کچھ سرکاری میڈیکل کالجوں کے بارے میں

کچھ سرکاری میڈیکل کالجوں کے بارے میں
کچھ سرکاری میڈیکل کالجوں کے بارے میں

  

کوئی کچھ بھی کہے مگر جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کی پروفیشنل کالجوں کو سدھارنے کی مہم قابل ستائش ہے۔

ان اداروں کے مالکان کی لوٹ مار کی کوئی حد ہی نہیں۔ جناب چیف جسٹس بھاری فیسیں وصول کرنے کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کرکے لاہور کے مضافات میں پھول نگر کے قریب دینا ناتھ گاؤں میں قائم ریڈ کریسنٹ ہسپتال اور کالج میں اچانک پہنچ گئے۔

کالج میں سب سے پہلے انہوں نے ایف آئی اے کو کالج کاتمام اکاؤنٹ ریکارڈ اپنی تحویل میں لینے کی ہدایت کی ۔ طلبا نے شکایت کی کہ انتظامیہ ان سے پہلے ہی زیادہ فیس وصول کر چکی اور مزید حاصل کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے ۔

جناب چیف جسٹس نے موقع پر وہاں کی انتظامیہ کو طلبا سے لی گئی زائد فیسیں ہفتے کے اندر واپس کرنے کے احکامات صادر کئے۔ آئندہ طے شدہ فیس لینے کی ہدایت کی ۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کی زیر تعمیر عمارت کا بھی جائزہ لیا۔مختلف وارڈز اور آپریشن تھیڑاور انتظامیہ کے دفاتر کا بھی دورہ کیا۔

آڈیٹوریم میں سٹاف سے ملاقات کے دوران اساتذہ کی تعداد پوری نہ ہونے پر انہوں نے برہمی کا اظہار بھی کیا۔انہوں نے اس دوران ایک پروفیسر کو بھی گرفتار کروا کے ایف آئی اے کے حوالے کیا۔ میرے خیال میں بہتر تو یہ تھا کہ وہ کسی ڈائریکٹر کو ایف آئی اے کے سپردکرتے۔

جناب چیف جسٹس! چند باتیں میڈیکل کالجوں اور دیگر پروفیشنل کالجوں کے حوالے سے میں بھی کرنا چاہوں گا۔ریڈ کریسنٹ ایک عالمی تنظیم کا نام ہے۔ اس تنظیم سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کالج کو یہ نام مل گیا۔

بہت سے ایسے کالج ہیں کہ لو گ کسی معروف ادارے کے نام کے ساتھ کوئی سابقہ یا لاحقہ لگا کر اس نام سے اپنا کاروبار شروع کر لیتے ہیں اور کوئی پوچھتا ہی نہیں کہ اصل ادارے کی اجازت نہ ہونے کے باوجود ایک پرائیویٹ کالج اس کا نام کیسے استعمال کر رہا ہے اور رجسٹریشن کرنے والوں نے وہ نام کیسے رجسٹر کر لیا ہے۔ رجسٹریشن والے ادارے بھی کمال ہیں وہ کسی کی پروا ہی نہیں کرتے۔یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز بغیر پی ایم ڈی سی کی منظوری اور بغیر کسی سہولت کے کلاسیں کیسے شروع کر لیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کن شرائط اور لوازمات کے ساتھ منظوری دیتی ہے حالانکہ نوے فیصد پرائیویٹ کالجوں کے پاس باقاعدہ کوئی مستند سٹاف نہیں ہوتااور رجسٹریشن کے وقت پوری سہولتیں بھی نہیں ہوتیں۔ شنید ہے کہ مختلف مما لک میں کام کرنے والے ڈاکٹر حضرات کے نام خانہ پری کے لئے ڈالے گئے ہوتے ہیں۔

اس بات سے پردہ اٹھانا بھی چائیے کہ پرائیویٹ کالجوں کا اپنا سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں اور کالجوں کے کون کون سے ڈاکٹراپنا وقت نکال کر یا اپنا کام چھوڑ پرائیویٹ ہسپتالوں میں پڑھاتے ہیں۔

جناب چیف جسٹس طلبا نے موقع پر آپ سے کہا کہ غریب طالب علموں سے زیادہ فیسیں وصول کی جا رہی ہیں۔پرائیویٹ کالجوں میں آٹھ آٹھ لاکھ سالانہ فیس دینے والا کیسے غریب ہو سکتا ہے۔

غریبوں کے بچے تو سرکاری ہسپتالوں اور کالجوں کے ممنون ہیں کہ جہاں ہر چیز پرائیویٹ سیکٹر کی نسبت بدرجہا بہتر ہے۔سالانہ فیس بھی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر اور سرکاری کالجوں کے بچوں میں واضح فرق یہ ہے کہ آٹھ لاکھ میں ڈگریاں خریدنے والے احتجاج کر سکتے ہیں۔ فیل کرنے والی انتظامیہ کو پکڑ سکتے ہیں۔

ٹیچرز سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے سکتے ہیں۔ انہیں پڑھائی سے زیادہ ڈگری سے غرض ہوتی ہے جو وہ لے لیتے ہیں اور پرائیویٹ کالجوں کی انتظامیہ جسے فقط فیس سے غرض ہوتی ہے، انہیں ڈگری فراہم کر دیتی ہے۔خصوصاً وہ میڈیکل کالجز یا یونیورسٹیاں جو ڈگری خود دینے کے مجاز ہیں۔ وہاں بگاڑ اپنے کمال پر ہے ، وہاں ڈگریاں بکتی ہیں ، تعلیم برائے نام ہوتی ہے۔

سرکاری کالج پڑھائی اور سہولتوں میں جن کا کوئی ثانی نہیں، غریب لوگوں کے بچوں کے لئے صحیح درسگاہیں ہوتے ہیں۔ان کالجوں میں بچے احتجاج نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔

وہ اساتذہ جو سرکاری ڈیوٹی چھوڑ کر یا کسی طرح وقت نکال کر پرائیویٹ سیکٹر میں بھیگی بلی کی طرح کام کرتے نظر آتے ہیں، سرکاری ڈیوٹی کے دوران غریبوں کے بچوں کے سامنے کسی اور ہی روپ میں نظر آتے ہیں۔

جائز بات بھی کوئی سننے کو تیار نہیں ہوتا۔ میں خود بھی استاد ہوں اور یہ بات کہتے اور لکھتے ہوئے مجھے تکلیف ہو رہی ہے مگر میرے نزدیک اچھا استاد وہی ہوتا ہے جو طلبا کی آسان رسائی میں ہو ۔وہ شخص جو طلبا کی آسان رسائی میں نہ ہو ، اچھا استاد نہیں ہو سکتا۔

چند دن پہلے ایک پرانے طالبعلم سے ملاقات ہوئی ۔ایم بی بی ایس کے فائنل امتحا ن کا رزلٹ لے کر آیا تھا۔میں نے کارڈ پر نظر ڈالی۔ سب مضامین میں پاس تھا۔ میں مبارکباد دینے لگا تو اچانک کارڈ کے نچلے حصے پر نظر پڑی کہ سارے مضامین میں پاس ہونے کے باوجود وہ فیل تھا۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا یہ کیا۔ پتہ چلا کہ تمام تر محنت کے باوجود ان طالب علموں کی کامیابی ان کے پروفیسر کی خاص نظر کرم کی محتاج ہوتی ہے۔وہ جس مضمون میں فیل کیا گیا۔

اس کے دو حصے ہیں ۔ تھیوری اور پریکٹیکل۔ دونوں پیپر سو سو نمبر کے ہیں اور دونوں میں علیحدہ علیحدہ پاس ہونا ہوتا ہے۔ تھیوری میں اس بچے کے بیاسی (82) نمبر اور پریکٹیکل میں ستاسٹھ(67) نمبر تھے۔پچاس نمبر والا پاس ہوتا ہے اس لئے اصولی طور پر وہ دونوں میں پاس تھا۔

مگر صرف ہیلتھ یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اتنے نمبر لے کر بھی بچہ فیل تھا۔ ہیلتھ یونیورسٹی نے پریکٹیکل کے امتحان کو دو حصوں میں بانٹا ہوا ہے۔ پچاس (50) نمبر خارجی (External) ممتحن کے اور کلینیکل پیپر کے نام پر پچاس(50) نمبر داخلی (Internal) ممتحن کے ہوتے ہیں۔ ہر جگہ ماسوائے ہیلتھ یونیورسٹی کے جو شخص ملا کر پچاس(50) نمبر حاصل کرلے، وہ پاس ہوتا ہے مگر یہاں دونوں حصوں میں پچیس (25) نمبر لینا ضروری ہے۔

اس بچے کو چوالیس(44) نمبر خارجی ممتحن اور فقط تےئس(23) نمبر داخلی ممتحن نے دئیے۔ اس طرح وہ فقط دو(2) نمبروں سے اپنے ہی محترم استاد کے دست شفقت کا شکار ہو چکا ہے۔پتہ نہیں اس کے اپنے ہی استاد نے اس سے کس چیز کا بدلہ لیا ہے۔

ہیلتھ یونیوسٹی کے علاوہ کسی دوسرے میڈیکل کالج میں ایسا اصول نہیں کہ داخلی (Internal) ممتحن اپنے ہی بچوں کوفیل کرے۔ پرائیویٹ کالجز تو PMDC کے بہت سے رولز کی بھی پروا نہیں کرتے،وہاں ایک بچہ بھی فیل ہو جائے تو ان کا اگلے سال کا داخلہ کم ہوتا ہے۔اس لئے پرائیویٹ کالجوں کے مالکان ایسی کسی غلطی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

FCPS جو ڈاکٹروں کی سپیشلائیزیشن کی ڈگری ہے اس کے امتحان میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں کل پچاس نمبر لینے ہیں، اگر حاصل ہوگئے تو آپ پاس ہیں، کسی ایک پیپر کو بھی غیر ضروری دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا۔ مگر ان چند سرکاری میڈیکل کالجوں کے اساتذہ نے آمرانہ انداز میں بچوں کے قتل عام کے لئے جان بوجھ کر ایسا طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔

دنیا بھر میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسی طالبعلم کے فیل ہونے کا مطلب استاد کا اپنا فیل ہو نا ہے۔ مگر شاید یہ استاد ، استاد کی حقیقی شفقت سے ناآشنا ہیں۔ اس سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔

اس سال بھی سو کے قریب طالب علم اس غلط سسٹم کا شکار ہوئے ہیں اور ان کی جائز بات اور مطالبے پر کوئی غور کرنے کو تیار نہیں۔جناب چیف جسٹس آپ کی نظر کرم ان حقیقی غریب اور سفید پوش خاندانوں کے بچوں پر بھی ہو جائے ۔

آپ صرف یونیورسٹی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لیں تو امید ہے مسئلہ فوری حل ہوجائے گااور بہت سے لوگ آ پ کے لئے مزید دعاگو ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم -