جانب ایک جلسے میں جوتا پھینکا گیا تو اُنہوں نے فوراً کہا، انہیں معلوم ہے جوتے مہنگے ہیں۔

ان رہنماؤں کے یہ تبصرے تو اپنی جگہ، ان کی حاضر جوابی کا اظہار تھے، لیکن ہمارے ہاں عدم برداشت کا جو کلچر کچھ عرصے سے پروان چڑھ رہا ہے اور سیاسی مخالفوں کے خلاف جو زبان عام جلسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں شب و روز استعمال کی جا رہی ہے، لگتا ہے وہ اب برگ و بار لا رہی ہے اور لوگ اپنے مخالف رہنماؤں کے خلاف مفروضوں اور غلط اطلاعات کی بنیاد پر قائم کئے گئے تاثر کی بنیاد پر جس طرح کا ردعمل ظاہر کرنے لگے ہیں وہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور عدم برداشت کا بھی آئینہ دار ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عام سیاسی اور دینی جلسوں کے مقررین کے خطابات زبان و بیان کے لحاظ سے اعلیٰ پائے کے ہوتے تھے۔ لوگ مقررین کی باتیں توجہ سے سنتے تھے اور سیاسی مخالفوں کے متعلق کئے جانے والے تبصروں سے بھی لطف لیتے تھے حتیٰ کہ جن کے متعلق منفی تبصرہ کیا جاتا تھا وہ بھی بدمزہ نہیں ہوتے تھے، لیکن بدقسمتی سے آج حالت یہ ہے کہ عالم دین کہلانے والے بھی پایہ ثقاہت سے گری ہوئی زبان اپنے مخالف یہاں تک کہ قابلِ احترام شخصیات کے بارے میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، وہ بڑی آسانی سے گالیوں بلکہ غلیظ گالیوں کی ذیل میں شمار کئے جا سکتے ہیں، ایسے الفاظ اگر محراب و منبر کے وارث استعمال کرنے لگیں تو پھر حیرت ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے جس کا مظاہرہ دینی علوم کی معروف درسگاہ میں طالب علم نے کیا۔

سوشل میڈیا کے عام استعمال نے مغلظات کو روزمرہ بنا دیا ہے اور جس کا جو جی چاہتا ہے وہ اس ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے جو چاہتا ہے لکھ دیتا ہے۔ ان میں فحش نگاری اور اور فحش گوئی بھی عام ہے۔ ایسے ماحول میں جس کسی نے خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی اس سے یہ تو معلوم کرنا ضروری ہے کہ اسے ایسی حرکت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ سیاسی مخالفت میں اگر ایسی حرکتیں ہونے لگیں تو پھر تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان سے کون محفوظ رہے گا؟ کیونکہ سیاست میں مخالفین تو ہر کسی کے ہوتے ہیں، کوئی سیاسی رہنما یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اُس کا کوئی مخالف نہیں، جو بہت ہر دلعزیز ہیں، اُن کے بھی لاتعداد سیاسی مخالف موجود ہیں، خواجہ محمد آصف جب سے سیاست کر رہے ہیں اُنہوں نے اپنے دوست بھی بنائے ہیں اور دشمن بھی، لوگ انہیں ووٹ دے کر منتخب بھی کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں جو لوگ الیکشن لڑتے ہیں، ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ انہیں ہروایا جائے، ان کے خلاف الزام تراشی بھی ہوتی ہے اور عدالتوں میں مقدمے بازی بھی، لیکن ایسی تمام سرگرمیوں کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ وہ اگر کسی تقریب میں خطاب کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ کوئی بے ہودہ حرکت کی جائے یا ان کے چہرے پر سیاہی پھینکی جائے۔ اب اگر خواجہ صاحب کا کوئی حامی مشتعل ہو کر ان کے کسی مخالف کے ساتھ یہی حرکت کر دے تو مخالفوں کو کیسا لگے گا؟ اچھا ہوا اُنہوں نے سیاہی پھینکنے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کر دیا لیکن یہ تو معلوم کرنا چاہئے کہ اس حرکت کے محرکات کیا تھے؟ تاکہ معاشرے میں جنم لینے والی منفی سرگرمیوں کے سدِّباب کی کوئی صورت نکل سکے۔

جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے، جن کے مدرسے میں میاں نوازشریف پر جوتا پھینکنے کا واقعہ ہوا، قدرتی طور پر ندامت اور افسوس کا اظہار کیا ہے کیونکہ شریف خاندان کے ساتھ ان کے بزرگوں کے تعلقات کا عرصہ پون صدی پر محیط ہے اور میاں نوازشریف اکثر تقریبات میں جامعہ نعیمیہ میں جاتے رہتے ہیں تاہم جو بات معلوم کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جس نوجوان نے یہ حرکت کی، اُس کے جذبات کیا تھے اور اس نے میاں نوازشریف کے متعلق جو منفی تاثر قائم کیا اس کی بنیاد کیا تھی؟ دینی مدارس کے طلبا بھی اگر اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کرنے لگیں گے جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اخلاق کے بہتر درجے پر فائز ہیں تو پھر دینی علم سے بے بہرہ لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ اس واقعہ سے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سیاست میں شائستگی لائی جائے اور جو سیاست دان مخالفین کے خلاف گمراہ کن روش اختیار کرنے پر اُدھار کھائے رہتے ہیں وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کریں ورنہ آج اگر نوازشریف کی جانب جوتا پھینکا گیا تو کل کسی اور کو اس طرح نشانہ بنانا کیا مشکل ہوگا، اس کا علاج مخالفانہ گالم گلوچ سے نہیں، شائستگی ہی سے ممکن ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -