ہدائتہ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ کی تقریب رونمائی

ہدائتہ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ کی تقریب رونمائی
ہدائتہ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ کی تقریب رونمائی

  



قرآن مجید۔۔۔کلام الہی ہے جسے اللہ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ پرنازل فرمایاہے۔قرآن کریم ایک ایسی جامع کتاب ہے، جس کے ایک ایک لفظ سے حقائق و معارف کے دریا بہہ رہے ہیں۔ ایسی کتاب کے معانی معلوم کرنا، اس سے مطالب اخذ کرنا، پھر اس کی مراد اور مقصد متعین کرنا صرف نبئاکرم ﷺکا کام ہے جو وحئالٰہی کے حامل تھے،جس طرح قرآن مجیداوراحادیث کی فضیلت ہے ایسے ہی وہ محفلیں بھی بہت بابرکت ہیں جن میں اللہ کاقرآن اوررسول ﷺ کافرمان عالی شان بیان کیاجائے۔

ایسے ہی ایک محفل کا انعقاد گذشتہ دنوں’’دارالسلام قرآن انسٹیٹیوٹ‘‘ شیخوپورہ میں کیاگیا۔’’دارالسلام ایجوکیشنل سسٹم‘‘ کے زیرانتظام ہونے والایہ بابرکت، باسعادت، باوقاراورایمان افروز پروگرام ’’دارالسلام کے منیجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکی زیرصدارت منعقدہوا،جبکہ مہمان خصوصی استاذالاساتذہ فضیلۃ الشیخ ،مترجم وشارح صحیح بخاری،مفتی حافظ عبدالستار حماد تھے۔ جمعیت مناہل الخریہ کے چیئرمین عارف جاویدمحمدی کویت سے اس بابرکت محفل میں شرکت کے لئے خصوصی طورپرتشریف لائے۔

عبدالمالک مجاہدنے جوخوبصورت تقریب سجائی اس کے دومقاصدتھے ۔۔۔ایک یہ کہ حال ہی میں شیخوپورہ میں ایک ادارہ بنام’’دارالسلام قرآن انسٹی ٹیوٹ‘‘قائم کیاگیاہے۔

یہ ادارہ حفظ وتجوید اور دینی وعصری علوم کی تعلیم وتربیت کاایک منفرد ومثالی ادارہ ہے۔۔۔اس ادارے کا افتتاح مقصود تھااوردوسرامقصددس جلدوں پر مشتمل دارالسلام کی شاہکارکتاب’’ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘ کی تقریب رونمائی تھی۔

واضح رہے کہ صحیح بخاری کے ترجمے اور شرح کی سعادت ممتاز عالم دین، محقق، مفتی اور شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد، فاضل مدینہ یونیورسٹی کوحاصل ہوئی ہے اور انہوں نے سولہ سال کی محنت شاقہ کے بعداسے پایہ تکمیل تک پہنچایاہے۔

اس بابرکت محفل کوبڑے بڑے جیدعلما ئے کرام، شیوخ الحدیث اوراساتذہ نے رونق بخشی۔ صدارتی کلمات وکلمات تشکرکافریضہ عبدالمالک مجاہدنے اداکیا۔

حافظ عبدالعظیم اسدجودارالسلام ایجوکیشنل سسٹم کے مدیر،دین کے داعی،علماء کے قدردان اورخدمت گزارہیں، ان کی محنت نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے، عکاشہ مجاہدنے تقریب کے انتظامات بطریق احسن انجام دیئے۔

حافظ عبدالعظیم اسدنے تقریب کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔قرآن مجیدکی تلاوت کی سعادت قاری عبدالسلام عزیزی، قاری ابراہیم میرمحمدی،قاری حمزہ مدنی،قاری نویدالحسن کو حاصل ہوئی۔

اس خالصتاً علمی، دینی اور روحانی تقریب میں ہرعالم دین اورشیخ الحدیث نے علم کے موتی بکھیرے،امام بخاری کی جلالت علمی اورصحیح بخاری کے مناقب وفضائل بیان کئے۔

مجلس کے مہمان خصوصی شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حمادنے صحیح بخاری کی شرح لکھے جانے کی سولہ سال کی طویل جدوجہد پرروشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ1994ء کی بات ہے میں نے عربی کی ایک چھوٹی سی کتاب کا’’آئینہ جمال نبوت‘‘کے نام سے اردومیں ترجمہ کیا۔

یہ کتاب دارالسلام نے شائع کی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ عبدالمالک مجاہدصاحب کواس میں کیا بات پسندآئی کہ انہوں نے1995ء میں مختصرصحیح بخاری کاترجمہ وفوائدلکھنے کی ذمہ داری لگادی۔اللہ کی توفیق سے میں نے اسے نبھایاہے۔

میں ایک دیہاتی آدمی ہوں اوردیہاتی باپ کابیٹاہوں، جبکہ صحیح بخاری کی شرح لکھنااسرارورموز کاایک ایسا بحر ذخارہے جس کادوسراکناراناپیدہے۔امام بخاری نے اپنی کتاب میں فقہی جواہرات اورعملی شہ پارے اس قدر بکھیردیئے ہیں کہ یہ وہی انسان نکال سکتاہے جواس سمندرمیں غوطہ زنی کرسکتاہو۔مجھ جیساکم ہمت اورکم علم آدمی اس قابل نہیں تھاکہ اسے سرانجام دے سکے۔

میں اس کے بارے میں بہت شش وپنج میں مبتلارہا۔میری ذہنی کیفیت یہ تھی جیساکہ حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، مجھے ابوبکرصدیق اور عمرفاروق رضی اللہ عنھمانے کہاتم قرآن مجیدجمع کرو،اگریہ دونوں اصحاب نبی مجھے یہ حکم دیتے کہ یہ پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ لے جاؤتومیرے لئے یہ کام آسان تھا نسبتاًقرآن مجیدجمع کرنے کے۔اسی طرح میرے لئے بھی بہت مشکل تھاکہ اتناعظیم الشان کام میں کیسے سرانجام دے سکتاہوں۔

اسی دوران ایک خواب کئی مہینوں تک میرے لئے سوہانِ روح بنا رہا، وہ یہ کہ ’’میں خود کو ایک میدان میں کھڑا دیکھتا ہوں، سر پرایک بھاری بھرکم گٹھڑی ہے، جس کا بوجھ میں شدت سے محسوس کر رہا ہوں، لیکن لڑکھڑانے کے باوجود میں نے اسے اٹھائے رکھا، بالآخر بے بس ہو کر اسے زمین پر پھینک دیا‘‘۔۔۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی، طبیعت میں بہت بوجھ تھا۔ نفس اور شیطان دونوں کی ملی بھگت سے میرے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ بھاری بھرکم گٹھڑی صحیح بخاری کے ترجمہ اور فوائد کا بوجھ ہے جو میں سرانجام نہیں دے سکوں گا۔ بہرحال میں اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ خواب شیطان کی طرف سے ایک ہتھکنڈا ہے جس کے ذریعے وہ ایک کارخیر میں رخنہ اندازی کرنا چاہتا ہے۔آخرمیں نے رسول ﷺکے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک رات اللہ کے حضور خود کو پیش کر دیا، خوب دعا کی : ’’اے میرے پروردگار! میرا سینہ کھول دے اور میرے لئے میرا کام آسان کر دے‘‘۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے میرے وساوس کو دور کر دیا اور اپنے دین حنیف کی خدمت کا کام لینے کے لئے پھر سے اسباب و وسائل پیدا فرما دیئے۔ میں نے نئے جذبے اور نئے ولولے سے صحیح بخاری پر کام کی منصوبہ بندی کی اور رات کے پچھلے حصے میں کام کرنے کا پروگرام بنایا ،کیونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر و برکت رکھی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’رات کا اٹھنا یقیناًنفس کو بہت زیر کرنے والا ہے اور دعا و ذکر کے لئے یہی وقت زیادہ موزوں ہے‘‘۔۔۔ رسول اللہﷺکی دعا بھی میرے سامنے تھی کہ ’’اے اللہ! میری امت کے لئے سحری کے وقت میں خیرو برکت رکھ دے۔

‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے درج ذیل نکات سامنے رکھ کر دوبارہ اس مبارک کام کا آغاز کر دیا: مثلاََ کتاب الوضوہے اوراس کے آگے چھوٹے چھوٹے باب ہیں۔اسی طرح بخاری شریف کے اندردیگرابواب ہیں۔میں نے تعارفی نوٹ لکھے کہ جن میں یہ بتایاگیاہے کہ ان ابواب میں امام بخاری کیاکہناچاہتے ہیں۔جواحادیث امام بخاری نے بیان کی ہیں، ان کی تعداد،آثارہرکتاب کے شروع میں دیئے ہیں۔مختلف موضوعات پربخاری شریف کے اندر98کتب ہیں۔بخاری شریف کے علاوہ کتب ستہ میں جواضافے ہیں انہیں بھی بیان کیاہے۔

(1) ہر بڑے عنوان کا مفہوم اور اس کے تحت آنے والے چھوٹے چھوٹے عنوانات کی روشنی میں اس کے مشمولات پر تعارفی نوٹ۔ (2) باب کی وضاحت، اس میں آمدہ معلق روایات کی مکمل تخریج،ترجمہ اورترجمے کے ساتھ اس باب کے ساتھ جومطابقت ہے اسے بیان کیاہے۔ (3) سلیس الفاظ میں حدیث کا اُردو ترجمہ۔ (4) دورِ حاضر کی ضروریات کے مطابق حدیث کی تشریح۔

(5) عنوان اور حدیث میں مطابقت۔ (6) حدیث کا پس منظر اور سببِ ورود۔ (7) بظاہر متعارض احادیث میں تطبیق۔ (8) دیگر روایات میں آمدہ اضافوں کی صراحت۔ (9) دیگر احادیث کی روشنی میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے موقف کی وضاحت۔ (10) امام بخاری پر اعتراضات اور منکرین حدیث کے شبہات کا ازالہ۔

حافظ عبدالستارحمادسلسلہ گفتگوجاری رکھتے ہوئے بتارہے تھے کہ اس مجوزہ نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے دن کے ہنگامہ خیز اوقات کے بجائے رات کے پچھلے پہر بیدار ہوتا، وضو کر کے پر سکون ماحول میں بیٹھ جاتا، پھر امام بخاری کے قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ حدیث پر غور کرتا، اس کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو دیکھتا، حدیث کا مفہوم متعین کرنے کے لئے حافظ ابن حجر کی تالیف ’’فتح الباری‘‘ پڑھتا، بوقت ضرورت علامہ عینی کی ’’عمدۃ القاری‘‘ کو بھی دیکھتا، اس کے علاوہ عرب شیوخ، مثلاً: شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد ناصر الدین البانی اور شیخ صالح العثیمین کی تالیفات و رسائل سے استفادہ کرتا، پھر گھنٹوں غور و فکر کرنے کے بعد حدیث کے مفہوم اور اس سے اخذ کردہ فوائد کو نوک قلم پر لاتاتاکہ امام بخاری کے موقف کی وضاحت ہوسکے۔ بہرحال جو کچھ لکھا، وہ اندھیرے میں تیر چلانے کے بجائے علی وجہ البصیرت لکھا ہے۔ بعض مسائل کے متعلق میں نے سیرحاصل بحث کی ہے جو شاید دوسری کسی کتاب میں دستیاب نہ ہو سکے۔

صحیح بخاری کی کتاب التوحید کی تشریح کے لئے شیخ عبداللہ الغنیمان کی تالیف شرح کتاب التوحید کا انتخاب کیا تاکہ توحید الاسماء والصفات کے متعلق اسلاف کا منہج نکھر کر سامنے آ جائے۔

بہرحال صحیح بخاری کا ترجمہ اور فوائد کیا ہیں؟ اس کا فیصلہ تو قارئین اسے پڑھ کر ہی کریں گے، لیکن میں نے اپنا خون جگر نچوڑ کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔

اس میں میری استعداد و لیاقت کو کوئی دخل نہیں، بلکہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔ اس کی توفیق ہی سے یہ کام کرنے کے قابل ہوا ہوں، وگرنہ میں تو سپرانداز ہو چکا تھا۔ ارشاد الٰہی ہے: ’’ہم پراور تمام لوگوں پر یہ اللہ ہی کا فضل ہے، لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر نہیں کرتے‘‘۔

امام بخاری کے قائم کردہ عنوانات کے متعلق یہ بات اہل علم کے ہاں مشہور ہے کہ ’’بخاری کی فقاہت ان کے تراجم میں ہے۔‘‘ اور یہ تراجم خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ٹھوس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تراجم پر غور و فکر کر کے کچھ اصول وضع کئے جائیں، پھر ان اصولوں کی روشنی میں پیش کردہ احادیث کا جائزہ لیا جائے اور مدارس میں ان کے مطابق صحیح بخاری کی تدریس کی جائے۔مدارس میں ایک سال میں بخاری شریف کی تدریس کی جاتی ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ اس سے بخاری شریف پڑھنے اورسمجھنے کاحق ادانہیں ہوسکتاہے۔کام ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ کام ابھی باقی ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے صحیح بخاری کوہدف تنقیدبنایاہے جن میں سرفہرست اصلاحی صاحب ہیں۔

ضروری ہے کہ اہل علم اٹھیں اوران کے اعتراضات کے جواب دیں۔دعاہے کہ اللہ ہم سے زیادہ سے زیادہ محدثین کادفاع اورحدیث کی خدمت کا کام لے لے۔حافظ عبدالستارحمادکاکہناتھا جب میں نے صحیح بخاری کے ترجمے وتوضیح کاکام شروع کیاتو اسی وقت عبدالمالک مجاہدسے کہہ دیاتھاکہ مجھے یامیرے بچوں کوکتاب کے ترجمے وتشریح کی مدمیں کسی قسم کی مالی معاونت، اعانت، معاوضہ، رائلٹی، جملہ یاجزوی حقوق نہیں چاہئیں، اگرچہ اس کام پرمیرے سولہ برس صرف ہوئے ہیں، تاہم میں نے صحیح بخاری کے ترجمہ وتشریح کاجوکام کیا صرف اللہ کی رضاکے لئے کیا ہے، میں اللہ ہی سے اجروثواب کی امید رکھتا ہوں، اللہ سے دعاگو ہوں کہ وہ اسے شرف قبولیت بخشے، میری اورمیرے اہل خانہ کی بخشش ونجات کاذریعہ بنائے۔

میں اللہ کے سامنے حاضرہوں گاتوکہہ سکوں گااے اللہ!مجھ سے تیرے دین کی خدمت کاکچھ اورکام تونہیں ہوسکاماسوائے اصح الکتب بعد کتاب اللہ البخاری کے ترجمہ وفوائد کے۔ میں اللہ سے امیدرکھتاہوں کہ یہ عمل میری بخشش ونجات کاذریعہ بنے گا۔

دارالسلام کے منیجنگ ڈائریکٹرعبدالمالک مجاہدنے اظہار تشکر کے کلمات کہتے ہوئے کہامیں اس بابرکت تقریب میں شرکت پرجہاں تمام علماء کا شکر گزارہوں، وہاں میں خصوصی طورپرشیخ الحدیث حافظ عبدالستارحمادصاحب کابھی ممنونِ احسان ہوں کہ انہوں نے میری گزارش کوشرف قبولیت بخشتے ہوئے صحیح بخاری کے ترجمے وفوائدکاتاریخی کام کیا ہے ۔

میں نے سعودی عرب میں جامعات کے شیوخ الحدیث،علما،،اساتذہ اوراپنے دوستوں کوبتایاکہ پاکستان میں الشیخ عبدالستارحمادنے سولہ برس کی محنت شاقہ کے ساتھ بخاری شریف کاترجمہ وتشریح کاکام مکمل کیاہے۔

سب دوستوں کاسوال تھاکہ الشیخ عبدالستارنے اس کام کا کیا معاوضہ لیاہے؟میں نے ان کوبتایاکہ کچھ بھی معاوضہ نہیں لیا۔سب نے بہت تعجب،حیرت اورخوشی کااظہارکیاکہ اس دورمیں بھی ایسے مخلص،ایثارپیشہ علماء موجودہیں جوکسی قسم کی دنیوی طمع ولالچ کے بغیردین کی خدمت کرتے ہیں۔

پھرسب نے ہی حافظ عبدالستارحماداوران کے اہل خانہ کی صحت وسلامتی،ایمان کی حفاظت اور درجات کی بلندی کے لئے بیشمار دعائیں کیں۔ ’’ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری‘‘کی تکمیل کی خوشی میں میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کرنا چاہتا تھا،جس میں امام مسجدنبویؐ اورعالم اسلام کے دیگرعلماء وشیوخ کومدعوکرنے کاارادہ تھا۔ انسان بہت کمزورہے، سوچتابہت کچھ ہے، لیکن بعض اوقات ارادوں کو عملی جامہ پہنا نہیں سکتا، اگرچہ ممکن ہے کہ کسی وقت ہم اس طرح کی کانفرنس کا انعقاد کریں، تاہم حافظ عبدالعظیم اسدنے ’’ہدایۃ القاری‘‘کی تکمیل کی خوشی میںآج جوتقریب سجائی اور اس میں بڑے بڑے جیداورکبائر علماء کی آمدو موجودگی کاجوگلدستہ سجایایہ میرے لئے اعزازبھی ہے اور بے حدخوشی ومسرت کاباعث بھی۔یہ اللہ کاخاص فضل وکرم ہے کہ اس نے اصحاب علم وفضل کے دلوں میں میری محبت،حافظ عبدالعظیم اسداوردارالسلام کی محبت ڈال دی ہے۔

تقریب سے عظیم مذہبی سکالر پروفیسر محمد یحییٰ، استاذالاساتذہ حافظ محمدشریف،شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیزعلوی شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بن محمد، عبدالمالک مجاہدشیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی مولاناعتیق اللہ سلفی، چودھری، یاسین ظفرمولاناالیاس اثری، پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی، پروفیسرڈاکٹرعبیدالرحمن محسن،استاذالعلماء حافظ مسعودعالم، محقق دوراں مولاناارشادالحق اثری، ڈاکٹر محمدزبیرڈائریکٹرالہدی انٹرنیشنل الشیخ عارف جاوید محمدی، حافظ اسعد محمود سلفی اور دیگر جید علماء نے بھی خطاب کیا۔علماء کاکہناتھاکہ یہ فتنے کا دور ہے، لہٰذا قرآن وحدیث کی دعوت وتعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کیاجائے۔

ہدایۃالقاری شرح صحیح بخاری اتنی عمدہ، بلندپایہ کتاب ہے کہ ہر گھر، مسجداورلائبریری میں اس کا موجودہونا ضروری ہے تاکہ روزانہ اس میں سے ایک یادواحادیث پڑھ کرسنائی جائیں،اس سے ایک توقرآن وحدیث کی تعلیمات عام ہوں گی اوردوسرایہ کہ جہالت وفتنے کاخاتمہ ہوگا۔

sobanarshad15@gmail.com

’’بخاری شریف‘‘ اسرار و رموز اور علوم کا ایسا بحر ذخار ہے، جس کا دوسرا کنارا ناپید ہے۔

’’ہدایۃ القاری‘‘میں بعض مسائل کے متعلق ایسی سیرحاصل بحث کی گئی ہے کہ جو شاید کسی دوسری کتاب میں نہ دستیاب ہوسکیں،کتاب کے ترجمے وتوضیح کاساراکام تہجدوسحری کے اوقات میں کیاگیاہے۔

مزید : رائے /کالم